- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- حدیث نمبر 68
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ لَا یُسْأَلُ الرَّجُلُ فِیْمَ ضَرَبَ اِمْرَأَتَہ۔‘‘(ابو داؤد ، کتاب النکاح ، باب فی ضرب النساء ، ۲/۳۵۷،حدیث:۲۱۴۷)
عن عمررضی اللہ عنہ،عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’ لا یسال الرجل فیم ضرب امراتہ۔‘‘(ابو داود ، کتاب النکاح ، باب فی ضرب النساء ، ۲/۳۵۷،حدیث:۲۱۴۷)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کسی آدمی سے اپنی عورت کو مارنے کے متعلق سوال نہ ہو گا۔
شرح حدیث
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : یعنی اگر وہ گناہوں سے نہ بچے یا نافرمانی کرے اور شوہر اُسے مارے تو اس مارنے پر شوہر سے سوال نہیں کیاجائیگا ۔اللہ عزَّوَجَلَّکے اس فرمان کی وجہ سے :وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-(پ۵،النساء :۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہوتو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو
ہاں جب وہ نافرمانی سے باز آکر تائب ہوجائے تو پھر اس پر سختی کرنا ممنوع ہے ۔فرمانِ خدا وندی ہے :فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا(۳۴)(پ۵، النساء :۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان :پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو
یعنی ڈانٹ ڈپٹ کرنا چھوڑ دو ،ان سے رجوع کرو اور جو انہوں نے کہا یا کیا اسے اس طرح بھول جاؤ گویا انہوں نے یہ کام کیا ہی نہ ہو ۔
(شرح الطیبی، کتاب النکاح ، باب عشرۃ النساء وما لکل واحدۃ من الحقوق ، ۶/۳۵۵۔۳۵۶، تحت الحدیث:۳۲۶۸)
علامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی’’دلیل الفالِحین شرحِ ریاض الصالحین‘‘ میں حدیثِ مذکورِ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یعنی شوہر کااپنی بیوی کو مارناکسی بھی سبب سے ہواس سے سوال نہ کیا جائے کہ تونے کس سبب سے مارا؟ بلکہ اس کا معاملہاللہ عزَّوَجَلَّکے سپرد کر دیا جائے گا ، کیونکہ ممکن ہے کہ کسی ایسی بات پرمارا ہو جس کا تذکرہ خلافِ حیا ہوجیساکہ بلاوجہ مرد کو صحبت سے منع کرنا وغیرہ ۔ہاں ! اگر معاملہ ایساہو جس پر شرعی احکام جاری ہونا ضروری ہوں یا معاملہ حکام کے پاس پہنچ جائے تو پھر مارنے کی وجہ پوچھی جائے گی۔(دلیل الفالحین، باب فی المراقبۃ، ۱/۲۵۰)
’’مراٰۃ المناجیح ‘‘میں ہے کہ( شوہر سے بیوی کو مارنے پر مواخذہ نہ ہوگا) بشرطیکہ خاوند مار کی شرائط و حدود کا لحاظ رکھے بلا قصور نہ مارے، ضرورت سے زیادہ نہ مارے، عداوت( دشمنی) سے نہ مارے ،اصلاح کے لئے مارے تو خاوند پر اس مار کی پکڑ نہ ہوگی، کیونکہ اس کی اجازت قراٰن کریم نے دی، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے :
’’وَاضْرِ بُو ھُنَّ‘‘(یعنی انہیں مارو) مگر ساتھ میں قید لگاتا ہے:فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلاً۔ترجمۂ کنز الایمان : پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو (پ۵،النساء :۳۴)
خیال رہے کہ باپ اولاد کو بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو نبی امتی کو استاد شاگرد کو پیر مرید کو اصلاح کے لیے مارسکتا ہے اگر غلطی سے بھی سزا دیں تب بھی بڑے پر قصاص نہیں۔ (مراۃ المناجیح ، ۵ / ۱۰۳)
اس آیت کے تحت صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیتفسیر ’’خزائِنُ العِرفان‘‘میں فرماتے ہیں : اور تم گناہ کرتے ہو پھر بھی وہ تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیرِدست عورتیں اگر قصور کرنے کے بعد معافی چاہیں تو تمہیں بطریق اولیٰ معاف کرنا چاہیے اوراللہکی قدرت و برتری کا لحاظ رکھ کر ظلم سے مُجْتََنِب (بچے ) رہنا چاہیے۔(پ۵،النساء تحت الایۃ:۳۴)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیرنعیمی میں فرماتے ہیں :’’ نافرمانی پر بیوی کو خاوند مار سکتا ہے مگر اصلاح کی مار مارے نہ کہ اِیذاء کی مار، جیسے شاگرد کو استادیااولاد کو ماں باپ مارتے ہیں اصلاح کے لئے۔ بلا قصور بیوی کو مارناسخت ممنوع ہے جس کی پکڑرب کے ہاں ضرورہو گی۔(تفسیرنعیمی پ۵، نساء تحت الایۃ:۳۴، ۵/ ۶۱ )
تفسیر ’’روح المعانِی‘‘میں ہے کہ چار قصورپر خاوند بیوی کو مار سکتا ہے:(1)خاوند عورت کی زینت چاہے وہ نہ کر ے۔(2)خاوند اسے اپنے پاس بلائے وہ بلا وجہ نہ آئے۔(3)عورت نماز وغیرہ بلا عذر ترک کرے ( یعنی شریعت کی نافرمانی کرے) (4) خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر پھرے۔ (روح المعانی، پ۵، النساء تحت الایۃ:۳۴، ۵/۳۵)مار کیسی ہونی چاہیے ؟تفسیر دُرِّ منثور میں ہے: مار نے سے مراد ایسی مار ہے جو شدید نہ ہو یعنی جس سے نشان نہ پڑے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عطاءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :میں نے حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے پوچھا کہ غیرِ شدید مار کیسی ہوتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مسواک سے۔ (د ر منثور، پ۵، النسا ، تحت الایۃ:۳۴، ۲/۵۲۲)
تفسیر قرطبی میں ہے : مار سے مراد ایسی مار ہے جس سے نشان نہ پڑے نہ ہڈی ٹوٹے نہ زخم آئے، کیونکہ مارنے کا مقصد اس(عورت) کی اصلاح کرنا ہے نہ کہ کچھ اور۔(قرطبی، پ۵، النساء ، تحت الایۃ:۳۴، ۳/۱۲۱)ٹیڑھی پسلی کی پیداوارمَرد کو چاہئے کہ اپنی زَوجہ کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرے اور اُس کو حکمتِ عملی کے ساتھ چلائے چنانچہ میٹھے میٹھے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حکمت نشان ہے:’’بیشک عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے تمھارے لئے کسی طرح سیدھی نہیں ہوسکتی اگر تم اس سے نَفْع چاہتے ہوتو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نَفْع حاصِل کرسکتے ہو اور اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ ڈالو گے اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے‘‘۔(مسلم، کتاب الرضاع ، باب الوصیۃبالنساء ، ص۷۷۵، حدیث:۱۴۶۸)زوجہ کے ساتھ نرمی کی فضیلتمعلوم ہوا کچھ نہ کچھ خلافِ مزاج حرکتیں اس سے سرزد ہوتی ہی رہیں گی۔مَرد کو چاہئے کہصَبْر کرتا رہے ۔
نبیوں کے سروَر،حُسنِ اَخلاق کے پیکرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ روح پَرْوَر ہے:کامِل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عُمدہ اَخلاق والا اور اپنی زَوجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نَرم طبیعت ہو۔( ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی ا ستکمال الایمان۔۔۔الخ۴/۲۷۸حدیث:۲۶۲۱)شوہر کے حُقُوقبیوی کو چاہئے کہ اپنے شوہر کیساتھ نیک سُلوک کرے۔ چُنانچِہ میٹھے میٹھے آقا ،مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ نصیحت آموز ہے،’’قسم ہے اُس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زَخْم ہوں جن سے پِیپ اور کَچ لَہُو(یعنی پیپ مِلا خون) بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حقِّ شوہر ادا نہ کیا۔‘‘ (مسند امام احمد، ۴/۳۱۸ حدیث:۱۲۶۱۴)ظالم شو ہر کا بھی گھر نہ چھوڑ ےبا ت بات پر رُوٹھ کر مَیکے چلی جانے والی عورَت اِس حدیثِ پاک کو بار بار اپنے کا نوں پر دوہرائے اور دل کی گہرائیوں میں اُتارے ،سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی اُس کے گھر سے نہ جائے اگر ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے یاواپس لوٹ نہ آئے ،اللہ عزَّوَجَلَّاور فِرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔عرض کی گئی:اگرچِہ شوہر ظالِم ہو؟ فرمایا:اگر چِہ ظالم ہو ۔(کنزالعمال، کتاب النکاح،الفصل الاول فی حق الزوج علی المراۃ، ۱۶/۱۴۴،حدیث:۴۴۸۰۱)اکثر عورَتیں جہنّمی ہونے کا سبببعض عورتیں اپنے شوہروں کی سخْت نافرمانیاں اور نا شُکریاں کرتی ہیں اور ذرا کوئی بات بُری لگ جائے تو پچھلے تمام اِحسانات بُھلا کر کَوسْنا شروع کردیتی ہیں۔ جو عورتیں بات بات پر لعنت ملامت کرتی اور پِھٹکار برساتی رہتی ہیں ان کو ڈَرجانا چاہیے کہ سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں سے فرمایا :اےعورَتو!صَدَقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنَّمی دیکھا ہے۔ خواتین نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس سبب سے ؟ فرمایا:’’اس لئے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اوراپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘ ( بخاری، کتاب الحیض ،باب ترک الحائض، ۱/۱۲۳حدیث:۳۰۴)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’حُسَیْن‘‘ کے 4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اوراسکی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول
(1) شوہر کا مرتبہ ومقا م بہت بلند ہے بیوی کے لئے اس کی خدمت میں عظمت ہے ۔
(2)نافرمان بیوی سےاللہ عزَّوَجَلَّناراض ہوتا ہے شوہر کی ناراضگی کے ساتھ رضائے الٰہی نہیں مل سکتی۔
(3) شوہر چاہے ظلم ہی کیوں نہ کرے لیکن بیوی کو صبر سے کام لینا چاہیے کہ اس صبر پر دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
(4) شوہر کو بھی چاہیے کہ شریعت مطہرہ نے بیوی کے جو حقوق اس پر لازم کئے ہیں ان میں ہرگز ہرگز کوتا ہی نہ کرے پیار ومحبت سے رہے ،نرمی اختیار کرے ،اس کی جائز خواہشات کا احترام کرے ،اس کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرے۔ ہاں جہاں شریعت کی نافرمانی دیکھے وہاں جائز سختی کرے ۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں لوگوں کے حقوق اد اکرنے کی توفیق عطا فرمائے!ہمیں قلبِ سلیم اور دونوں جہاں میں اپنی دائمی رضا سے مالامال فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 68