Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 222

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ.( )

عن ابی موسی رضی اللہ تعالی عنہ عن النبى صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قال:المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا ثم شبك بين اصابعه.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا۔

شرح حدیث

معاونت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : “ علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے فرمایا کہ اِس حدیث پاک میں جو مثال پیش کی گئی ہے اُس سے ایک مؤمن کو

دوسرے مؤمن کی مدد ونصرت پر اُبھاراگیاہےاور یہ کام یعنی ایک دوسرے کی مدد کرنا ایک پختہ اور ضروری امر ہےکیونکہ عمارت اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی اور نہ ہی اُس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے جب تک اُس کے بعض حصے دوسرے حصوں کو مضبوطی سے تھام نہ لیں اور انہیں تقویت نہ دیں۔ اگر ایسا نہ ہوتو عمارت کے مختلف حصے جدا جدا ہوجائیں گے اور عمارت خراب ہوجائے گی۔ مؤمن کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد ونصرت اور تقویت کے بغیر کوئی بھی دِینی ودُنیوی کام نہیں کرسکتا ، اگر اسے اپنے بھائی کی مددونصرت حاصل نہ ہو تو وہ کوئی بھی اچھا کام کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اپنے مخالف کا سامنا کرسکتا ہے اور ایسی صورت میں دِین ودُنیا کا نظام کبھی مکمل نہیں ہوگااور وہ مؤمن ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائے گا۔ ‘‘( )
مسلمانوں میں بعض کے بعض پر حقوق:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی مؤمنوں کے دنیاوی اور دینی کام ایک دوسرے سے مل جل کر مکمل ہوتے ہیں جیسے مکان کی دیوار ایک دوسرے سے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے)ایک ہاتھ شریف کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل کردیں یعنی گتھا دیں یہ سمجھانے کے لیے کہ جیسے یہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوگئیں ، ایسے ہی مسلمان ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں کہ یہ کبھی بے تعلق نہیں ہو سکتے۔ گتھانے والے یا تو راوی حدیث حضرت سیدنا ابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں یا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ہیں۔ یہ مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مسلمانوں کے بعض کے بعض پر حقوق ہیں۔ ‘‘( )حقیقی قوی کون ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی قوی وہ ہے جو کسی ضعیف کو سہارااور اُسے تقویت دےتو حدیث پاک کا ماحصل یہ ہوا کہ مؤمن اپنے بھائی کی معاونت سے

ہی مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے جیسے عمارت کے بعض حصے دوسرے حصوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ‘‘( )
گناہ والے کاموں میں تعاون کی ممانعت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں ایک مؤمن کو دوسرے مؤمن کی مدد ونصرت پر اُبھارا گیا ہے لیکن اِس مدد ونصرت کا نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہونا شرط ہے کیونکہ برائی اور گناہ والے کاموں پر مدد کرنے سے خود ربّ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ، چنانچہ اِرشاد ہوتا ہے :وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-(پ۶ ، المائدۃ : ۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اورنیکی اورپرہیزگاری پرایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’تمام مسلمان عمارت کی طرح ہیں جو باہم ایک دوسرے سے تقویت پاتے ہیں ۔ البتہ اگر یہ تعاون و مدد حرام ومکروہ کاموں میں ہو توگناہ کا باعث بن جائے گا۔ ‘‘( ) علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کے حقوق کی تعظیم کا ذکر ہےاور اُس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے ، نرمی کرنے اور مشکل میں مدد کرنے پر اُبھارا گیا ہے جبکہ وہ کام(جن میں مدد کی جارہی ہے) گناہ والے نہ ہوں۔ ‘‘( )
انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی پیروی :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذی الْجَلَالفرماتے ہیں : اس حدیث کی رُو سے مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ دُنیاوی کاموں میں تعاوُن کرنا مستحب ہےاور یہ اچھے اَخلاق میں سے ہےجیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس وقت تک بندے کی مدد فرماتاہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہتاہے۔ ‘‘لہٰذا مؤمنین کو چاہیے کہ اپنے انبیاء عَلَیْھِمُ السَّلَام کے آداب پر عمل کریں اور شفقت ونصیحت

جیسے وہ اَوصاف جن سے مومنین کو موصوف کیا گیاہے اِن میں اُن کی اقتدا ءکریں۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’حدیث‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)تمام مؤمنین آپس میں دینی رشتے کے سبب ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہیں۔
(2)نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور برائی وگناہ والے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
(3)اسلام ایک عمارت کی طرح ہے اور تمام مؤمنین اس کی اینٹیں ہیں ، جس طرح عمارت کی اینٹیں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں اسی طرح تمام مسلمان ایک دوسرے کی مدد کرکے اس اسلامی عمارت کو مضبوط کرتے اور اسے تقویت دیتے ہیں۔
(4)حقیقی مددگار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اوراس کی عطا سے اس کے بندے بھی معاون و مددگار ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی باہم مددونصرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 222