Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 226

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : قَدِمَ نَاسٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : اَتُقَبِّلُوْنَ صِبْيَانَكُمْ؟ فَقَالَ : نَعَمْ! قَالُوْا : لَكِنَّا وَاللهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَوْاَمْلِكُ اِنْ كَانَ اللهُ نَزَعَ مِنْ قُلُوْبِكُمُ الرَّحْمَةَ؟( )

عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت : قدم ناس من الاعراب على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا : اتقبلون صبيانكم؟ فقال : نعم! قالوا : لكنا والله ما نقبل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اواملك ان كان الله نزع من قلوبكم الرحمة؟( )

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ کچھ دیہاتی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئےاور کہنے لگے : ’’کیا آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جی ہاں۔ ‘‘ وہ کہنے لگے : ’’لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہم تونہیں چومتے۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنےتمہارے دلوں سے رحمت نکال دی ہے تومیں کیاکرسکتاہوں۔ ‘‘

شرح حدیث

رحم صرف ربّ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے:شاہ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں بے رحمی پر زجر

ہےاوراس طرف اشارہ ہےکہ جس دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ رحم پیدانہ فرمائےتوکوئی دوسرایہ چیزوہاں پیدانہیں کرسکتا۔ ‘‘ ( ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کامعنی یہ ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے تومیں تیرے دل میں رحمت لانے پر قادرنہیں ہوں۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’تم لوگوں کا اپنے بچوں کو نہ چومنااس لیے ہے کہ رب تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحم وکرم نکال دیا ہے جن کے دلوں سےاللہ رحم نکال دے اس کے دل ہم رحمت و کرم کس طرح ڈالیں ہم تو اللہ کی رحمتوں کا دروازہ ہیں۔ ‘‘( )
چھوٹے بچوں کوخوش رکھنے کی فضیلت:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے “ الفرح “ کہا جاتاہے ، اس میں وہی لوگ داخل ہوں گےجوبچوں کو خوش کرتے ہیں۔ “ ( )
رسولُ اللہ
کی شہزادہ حسن پر شفقت :حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک بارسرکارِدوعالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دِن کے وقت بنی قینقاع کے بازار سے واپس لوٹنے کے بعد اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزھراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر کے صحن میں تشریف فرما ہوگئےاورشہزادہ حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ سیدتنا فاطمۃ الزھراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں تھوڑی دیرروکے رکھا۔ میں سمجھا شاید انہیں ہارپہنارہی ہیں یانہلا رہی ہیں ۔ اتنے میں وہ دوڑتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں گلے لگالیا اور اُن کو چوما ، پھر بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض گزار

ہوئے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ تواِس سے محبت فرما اور جو اِس سے محبت کرے تو اُس سے بھی محبت فرما۔ ‘‘( )
رسولُ اللہ
کی حسنین کریمین پر شفقت :حضرت سیِّدُنا ابوبریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک بار خطبہ اِرشادفرمارہےتھےکہ اتنےمیں حضرت سیدنا حسن اورحضرت سیدنا حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما آئے جن پر دو سُرخ (دھاری دار)قمیصیں تھیں۔ وہ چلتے تھے اور گرتے تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھا تو منبر سے نیچے تشریف لائے پھر اُن دونوں کو اُٹھا کراپنے سامنے بٹھالیا۔ ‘‘( )بزرگوں کے ہاتھ پاؤں یا سرچومنا جائز ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ جس طرح اپنے چھوٹے مدنی منوں یا منیوں کو شفقت ومحبت سے چومنا جائز ہے ویسے ہی بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں یا سر وغیرہ چومنا بھی جائز ہے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘صفحہ ۳۶۶پر ہے : ’’حضرت ابورجاء عمران عطاردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے دیکھاکہ ایک جگہ کافی لو گ اکٹھے ہیں اور ان میں سےایک شخص کسی دوسرے کا سر چوم رہا ہےاور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہاہے کہ’’میں تم پر فدا ہوں ، اگر تم نہ ہوتے تو ہم تباہ ہوجاتے۔ ‘‘میں نے کسی سےپوچھا : ’’یہ دونوں کون ہیں؟‘‘بتایا گیا : ’’یہ سرچومنے والے حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جن کا سرچوم رہے ہیں وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، کیونکہ انہوں نے زکوٰۃنہ دینے والوں سے جہاد کیا اور اب وہ مانعین زکوٰۃ ذلیل ہو کر خود ان کی بارگاہ میں زکوٰۃ لائے ہیں۔ ‘‘( )
تم ذمہ داری کے قابل نہیں ہو:امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود بھی نہایت شفیق تھے اور آپ کی یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ جسے بھی حاکم مقرر کریں وہ انتہائی شفیق و مہربان ہو۔ دراصل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ مدنی سوچ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور امت مسلمہ پر شفقت ومحبت پر دلالت کرتی ہے۔ جس شخص میں اپنی رعایا یا ماتحت افراد پر شفقت ومحبت کرنے کا ذہن نہیں وہ آپ کے نزدیک کوئی عہدہ دیے جانے کےقابل نہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان نہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قبیلہ بنو اُسد کے ایک شخص کو حاکم بنایا۔ وہ عہدہ لینے کے لیے بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہواتو دیکھا کہ آپ کا ایک چھوٹا مدنی منا بھی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ اُسے فرط محبت سے چوم رہے ہیں۔ اُس نے تعجب سے کہا : ’’حضور! کیا آپ اس بچے کو چوم رہے ہیں؟میں نے کبھی اپنی اولاد کو محبت سے نہیں چوما۔ ‘‘یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سخت ناپسندیدگی کا اِظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تم تو لوگوں پر بہت کم رحم کرنے والے ہو ، تم اِس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی ذمہ داری دی جائے لاؤ ہمارا وہ منصب جو ہم نے تمہیں دیا ہے ، آج کے بعد تم کبھی بھی ہمارا کوئی حکومتی کام نہیں کرو گے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بچوں پر شفقت ومحبت کرنا اور انہیں شفقت سے چومنا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
(2) شفقت ومحبت اور رحم دلی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
(3) جنت میں ایک گھر ہےاس سے وہی لوگ داخل ہوں گےجوبچوں کو خوش کرتے ہیں۔
(4) بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں اور سروغیرہ چومنا بھی بالکل جائز ہے۔

(5) ہمارے اَسلاف ایسے شخص کو کوئی عُہدہ نہ دیا کرتے تھے جس کے دل میں شفقت ومحبت نہ ہوتی کیونکہ ایسا شخص مخلوق پر کیسے رحم کرے گا ؟جب اُس کے اپنے دل میں ہی رحم نہیں ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں چھوٹے بچوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 226