- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 226
حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 226
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : قَدِمَ نَاسٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : اَتُقَبِّلُوْنَ صِبْيَانَكُمْ؟ فَقَالَ : نَعَمْ! قَالُوْا : لَكِنَّا وَاللهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَوْاَمْلِكُ اِنْ كَانَ اللهُ نَزَعَ مِنْ قُلُوْبِكُمُ الرَّحْمَةَ؟( )
عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت : قدم ناس من الاعراب على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا : اتقبلون صبيانكم؟ فقال : نعم! قالوا : لكنا والله ما نقبل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اواملك ان كان الله نزع من قلوبكم الرحمة؟( )
حدیث ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ کچھ دیہاتی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئےاور کہنے لگے : ’’کیا آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جی ہاں۔ ‘‘ وہ کہنے لگے : ’’لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہم تونہیں چومتے۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنےتمہارے دلوں سے رحمت نکال دی ہے تومیں کیاکرسکتاہوں۔ ‘‘
شرح حدیث
رحم صرف ربّ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے:شاہ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں بے رحمی پر زجر
ہےاوراس طرف اشارہ ہےکہ جس دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ رحم پیدانہ فرمائےتوکوئی دوسرایہ چیزوہاں پیدانہیں کرسکتا۔ ‘‘ ( ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کامعنی یہ ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے تومیں تیرے دل میں رحمت لانے پر قادرنہیں ہوں۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’تم لوگوں کا اپنے بچوں کو نہ چومنااس لیے ہے کہ رب تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحم وکرم نکال دیا ہے جن کے دلوں سےاللہ رحم نکال دے اس کے دل ہم رحمت و کرم کس طرح ڈالیں ہم تو اللہ کی رحمتوں کا دروازہ ہیں۔ ‘‘( )چھوٹے بچوں کوخوش رکھنے کی فضیلت:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے “ الفرح “ کہا جاتاہے ، اس میں وہی لوگ داخل ہوں گےجوبچوں کو خوش کرتے ہیں۔ “ ( )
رسولُ اللہکی شہزادہ حسن پر شفقت :حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک بارسرکارِدوعالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دِن کے وقت بنی قینقاع کے بازار سے واپس لوٹنے کے بعد اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزھراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر کے صحن میں تشریف فرما ہوگئےاورشہزادہ حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ سیدتنا فاطمۃ الزھراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں تھوڑی دیرروکے رکھا۔ میں سمجھا شاید انہیں ہارپہنارہی ہیں یانہلا رہی ہیں ۔ اتنے میں وہ دوڑتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں گلے لگالیا اور اُن کو چوما ، پھر بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض گزار
ہوئے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ تواِس سے محبت فرما اور جو اِس سے محبت کرے تو اُس سے بھی محبت فرما۔ ‘‘( )
رسولُ اللہکی حسنین کریمین پر شفقت :حضرت سیِّدُنا ابوبریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک بار خطبہ اِرشادفرمارہےتھےکہ اتنےمیں حضرت سیدنا حسن اورحضرت سیدنا حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما آئے جن پر دو سُرخ (دھاری دار)قمیصیں تھیں۔ وہ چلتے تھے اور گرتے تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھا تو منبر سے نیچے تشریف لائے پھر اُن دونوں کو اُٹھا کراپنے سامنے بٹھالیا۔ ‘‘( )بزرگوں کے ہاتھ پاؤں یا سرچومنا جائز ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ جس طرح اپنے چھوٹے مدنی منوں یا منیوں کو شفقت ومحبت سے چومنا جائز ہے ویسے ہی بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں یا سر وغیرہ چومنا بھی جائز ہے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘صفحہ ۳۶۶پر ہے : ’’حضرت ابورجاء عمران عطاردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے دیکھاکہ ایک جگہ کافی لو گ اکٹھے ہیں اور ان میں سےایک شخص کسی دوسرے کا سر چوم رہا ہےاور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہاہے کہ’’میں تم پر فدا ہوں ، اگر تم نہ ہوتے تو ہم تباہ ہوجاتے۔ ‘‘میں نے کسی سےپوچھا : ’’یہ دونوں کون ہیں؟‘‘بتایا گیا : ’’یہ سرچومنے والے حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جن کا سرچوم رہے ہیں وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، کیونکہ انہوں نے زکوٰۃنہ دینے والوں سے جہاد کیا اور اب وہ مانعین زکوٰۃ ذلیل ہو کر خود ان کی بارگاہ میں زکوٰۃ لائے ہیں۔ ‘‘( )
تم ذمہ داری کے قابل نہیں ہو:امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود بھی نہایت شفیق تھے اور آپ کی یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ جسے بھی حاکم مقرر کریں وہ انتہائی شفیق و مہربان ہو۔ دراصل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ مدنی سوچ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور امت مسلمہ پر شفقت ومحبت پر دلالت کرتی ہے۔ جس شخص میں اپنی رعایا یا ماتحت افراد پر شفقت ومحبت کرنے کا ذہن نہیں وہ آپ کے نزدیک کوئی عہدہ دیے جانے کےقابل نہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان نہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قبیلہ بنو اُسد کے ایک شخص کو حاکم بنایا۔ وہ عہدہ لینے کے لیے بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہواتو دیکھا کہ آپ کا ایک چھوٹا مدنی منا بھی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ اُسے فرط محبت سے چوم رہے ہیں۔ اُس نے تعجب سے کہا : ’’حضور! کیا آپ اس بچے کو چوم رہے ہیں؟میں نے کبھی اپنی اولاد کو محبت سے نہیں چوما۔ ‘‘یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سخت ناپسندیدگی کا اِظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تم تو لوگوں پر بہت کم رحم کرنے والے ہو ، تم اِس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی ذمہ داری دی جائے لاؤ ہمارا وہ منصب جو ہم نے تمہیں دیا ہے ، آج کے بعد تم کبھی بھی ہمارا کوئی حکومتی کام نہیں کرو گے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1) بچوں پر شفقت ومحبت کرنا اور انہیں شفقت سے چومنا نہ صرف جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
(2) شفقت ومحبت اور رحم دلی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
(3) جنت میں ایک گھر ہےاس سے وہی لوگ داخل ہوں گےجوبچوں کو خوش کرتے ہیں۔
(4) بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے ہاتھ پاؤں اور سروغیرہ چومنا بھی بالکل جائز ہے۔
(5) ہمارے اَسلاف ایسے شخص کو کوئی عُہدہ نہ دیا کرتے تھے جس کے دل میں شفقت ومحبت نہ ہوتی کیونکہ ایسا شخص مخلوق پر کیسے رحم کرے گا ؟جب اُس کے اپنے دل میں ہی رحم نہیں ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں چھوٹے بچوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 226