Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 229

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : اِنْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ ، خَشْيَةَ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. ( )

عن عائشة رضي الله عنها قالت : ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدع العمل وهو يحب ان يعمل به ، خشية ان يعمل به الناس فيفرض عليهم. ( )

حدیث ترجمہ

ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور رحمۃ اللعالمین ، شفیع المذنبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسااوقات اپنے پسندیدہ کام کو اس ڈر سے ترک فرمادیتے کہ کہیں لوگ اس کو کرنے لگ جائیں اور وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ ‘‘

شرح حدیث

پسندیدہ کام کو چھوڑدینے کامعنٰی اور اس کی وجہ:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتےہیں : ’’حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااپنےپسندیدہ کام کوچھوڑنے کا معنی یہ ہے کہ آپ اپنی اُمَّت کی وجہ سےاس عمل کو ظاہرکرنےاور اس عمل کی طرف دعوت دینے کو چھوڑ دیتے تھے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس عمل کو اپنی ذات کے لیے بھی بالکل ترک کردیتے تھے جب کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ پر اس عمل کوفرض کیا تھا یا آپ کےلیے مستحب قراردیاتھا ، کیونکہ آپ اپنی اُمت سے زیادہ متقی اوران کی بہ نسبت عمل میں زیادہ کوشش فرمانے والے تھے۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ رمضان میں تیسری یا چوتھی رات کو جب بہت سارے لوگ نماز تراویح کے لیے جمع ہوگئے تو آپ ان کی طرف جماعت کےلیے تشریف نہیں لے گئے۔ اوراس میں کوئی شک نہیں کہ اس دن بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے معمول کے مطابق گھرمیں نماز پڑھی تھی۔ پس آپ کو یہ خدشہ ہواکہ اگر آپ ان کی طرف جماعت کے لیے تشریف لے گئے اورانہوں نے بھی آپ کے ساتھ نمازِ تراویح کا التزام کیاتواللہعَزَّ وَجَلَّآپ کے اور اُن کے درمیان نمازِ تراویح کے حکم کو مَساوِی فرما دےگااور اُن پر بھی آپ کی طرح نمازِ تراویح فرض ہوجائے گی۔
دوسرا یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خوف تھاکہ اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پابندی کے ساتھ نماز تراویح باجماعت پڑھتے رہے تووہ کمزوری کی وجہ سے مستقل طورپر باجماعت نہیں پڑھ سکیں گے اورپھر جو اس کوترک کرےگا وہ گناہ گارہوگااور وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع کو ترک کرنے اورآپ کی مخالفت کرنے کی وجہ سےعذاب کامستحق ہوگا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی اتباع کو فرض قرار دیا ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸)(پ۹ ، الاعراف : ۱۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ۔
اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع نہ کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ہوتاہے :
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)(پ ۱۸ ، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔
تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمُّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جومومنین پررحم وشفقت فرمانے والے ہیں آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں آپ کی اِتباع ترک کرکے وہ لوگ فرض کو ترک کرنے والوں کے زُمرے میں شامل نہ ہوجائیں کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعتاللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت ہےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت فرض ہے ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس فرض کے ترک سے لوگوں کو بچانے کے لیے نمازِ تراویح کی جماعت کے لیے تشریف نہ لائے۔‘‘( )
ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قربان جائیے اپنے مُحْسِن ومُشْفِق آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جنہیں اپنی اُمَّت کا مشقت میں پڑنا گوارا نہیں ، اپنے پسندیدہ عمل کو بھی اس لیے ترک فرمادیتے کہ کہیں اُمَّت پر لازم نہ ہوجائے اور اس کی ادائیگی نہ کرنے کے سبب گناہ گار نہ ہوجائیں ، ہم بھی اُن سے عشق ومحبت کا دعویٰ کرتے ہیں ، اُن کی محبت کا دَم بھرتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن ہوہی نہیں سکتا جب تک وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے مال ، اَہل وعیال بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ جانے ، مگر یہ کیسا عشق اور کیسی محبت ہے؟ جو لوگ اپنے والدین سے محبت کرتے ہیں یقیناً وہ اُن کا دل نہیں دُکھاتے ، جنہیں اپنے بچے سے محبت ہوتی ہے وہ اسے ناراض نہیں ہونے دیتے ، کوئی بھی اپنے دوست کو غمزدہ دیکھنا گوارا نہیں کرتا کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے اُسے رنجیدہ نہیں کیاجاتا مگر آہ!آج کے اکثر مسلمان جو کہ عشقِ رسول کے دعویدار ہیں مگر اُن کے کام محبوب ر بُّ ا لانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شاد کرنے والے نہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو ارشاد فرمائیں کہ نماز میری آنکھوں کی

ٹھنڈک ہے۔ مگر وہ کیسے عاشق رسول ہیں جو کہ نماز سے جی چُرا کر ، نماز جان بوجھ کرقضا کر کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلب پُراَنوار کے لئے تکلیف و آزار کاسبب بنتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ماہِ رمضان کے روزوں کی تاکید فرمائیں مگر وہ اِس حکم والا سے رُو گَردانی کر کے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی کاسبب بنیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرمائیں : ’’مونچھیں خوب پَست کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو(یعنی بڑھاؤ) یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ۔ ‘‘مگر عشق رسول کے دعوے دار اور فیشن کے پرستار دشمنانِ سرکارجیسا چہرہ بنائیں ، کیایہی عشق رسول ہے؟
سرکار کا عاشِق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے؟
کیوں عِشق کا چہرے سے اِظہار نہیں ہوتا؟
حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو ساری عمر ہمیں اُمَّتِی اُمَّتِیکہہ کر یاد فرماتے رہے ، قبر انور میں بھی اُمَّتِی اُمَّتِیفرما رہے ہیں اورحشر تک فرماتے رہیں گے یہاں تک کہ محشرکے روز بھی اُمَّتِی اُمَّتِی فرمائیں گے ۔ حق یہ ہے کہ اگر صرف ایک بار بھی اُمَّتِی فرماد یتے اور ہم ساری زندگی ’’یانبی یانبی ، یارسولَ اللہ یاحبیبَ اللہ‘‘کہتے رہیں تب بھی اُس ایک بار اُمّتیکہنے کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔
جن کے لب پر رہا ’’اُمَّتِی اُمَّتِی‘‘ …… یاد اُن کی نہ بھول اے نیازی کبھی
وہ کہیں اُمَّتِی تُو بھی کہہ یَانَبِی …… میں ہوں حاضِر تیری چاکری کے لیے
اے عاشقان رسول!اُمَّت کے غمخوار آقا کے قدموں پرنثار ہو جایئےاورسنتوں کے مطابق زندگی گزار کر مَرنے کے بعد اُن کی شفاعت کے حق دار ہو جایئے اوراپنا منہ بروزِقیامت نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کودکھانے کے قابل بنا لیجئے یعنی یہودو نصاریٰ کی سی شکل و صورت بنانی چھوڑ دیجئے ، اپنے چہرے پر ایک مٹھی داڑھی سجا لیجئے ، انگریزی بالوں کے بجائے زلفیں رکھ لیجئے اور ننگے سر گھومنے کے بجائے سبز عمامہ شریف کے ذریعے اپنا سر ’’سر سبز‘‘ کر لیجئے۔ بس اپنے ظاہر و باطن پر مدنی رنگ چڑھا لیجئے۔
کاش ہم بھی عاشق اکبر امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قدموں کی دُھول کے صدقے سچےاور پکے عاشقِ رسول بن جائیں۔ کاش! ہمارا اُٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا ، سوناجاگنا ، لینا دینا ،

جینامرنا میٹھے میٹھے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنّتوں کے مطابق ہو جائے ۔
فَنا اِتنا تو ہو جاؤں میں تیری ذاتِ عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اُس کو ترا دیدار ہو جائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے اندر عشق حقیقی کی شمع روشن کرنے کے لیے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو جائیے اور اپنے یہاں ہونے والے ہفتہ وار دعوتِ اسلامی کے اجتِماع میں شرکت فرماتے رہیےاور مَدَنی انعامات پر عمل کر کےفکرِ مدینہ کرتے ہوئے روزانہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہرمدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندراپنے یہاں کے ذمّہ دار اسلامی بھائی کو جمع کرواتے رہیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بیڑا پار ہوگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا بچہ بچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، تمام صحابہ کرام ، اہل بیت عظام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی غلامی پر نازاں ہے ، جب یہ غلامانِ مصطفےٰ اِخلاص کے ساتھ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سفر کر کے نیکی کی دعوت دیتے ہیں تو بسا اَوقات کُفّار دامن اِسلام میں آ جاتے ہیں۔ چنانچہ خانپور (پنجاب)کے ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کا بیان ہے کہ بابُ المدینہ کراچی سے سنتوں کی تربیّت حاصل کرنے کیلئے تشریف لائے ہوئے مدنی قافلے کے ساتھ مجھے بھی علاقائی دورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک درزی کی دکان کے باہر لوگوں کو اکٹھاکر کے ہم ’’نیکی کی دعوت‘‘دے رہے تھے ۔ جب بیان خَتم ہواتو اسی دوکان کے ایک ملازم نوجوان نے کہا : ’’میں عیسائی ہوں۔ آپ حضرات کی نیکی کی دعوت نے میرے دل پر گہرا اثر کیا ہے ، مہربانی فرما کر مجھے اسلام میں داخِل کر لیجئے۔ ‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ مسلمان ہو گیا۔
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
صَدقہ تجھے اے ربِّ غفار مدینے کا
مدنی گلدستہ
اسم جلالت’’
اللہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمت پر حد درجہ مہربان ہیں۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پسندیدہ عمل کو بھی اس وجہ سے ترک فرمادیتے تھے کہ کہیں وہ اُمَّت پر لازم نہ ہوجائے اور وہ اسے ادا نہ کرنے کے سبب گناہ گار نہ ہوجائیں۔
(3) سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت ہرمسلمان پر فرض ہے ، جو شخص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت نہیں کرے گا وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔
(4) ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر حقیقی عشق اور محبت پیدا کریں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل پیرا ہوجائیں ، اپنے آپ کو ہر اس عمل سے بچائیں جس میں کسی سنت کا خلاف ہوتا ہو۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سچا اور حقیقی عشق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 229