Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 156

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَعُوْ نِي مَا تَرَكْتُكُمْ :اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ ، فَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَیْءٍ فَاْ تُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ. ( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:دعو ني ما تركتكم :انما اهلك من كان قبلكم کثرۃ سؤالهم، واختلافهم على انبيائهم ، فاذا نهيتكم عن شيء فاجتنبوه ، واذا امرتكم بشیء فا توا منه ما استطعتم. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، مَیں تمہیں چھوڑ دوں ۔بے شک! تم سے پہلے لوگوں کو کثرتِ سوال اوراپنے نبیوں سے اختلاف نےہلاک کر دیا۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اُس سےبچو اور جب کسی بات کا حکم دوں تو اُسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘

شرح حدیث

سبب حدیث:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں کہ حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّنےتم پرحج فرض کیا ہے، پس تم حج کرو۔ ‘‘ ایک شخص نےعرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!کیاہرسال حج فرض ہے؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے سکوت فرمایا یہاں تک کہ اس نےتین مرتبہ یہی بات پوچھی۔پھرآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اگرمیں ”ہاں “ کہہ دیتاتو تم پرہرسال حج فرض ہوجاتااورتم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حدیث مذکور ارشاد فرمائی۔دارقطنی میں ہے کہ اسی معاملے میں یہ آیت نازل ہوئی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-(پ۷، المائدۃ:۱۰۱)ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پرظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں ۔
تفسیر ِطبری میں بھی تقریباًاسی طرح منقول ہے ۔ ( )
¥
جتنا کہا جائے اتنے پر عمل کرو:حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے اس ارشاد”تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، میں تمہیں چھوڑ دوں ۔“کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی مجھ سے یہ سوال نہ کروکہ کتنا ہےاورکیوں ہےجب تک میں خودبیان نہ کروں کہ کتناہےاورکیوں ہے یعنی جتنا میں کہوں اتنے پرعمل کرو، اگرمطلق حکم دوں تواس کےمطابق عمل کرواورتعیین کردوں تواس پر عمل کرو، کیونکہ مجھےشرعی اَحکام بیان کرنےکے‏لیےبھیجاگیاہے، جو حکم ہو گا وہ میں تمہارے پوچھے بغیر ہی بیان کر دوں گا۔ ‘‘ ( )کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاکت:مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بے شک! تم سے پہلے کے لوگ کثرتِ سوال اور اپنے نبیوں سےمخالفت کےسبب ہلاک ہوئے۔یعنی تم سے پہلے یہودونصاریٰ کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک کیے گئے۔جیساکہ ان کا ( حضرت سَیِّدُنَاموسٰیعَلَیْہِ السَّلَامسے) دیدار الٰہی اور کلام کا سوال کرنا، گائے ذبح کرنے کے معاملے میں بِلا وجہ سوالات کرنا وغیرہ ۔ان کے سوال کے بعد اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامجب انہیں کسی چیز کاحکم دیتے تو وہ اس کی مخالفت کرتے لہٰذاوہ ہلاک کر دیے گئے۔ سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ جب میں کسی فرض کا حکم دوں تو اسےحسبِ طاقت ادا کرو، کیونکہ جو تمام فرائض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ انہیں کلیۃً ترک نہ کرے۔ ‘‘ ( ) (بلکہ جس کی طاقت ہو اسے بجالائے ۔)¥عذرشرعی کی بِناپراَحکام میں تخفیف:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو ا سےچھوڑدو ۔یہ فرمان عالی مطلق ہے کیونکہ مجبوری کے وقت بعض ممنوع چیزیں مباح ہو جا تی ہیں جیساکہ مجبوری وحالت اِضطرار میں مُردار کھانا، شراب پینایاکلمۂ کفر منہ سے نکالنا (جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو) اسی طرح اور بھی کئی مسائل ہیں ۔یہ حدیثجوامِعُ الکَلِماور قواعدِ اِسلامیَّہ میں سے ہےاور اِس اُصول میں بےشماراَحکام داخل ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
عدمِ جواز کے لیے دلیل ضروری ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث پاک کے اس حصے: ’’ جب کسی بات کا حکم دوں تو اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی میرے اَحکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم، یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اگر جان پر بن جائے تو مُردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حُرمت و مُمانعت کے لیے نہی لازم، جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے، ربّتعالٰیفرماتا ہے: (وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-) (پ۲۸، الحشر:۷) (ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اورجو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔) بعض جو کہتے ہیں کہ ’’ جو کام حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے نہ کیا ہو وہ حرام ہے۔ ‘‘ غلط ہے، قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
سَیِّدَہ ’’ فاطمہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
کثرتِ سوال اور بے جا اختلاف سے بچنا چاہیے کہ بندہ ان کی وجہ سے بسا اوقات مصائب میں بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔
(2) ممنوعاتِ شرعیَّہ سے بچنا ضروری ہے، اسی میں ہمارے ‏لیے عافیت اور آخرت کی بہتری ہے ۔
(3) عذرکی وجہ سےاحکام شرعیَّہ میں تخفیف مل جانا،
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہماری کمزوری و ضُعف کی وجہ سے آسانی عطافرمائی۔
(4) احکامِ شرعیَّہ رحمتوں کا خزینہ ہیں ، ان میں کیوں ، کب، اور کیسے کی گنجائش نہیں ۔
(5) جیسے وجوب وفرضیت کے لیے دلیل شرعی ضروری ہے ایسے ہی حرمت وممانعت کے لیے بھی دلیل لازم ہے اور جس چیز کا حکم اورممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرتِ سوال سے محفوظ فرمائے اور ایسےاِختلافات سے بھی محفوظ فرمائے جو اُمَّت مسلمہ اور دنیا وآخرت کے ‏لیے نقصان کا باعث ہوں ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 156