- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 2
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، مَیں تمہیں چھوڑ دوں ۔بے شک! تم سے پہلے لوگوں کو کثرتِ سوال اوراپنے نبیوں سے اختلاف نےہلاک کر دیا۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اُس سےبچو اور جب کسی بات کا حکم دوں تو اُسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَعُوْ نِي مَا تَرَكْتُكُمْ :اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ ، فَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَیْءٍ فَاْ تُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 156 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیحعِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے، (حاکم کی) بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ کسی غلام کو تم پر حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ، بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ فاِنَّ كلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 157 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت ہےکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘
عَنْ اَ بِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:كُلُّ اُمَّتِيْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبیٰ.قِيلَ:وَمَنْ يَاْبٰى يَارَسُولَ اللهِ ( صَلىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ؟ قَالَ:مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبیٰ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 158 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابو مسلم یا ابو ایاس سلمہ بن عَمرو بن اَکْوعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں الٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ تو کبھی طاقت نہ رکھے۔ ‘‘ (راوی فرماتے ہیں کہ ) اسے (حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکاحکم ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔
عَنْ اَبي مُسْلِم ٍ، وقِيْلَ:اَ بِي اِيَاسٍ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْاَ کْوَ عِ رَضِيَ الله عَنْهُ اَ نَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ الله ِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ فَقَالَ: كُلْ بِيَمِينكَ قَالَ: لَا اَسْتَطِيعُ ، قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ، مَا مَنَعَهُ اِلَّا الكِبْرُ.فمَا رَفَعَهَا اِلٰی فِيهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 159 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
: حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہنعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا: ’’ تم اپنی صفوں کو سیدھارکھو یا پھراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا ۔ ‘‘ مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتےگویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہیں ، یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یقین ہوجاتا کہ ہم آپ کی بات سمجھ چکے ہیں ۔پھرایک دن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائےاور جماعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے باہر نکلاہوا دیکھا توفرمایا : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندو!تم اپنی صفیں سیدھی رکھوورنہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی عَبْدِ اللہِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ( ) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّيْ صُفُوفَنَا حَتَّى كَاَ نَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى اِذَارَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ اَنْ يُكَبِّرَ فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 160 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت گھر والوں سمیت جل گیا۔ جب یہ واقعہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی خدمت میں ذکر کیا گیا توارشادفرمایا: ’’ یہ آگ تمہاری دشمن ہے لہٰذا جب تم سونے لگو تو اسے بجھادیا کرو۔ ‘‘
عَنْ اَبِي مُوسَى رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلٰی اَھْلِہِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاْنِهِمْ قَالَ: اِنَّ هٰذِهِ النَّارَ عَدُوٌّ لَّكُمْ ، فَاِذَا نِمْتُمْ فَاَطْفِئُوْهَا عَنْكُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 161 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّنےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَصَابَ اَرْضًا فَكاَنَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَاَنْبَتَتِ الْكَلَاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَكَانَ مِنْهَا اَجَادِبُ اَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا وَسَقُوْا وَزَرَعُوْا، وَاَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا اُخْرَى، اِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَاً فَذٰلِكَ مَثَلَ مَنْ فَقُهَ فِي دِيْنِ اللهِ تَعَالیَ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَاْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي اُرْسِلْتُ بِهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 162 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 163 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اورتھال چاٹنے کا حکم ارشاد فرمایااور فرمایا کہ ’’ تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے توچاہیے کہ اسے اٹھالے، اس پر جو مٹی وغیرہ لگ جائے، اسےصاف کرکے کھالےاور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑےاور اپنے ہاتھ تولیے یا رومال سے اس وقت تک نہ پونچھے جب تک کہ انگلیوں کو چاٹ نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اور روایت میں ہے: ’’ بے شک شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اُس کے ہر معاملے میں آتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی آتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیے کہ اسے صاف کرکے کھالےاورشیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ ‘‘
عَنْہُ اَنَّ رَسُوْ لَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّهَا الْبَرَكَةُ. وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيَاْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى، وَلْيَاْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ. فَاِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.
وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَاْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَاِذَا سَقَطَتْ مِنْ اَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى فَلْيَاْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 164 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئےاورارشادفرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تم اس حال میں اُٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ ہوگے: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴)(پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴)ترجمۂ کنزالایمان:ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا۔
سنو! قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا۔ سنو!بے شک میری اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا
جائے گا، میں کہوں گا: یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ پس میں اس طرح کہوں گا جس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے (حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام) نے کہا تھا: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ (۱۱۷) اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸)ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہاپھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
پھرمجھ سے کہا جائے گاجب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں تب سے یہ لوگ دین سے پھر گئےہیں ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّكُمْ مَحْشُوْرُوْنَ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰی حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا: ( كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴) ) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴) اَلَا وَاِنَّ اَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَىٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِبْرَاهِيْمُ اَلَا واِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ اُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَاَقُوْلُ: يَا رَبِّ اَصْحَابِي فَيُقَالُ:اِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا اَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَاَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ (وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-) اِلٰی قَوْلِہِ: (الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸) ) (پ۷، المائدۃ: ۱۱۷، ۱۱۸) فَيُقَالُ لِي: اِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلَى اَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 165 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدعبداللہبن مُغَفَّلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِمدینہ،راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکنکر مارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ نہ تو یہ شکار کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کومارسکتے ہیں ، بلکہ یہ آنکھیں پھوڑدیتے ہیں اور دانت توڑدیتے ہیں ۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابن مُغَفَّلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےایک رشتہ دار نے کنکر مارے توآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاسے منع کرتے ہوئےفرمایا: ’’ بیشک سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکرمارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ اس سے شکار نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ پھر اس نے دوبارہ کنکر مارے تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : میں نے تجھے بتایاکہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے تُو پھر بھی کنکر مارتاہے! اب میں تجھ سے کبھی کلام نہ کروں گا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ عَبْدِاللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: نَهَى رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا يَنْكَاُ الْعَدُوَّ، وَاِنَّهُ يَفْقَاُ الْعَيْنَ، وَيَكْسِرُ السِّنَّ. ( )
وَفیِ رِوَایَۃٍ: اَنَّ قَرِیْبًا لِاِبْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهَا لَاتَصِيْدُ صَيْدًا، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: اُحَدِّثُكَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ؟ لَا اُ کَلِّمُکَ اَبَدًا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 166 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا عابِس بن ربیعہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نےحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے : ’’ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہےجو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔اگر میں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ ‘‘
عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيْعَةَ قَالَ:رَاَ یْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ یُقَبِّلُ الْحَجَرَ یَعْنیِ الْاَسْوَدَ وَیَقُوْلُ: اِنِّي اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا اَنِّي رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 167 ، باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان