Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 165

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّكُمْ مَحْشُوْرُوْنَ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰی حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا: ( كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴) ) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴) اَلَا وَاِنَّ اَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَىٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِبْرَاهِيْمُ اَلَا واِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ اُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَاَقُوْلُ: يَا رَبِّ اَصْحَابِي فَيُقَالُ:اِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا اَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَاَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ (وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-) اِلٰی قَوْلِہِ: (الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸) ) (پ۷، المائدۃ: ۱۱۷، ۱۱۸) فَيُقَالُ لِي: اِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلَى اَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ. ( )

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بموعظة فقال: يا ايها الناس انكم محشورون الى الله تعالی حفاة عراة غرلا: ( كما بدانا اول خلق نعیده-وعدا علینا-انا كنا فعلین (۱۰۴) ) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴) الا وان اول الخلائق يكسى يوم القيامة ابراهيم الا وانه سيجاء برجال من امتي، فيؤخذ بهم ذات الشمال، فاقول: يا رب اصحابي فيقال:انك لا تدري ما احدثوا بعدك، فاقول كما قال العبد الصالح (و كنت علیهم شهیدا ما دمت فیهم-) الی قولہ: (العزیز الحكیم (۱۱۸) ) (پ۷، المائدۃ: ۱۱۷، ۱۱۸) فيقال لي: انهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں وعظ کرنے کے ‏لیے کھڑے ہوئےاورارشادفرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تم اس حال میں اُٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ ہوگے: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ (۱۰۴)(پ۱۷، الانبیاء:۱۰۴)ترجمۂ کنزالایمان:ہم نے جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم کو اس کا ضرور کرنا۔
سنو! قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم
عَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا۔ سنو!بے شک میری اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا
جائے گا، میں کہوں گا: یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ پس میں اس طرح کہوں گا جس طرح
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے (حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام) نے کہا تھا: (چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:)وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْؕ-وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ (۱۱۷) اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (۱۱۸)ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں ان پر مطلع تھا جب تک میں ان میں رہاپھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھااور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
پھرمجھ سے کہا جائے گاجب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں تب سے یہ لوگ دین سے پھر گئےہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

ایک اعتراض کا جواب :عمدۃ القاری میں ہے: ’’ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اُمَّت کے اَعمال پیش کیے جاتے تھے تو پھر اُن لوگوں کے اَعمال پوشیدہ کیسے رہیں گے؟ ‘‘
جواب: ’’ وہ لوگ آپ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُمَّتی نہیں ہوں گےاور آپ پر صرف آپ کی اُمَّت کے اَعمال پیش ہوتے ہیں نہ کہ مُرْتَدِّین و منافقین کے۔ ابن تینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں :ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ منافقین اور کبیرہ گناہوں کا اِرتکاب کرنے والے ہوں گے ۔ خیال رہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَصحاب میں سے کوئی بھی مُرْتَد نہ تھا ۔ابو عمر نے کہا:ہر اس شخص کو حوض ِ کوثر سے واپس کر دیا جائے گاجس نے دین میں کوئی نئی (خلاف ِشرع) باتایجاد کی ہوگی، جیسا کہ خوارج و روافض اور خواہشات کی پیروی کرنے والے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدروزِقیامت سب سے پہلے لباس پہننے والے:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے کی حکمت یہ ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو بِنا کپڑوں کے آگ میں ڈالا گیا تھا اس ‏لیے سب سے پہلے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے سب سے پہلے شلوار کے ذریعے سترپوشی کی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ زمین پر آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامسے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا کوئی نہ تھاتو قیامت کے دن آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو لباس پہنانے میں جلدی اس لیے کی جائے گی تاکہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامخوف سے امن میں آجائیں اور آپ کا دل مطمئن ہوجائے۔ حضرت سَیِّدُنَاابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو سب سے پہلے لباس پہنانے کی تخصیص کرنے سےیہ بات لازم نہیں آتی کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامہمارے نبی، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مطلقاً افضل ہیں ۔مجھ پر ابھی یہ بات ظاہر ہوئی کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی قبر انور سے اُسی لباس میں تشریف لائیں گے جس میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وصال فرمایا تھا اور جو حُّلہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زیب تن فرمایا ہوا ہوگاوہ جنتی حُلَّہ ہوگااور وہ تعظیم و تکریم والی پوشاک ہوگی۔ پس حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو پہلے لباس پہنانا یہ بقیہ مخلوق کے لحاظ سے ہے۔ ‘‘ ( )
¥
ایک اِشکال اور اُس کاجواب:نزہۃ القاری میں اس حدیث پاک کے تحت ایک اِشکال اور اُس کاجواب تحریرکیاگیاہے، چنانچہ مفتی شریف الحق اَمجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ امام ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خُدْرِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگائےاور انہیں پہنا، پھر فرمایا کہ میں نےرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سناہے، (آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے تھے: ’’ میت اپنے اُنہیں کپڑوں میں اٹھائی جائےگی جن میں وہ مرے گی۔ ‘‘ نیز ترمذی میں حضرت سَیِّدُنَابَہْزبن حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖمروی ہے ، انہوں نے کہا: ’’ میں نےرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سنا، فرماتے تھے: ’’ تم لوگ پیدل اورسوارقیامت کے دن جمع کیے جاؤگے۔ ‘‘ یہ دونوں حدیثیں اس (حدیث مذکور ) کے معارض ہیں ۔ علمانے اس کے دوجواب دیے ہیں :
(1) ایک یہ کہ جب قبروں سے اٹھیں گےتو ان کے جسموں پر لباس ہوں گے، پھر وہ منتشر ہوجائیں گے۔اب زیر بحث حدیث کا مطلب یہ ہوا: موقف حشر میں لوگ ابتداءًننگے حاضر ہوں گے، پھر ان کو لباس پہنایا جائے گا۔
(2) دوسراجواب یہ دیاہے کہ یہ شہدائے بدر کے بارے میں ہےکہ وہ اسی لباس میں اٹھائے جائیں گےجس لباس میں شہیدہوئے ہیں ۔ ‘‘ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:میں اس طرح کہوں گا جس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے حضرت سَیِّدُنَا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنے کہا تھا۔یعنی حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَاماپنی قوم سے چھٹکارے کے ‏لیےبطورِعذراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں جو عرض کریں گے، میں بھی وہی عر ض کروں گا۔ حضرت عیسیعَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!جب تک میں ان میں رہا، ان کے حال سے واقف رہا، میں نے انہیں کفر پر نہیں چھوڑا، اس وقت یہ حق پر تھےجب تو نے ان سے مجھے اٹھالیا ، تو اب ان کے حال سے توہی واقف ہےاور تو ہر غائب وحاضر کو جاننے والاہے، اب اگر تو ان پر عذاب وگرفت فرمانا چاہتاہے تو یہ تیرے بندے ہیں توجو چاہے ان کے ساتھ معاملہ فرما، کوئی تیرے سامنے دَم نہیں مارسکتااور اگر تو انھیں معاف فرمادے تو، تو علیم وحکیم ہے جو چاہتاہے کرسکتاہے۔ ‘‘ ( )قیامت کے دن انبیائے کرام کے اٹھنے کی حالت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں تم ننگے پاؤں ، بے لباس اوربےختنہ اٹھائے جاؤگے۔) اِس فرمانِ عالی میں : ’’اِنَّکُمْ‘‘ فرماکر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں اٹھو گے ، ننگے بدن ، ننگے پاؤں ، بے ختنہ۔ مگرتمام انبیاءِ کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام) اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتی کہ بعضاولیاء اللہبھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ اُن کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔ جامعِ صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا کہ میں قبر ِانور سے اُٹھوں گا اور فوراً مجھےجنتی جوڑا پہنادیا جاوے گا۔ لہٰذا یہاں اس فرمانِ عالی سے حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمبلکہ تمام انبیاء، بعض اولیاء مستثنیٰ ہیں ۔اس ‏لیے یہاںاَنْتُمْفرمایانَحْنُنہیں فرمایا ۔یہ خوب خیال رہے۔ (جیسےپہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے۔) یعنی جیسے تم اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ایسے ہی اپنی قبروں کے پیٹ سے اٹھو گے۔ خیال رہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمننگے نہیں پیدا ہوئے تھے حریر میں لپٹے ہوئے پیدا ہوئے۔
آنکھوں میں سرمہ بالوں میں شانہ دیا ہوا
لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا
حضور (
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں کہ ’’ ہم حضرت ابوبکرو عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے ساتھ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھیں گے، پھر جنت البقیع والوں کا انتظار فرمائیں گے، پھر مکہ معظمہ والے جنت معلی کے مُردوں کا۔ پھر محشر کی طرف اس براءت کے ساتھ جائیں گے۔ ‘‘ ایسی حالت میں حضور بغیر لباس کیسے ہوسکتےہیں ؟ (قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو لباس پہنایا جائے گا) یعنی کفن اُتار کر جنتی جوڑا پہلے حضرتخلیلُ اللہکو پہنایا جاوے۔ یا تو اس حکم سے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) علیحدہ ہیں ، متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے یا یہ بدلہ ہے اس کا کہ نمرودی آگ میں جاتے وقت آپ کے کپڑے اتار ‏لیے گئے تھے یہ خصوصی فضیلت ہے، نیز آپ ننگوں کو کپڑے پہناتے تھے۔ نیز آپ حضور انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے جَدِّ اَمْجَد ہیں اِن وجوہ سے آپ کا یہ اکرام فرمایا گیا۔ ‘‘ ( )رسول اللہسب کچھ جانتے ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے سب کچھ جانتے ہیں ، اپنی اُمَّت کے تمام اَفراد اور اُن کے تمام احوال سے بھی واقف ہیں ، آپ پر اُمَّت کے تمام اَعمال پیش کیے جاتے ہیں ، بلکہ سابقہ اُمَّتوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکل بروزِ قیامت دیگر اُمَّتوں کے انبیائے کرامعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر گواہ اور نگہبان بنا کر لائے جائیں گے۔ لیکن مذکورہ حدیث میں بیان ہوا کہ جب کل قیامت میں اُمَّت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں بائیں طرف والوں میں کھڑا کر دیا جائے گا، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارگاہ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کریں گے: ’’ یارب! یہ میرے اُمَّتی ہیں ۔ ‘‘ تو کہا جائے گا کہ ’’ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں پیدا کیں ۔ ‘‘ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب جانتے ہیں تو یہ کیوں کہا جائے گا کہ ’’ آپ نہیں جانتے۔ ‘‘ شارحینِ کِرام نے اس کی بہت سی وجوہات بیان کی ہیں اور کثیر جوابات دیے ہیں ، چند جوابات یہ ہیں :
(1) یہ استفہام انکاری کے طور پر فرمایا جائے گا جس سے نفی لازم نہیں آتی۔بلکہ استفہام انکاری میں علم کا اثبات ہوتاہے، مثلاً کسی کو کہا جائے کہ ’’ کیا آپ ان کو نہیں جانتے۔ ‘‘ تو مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ انہیں جانتے ہیں ۔ بعض روایات میں تو ہمزہ استفہام بھی مذکور ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’
فَيُقَالُ اَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَیعنی پس کہاجائے گا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ ‘‘ ( )غزالی زماں ، رازی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ احادیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنی اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال کا علم ہے، ترمذی (ومسلم) شریف میں حدیث وارد ہے:عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُھَا وَقَبِیْحُھَایعنی میری اُمَّت کے تمام اچھے اور بُرے اَعمال مجھ پر پیش کیے گئے۔اب غور فرمائیے کہ مرتدین بھی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اُمَّت میں داخل تھے اُن کا مرتد ہونا عملِ قبیح ہے۔اَعَاذَنَا اللہُ تَعَالٰی مِنْہُ۔ جب اُمَّت کے تمام اعمالِ حسنہ اورقبیحہ حضور کے سامنے پیش کیے گئے تو ان کا اِرتداد جو عملِ قبیح ہےوہ بھی ضرور پیش ہوا، پھر حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو ان کےعملوں کا علم نہ ہونا کیونکر صحیح ہوسکتاہے؟ معلوم ہوا کہ حدیث مذکور کے یہی معنی صحیح ہیں کہ اے حبیبصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکیا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا عمل کیے؟ آپ کو معلوم تو ہے پھر بھی آپ غلبۂ رحمت کے حال میں ان کو اپنی طرف لے جارہے ہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ جب کریم کو سخاوت کرنے کے لیے بٹھادیا جائے تو اس وقت اس کے دریائے سَخَا میں ایسا جوش ہوتا ہے کہ دشمن کی دشمنی کی طرف اس کی توجہ نہیں رہتی اور وہ بے اختیار اپنے کرم کا دامن اس کی طرف پھیلا دیتا ہے اور جب اسے توجہ دلائی جائے تو اس وقت متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں بالکل یہی معاملہ ہے ، ساقی کوثر حضرت
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمحوض کوثر پر رونق افروز ہیں ، اپنے غلاموں کو چھلکتے ہوئے جام پلارہے ہیں ، مرتدین کی جماعت ادھر سے گزرتی ہے، حضور کو ان کے عملوں کا پورا پورا علم ہے مگر اس وقت دریا ئے جودوسخا موجزن اور شانِ رحمت کا ظہورِ اَتَمّ ہے، اس لیے ان کی بداعمالیوں کی طرف خیال مبارک جاتا ہی نہیں اور اپنے لطف عمیم اور کرمِ جسیم کے غلبۂ حال میں بے اختیار فرمادیتے ہیں : ’’اُصَیْحَابِیْ اُصَیْحَابِیْ‘‘ لیکن جب توجہ دلائی جاتی ہے کہاَمَا شَعَرْتَ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَپیارے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ پس فورا توجہ مبارکہ ان کی بداعمالیوں کی طرف مبذول ہوتی ہے اور ارشاد فرماتے ہیں : ’’سُحْقًا سُحْقًاانہیں دور لے جاؤ، دور لے جاؤ۔ ‘‘ طالبِ حق کے لیے اس حدیث کا صحیح مطلب سمجھنے کے لیے یہ بیان کافی ہے۔ ‘‘ ( )
(2) زیادہ تر احادیث میں یہ الفاظ ہیں : ’’
اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَیعنی آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا بدعات نکالی ہیں ۔ ‘‘ اس حدیث پاک میں درایت کی نفی ہےاور درایت کے معنی ہے کسی چیز کو اٹکل اور حیلے سے جاننا۔ یقیناًرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اٹکل اور حیلے سے علم نہیں ہے بلکہ آپ کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا اور وحی الٰہی سے سب چیزوں کا علم ہے۔
(3) جس حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے خود آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے سامنے قیامت کے اس منظر کو بیان فرمارہے ہیں ، جب آپ خود بیان فرمارہے ہیں تو یقیناً آپ جانتے ہیں کہ کل بروزِ قیامت کن لوگوں کے بارے میں آپ سے کہا جائے گا۔
(4)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ فرشتوں کا یا ربّ تعالی کا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے، ان مرتدین پر اظہار غضب کے لیے ہے، جیسے بلا شبہ باپ بیٹے کو مارنے لگے، ماں جو اس سے سخت نالاں تھی، محبت مادری میں بچانا چاہے، باپ کہے: تُو اس کی حیثیت کو نہیں جانتی، اسے تو میں ہی جانتا ہوں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے مت بچا، مجھے سزاد دے لینے دے۔ ربّ تعالی منافقین کے متعلق فرماتا ہے:(لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-) (پ۱۱، التوبۃ:۱۰۱) انہیں تم نہیں جانتے، ہم جانتے ہیں ، حالانکہ حضور منافقین کو خوب جانتے تھے، (ربّ تعالیٰ) فرماتا ہے: (وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-)(پ۲۶، محمد:۳۰) تم انہیں کلام کی روش سے ہی پہچان لیتے ہو۔ ‘‘ ( )قیامت میں کن لوگوں کو لایا جائے گا؟مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ کل بروزِ قیامت کچھ لوگوں کو لایا جائے گا؟ یہ لوگ کون ہوں گے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جن لوگوں کو سرکار دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدور کریں گے اس میں کئی اقوال ہیں :
(1) وہ لوگ منافقین اور مرتدین ہوں گے ۔
(2) وہ لوگ ہوں گے جو آپ کے زمانے میں مسلمان تھے اور پھر بعد میں مرتد ہوگئے، آپ ان کو دنیا کی واقفیت کی بناءپر پکاریں گے، کیونکہ آپ کی حیات میں یہ مسلمان تھے، پھر آپ کو بتایا جائے گا کہ یہ آپ کے بعد مرتد ہوگئے تھے۔
(3) اس سے مراد گناہ کبیرہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر فوت ہوگئے یا وہ بدعتی لوگ مراد ہیں جو اپنی بدعات کی بناء پر اسلام سے خارج نہیں ہوئے، اس صورت میں ان کو حوضِ کوثر سے ہٹایا جانا عذابِ نار کی وجہ سے نہیں بلکہ زجروتوبیح کے طور پر ہوگا، پھر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّان کو بغیر عذاب کے جنت میں داخل کردے، یہ بھی ممکن ہے کہ ان لوگوں کا چہرہ اور ہاتھ پیر آثارِ وضو سے سفید ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ کے ہوں یا بعد کے ہوں اور آپ نے ان کو وضو کی علامت سے پہچانا ہو۔ ‘‘ ( )ایک اشکال اور اس کا جواب:یہاں ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں جانتے ہوں گے تو پھر ان کو ’’ میرے صحابہ ‘‘ یا ’’ میرے اُمَّتی ‘‘ کہہ کر کیوں پکاریں گے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ زُرقانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :٭ ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پہلے ان کو صحابی یا اُمَّتی فرمانا اس لیے تھا کہ ان کی امید قائم ہو جائے اور جب ان کی امید قائم ہوجائے تو انہیں اپنے سے دور کرکے ان کی امید کو توڑ دیا ۔ اور امید بندھ کر ٹوٹ جانا زیادہ حسرت اور عذاب کا موجب ہوتا ہے۔٭ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّنے دنیا میں پہلے منافقین کو مسلمانوں کے حکم میں رکھا اور پھر ان کا نفاق ظاہر کرکے ان کو رسوا کردیا، اسی طرح ان منافقین کو پہلے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ اٹھایا جائے گا پھر ان کا نفاق اور ارتداد ظاہر کرکے ان کو رسوا کردیا جائے گا، لہذا سرکار دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ان کو اپنا اُمَّتی یا صحابی فرمانا ان کے مسلمان ہونے کی علامت کے اعتبار سے ہے، اور بعد میں ان کو دور کردینا ایسے ہی ہے جیسے دنیا میں آپ نے منافقین کو مسجد نبوی سے نکال دیا تھا ۔ اور مرتدین کے اعتبار سے یہ توجیہ اس طرح مُنْطَبِق ہوگی کہ مرتدین پہلے اسلام لائے اور پھر دین اسلام سے مُنْحَرِف ہوگئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ان کو اپنا صحابی یا اُمَّتی فرمانا ان کے پہلے حال اسلام کے اعتبار سے ہے اور بعد میں انہیں دور کرنا ان کے ارتداد کی اعتبار سے ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ شفاعت ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
روزِ قیامت سوائے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاموبعض صالحین کے باقی سب لوگ ننگے پاؤں ، بے لباس اوربے ختنہ اُٹھائے جائیں گے۔
(2) روزِمحشرہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ والا کے نظارے ہوں گے۔ قبر انور سےجنتی حُلَّہ زیب تن کیے ہوئے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےجھرمٹ میں محشر کی طرف تشریف لائیں گے۔
(3) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں مؤمنوں کے اَعمال پیش کیے جاتے ہیں ، کفار ومنافقین کے اَعمال پیش نہیں کیے جاتے۔
(4) سِترپوشی کے ‏لیے جتنا زیادہ اچھا طریقہ اختیارکیا جائے شریعت میں اتنا ہی محمود ہے جیساکہ حضرت سَیِّدُنَاابراہیم
عَلَیْہِ السَّلَامنے سِترپوشی کے ‏لیے سب سے پہلے شلوار پہنی توآخرت میں آپ کو سب سے پہلے کپڑے پہنائے جائیں گے۔
(5) دینِ اسلام میں تحریف کرنے والا، خلافِ شرع نئی باتیں ایجاد کرنے والا کل بروزِ قیامت حمایتِ مصطفےٰ (
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے محروم رہے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں روزِ محشر اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گران کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 165