Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 163

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ. ( )

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مثلي ومثلكم كمثل رجل اوقد نارا فجعل الجنادب والفراش يقعن فيها وهو يذبهن عنها وانا اخذ بحجزكم عن النار، وانتم تفلتون من يدي. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

انسانوں اورپروانوں کے درمیان وجہ تشبیہ:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی ) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ ( ) (کیونکہ یہاں گرفت مضبوط ہوتی ہے۔)شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ یعنی یہ مذکورہ حال میرا اور تمہارا ہے کہ حدودِ الٰہی جو حرام اور ممنوع اُمور پرمشتمل ہیں اُن سے اِجتناب اور دُوری ضروری ہے ۔میں پوری وضاحت سے اُنہیں بیان کر چکا ہو ں۔جیسے کوئی شخص آگ جلائے اور تم اُس میں گرنا شروع کردو تو میں تمہیں اُس میں گرنے سے روکتا ہوں ۔ ‘‘ ( )دنیا کی لذّ تیں آگ ہیں :مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یہ بھی تشبیہ مرکب ہے کہ ایک پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ﷲتعالٰینے دنیا اور یہاں کی اُلجھنوں کو دین کا ذریعہ بنانے کے ‏لیے پیدا فرمایا مگر لوگوں نے انہیں غلط استعمال کرکے ہلاکت کا ذریعہ بنالیا جیسے کوئی جنگل میں مسافروں کی ہدایت اور روشنی کے ‏لیے آگ جلائے مگر پتنگےاسی آگ کو اپنی ہلاکت کا سامان بنالیں ا ور ہلاکت کو اپنی نجات سمجھیں ۔چنانچہ دنیا کی لذتیں آگ ہیں اور ہم نا سمجھ بندے پتنگے کہ اس کو غلط استعمال کرکے اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ۔دنیا بنانے والا ربّ ہے اور اس کے غلط استعمال سے بچانے والے حضورہیں ۔حضور کا اپنی اُمَّت کو نرمی گرمی سے سمجھانا بجھانا گویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے، یہ روکنا تاقیامت رہے گا۔علماءومشائخ کی تبلیغیں ، غازیوں کے جہاد حضور ہی کی تبلیغ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اپنی دانائی یا اپنی تجویز کردہ عقلی عبادتوں کے ذریعہ دوزخ سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ حضور کی ہدایت کو قبول نہ کرے ورنہ ہندوسادھو اور عیسائی راہب ترک دنیا کرکے عمر بھر عبادتیں کرتے ہیں مگر دوزخی ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
جو نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے اوراَحکامِ خداوندی کی پرواہ نہیں کرتا وہ اپنے آپ کو جہنم میں گراتا ہے۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواپنی اُمَّت سے بے پناہ محبت ہے جبھی تو انہیں دینی و دُنیوی نقصانات سے بچاتے ہیں ۔
(3) ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ممنوعہ اشیاءاور ان سے بچنے کے طریقے تفصیلاً بیان کر دیے ہیں ، اب بھی جو ان حدود کی پاسداری نہ کرے وہ محروم ہے ۔
(4) کسی کو کوئی اہم بات سمجھانی ہو تو انداز بالکل عام فہم اور سہل رکھنا چاہیے بلکہ ضرورتا ً مثا ل بھی دینی چاہیے تاکہ آسانی سے سمجھ آجائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہے کہ وہ ہمیں اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممطیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی
سدا سنتوں پر چلا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 163