Main Icon

باب:وقار اور سُکُون کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 703

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:مَا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتّٰی تُرٰى مِنْهُ لَهَوَاتُهُ اِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مستجمعا قط ضاحكا حتی ترى منه لهواته انما كان يتبسم.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے دو جَہاں کے تاجْوَر، سُلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوکبھی پورا ہنستے نہ دیکھا کہ آپ کے لَہَواتِ شریفہ(یعنی منہ کا اندرونی حصہ) دیکھ لیا جاتا۔آپ صِرْف مُسکرایا کرتے تھے۔

شرح حدیث

کھل کھلاکر ہنسنے سے مراد:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی اس طرح ہنستے نہ دیکھا کہ آپ کا منہ شریف کھل جاتا اور میں آپ کے تالو کا آخری حصہ دیکھ لیتیلَهَوَاتٌجمع ہےلَهَاۃٌکی،لَهَاۃوہ پارۂ گوشت جو تالُو کی اِنتہا اورحلق سےمُتَّصِل ہے،حُضورِ اَنْوَر(صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اِس طرح ساری عُمْر کبھی نہ ہنسے۔ایک جگہ فرماتے ہیں:عَرَبی میںلَهَاۃٌحَلق کے کنارہ پر گوشت اور لٹکے ہوئے کوے کو کہتے ہیں۔جب اِنسان ٹَھٹّھہ مار کر ہنستا ہے تو پورا مُنہ کُھل جاتا ہے اور وہ جگہ نظر آجاتی ہے،حُضور اَنوَرصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماِس طرح نہیں ہنستے تھے۔تبسم کی عادت:مرآۃ المناجیح میں ہے:حُضورِاَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہنستے کبھی نہ تھے، مسکراتے بہت تھے، ہنسنا قلب میں غفلت پیدا کرتا ہے،تَبَسُّم خوش اَخلاقی ہے اِس سے سامنے والے کو خوشی ہوتی ہے۔
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں اُس تَبَسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کبھی کبھار ہنسنا بھی ثابِت ہے مگر قہقہہ لگانا ٹھٹھہ مارنا کبھی ثابِت نہیں،تَبَسُّم فرمانے کی عادت بہت تھی۔
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!سنجیدگی کواپنےمِزاج کا حِصّہ بنا لیجئےاورمَذاق مَسْخَری کی عادت،کِھل کِھلا کراور قہقہہ مار کر ہنسنے سے پرہیز کریں ۔اَمیرالمؤمنین سَیِّدُنا عُمَر فاروق
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’جو شخص زِیادہ ہنستا ہےاس کا دَبدبہ اور رُعْب چلا جاتا ہے اور جو آدمی(کثرت سے) مِزاح کرتا ہے وہ دُوسروں کی نظروں سے گِر جاتا ہے۔‘‘حضور نبی اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قہقہہ شیطان کی طرف سے ہے اور مسکرانااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے۔“مدنی گلدستہ’’وقار‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کِھل کِھلا کر اور قہقہہ مارکر ہنسنے سے پرہیز کرنا چاہیے کہ یہ خِلافِ سنت ہے۔
(2) تَبَسُّم کو اَپنانا چاہیے کہ یہ خوش اَخلاقی میں داخل ہے اِس سے سامنے والے کا دل خوش ہوتا ہے۔
(3) مَذاق مَسْخَری کی عادت پالنے سے بچنا چاہیے کہ اِس سے وَقار جاتا رہتا ہے۔
(4) زِیادہ ہنسنے سے دِل میں غفلت پیدا ہوتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ ہمیں کِھل کِھلا کر ہنسنے اورقہقہہ مارنے سے بچائے اور مُسکرانے کی عادت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 703