Main Icon

رب کی بندے سے محبت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 386

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْآذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ اَحَبَّ اِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِىْ يَتَقَرَّبُ اِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أُحِبَّهُ فَاِذَا اَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِىْ بِهَا وَ اِنْ سَاَلَنِى لَاُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِىْ لَاُعِيْذَنَّهُ . ( )

عن ابى هريرة قال قال : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : ان الله قال من عادى لي وليا فقدآذنته بالحرب وما تقرب الى عبدى بشىء احب الى مما افترضت عليه وما يزال عبدى يتقرب الى بالنوافل حتى أحبه فاذا احببته كنت سمعه الذى يسمع به وبصره الذى يبصر به ويده التى يبطش بها ورجله التى يمشى بها و ان سالنى لاعطينه ولئن استعاذنى لاعيذنه . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اِعلانِ جنگ ہے ۔ میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا ۔ ‘‘ ( )

شرح حدیث

ولی کون ہے ؟ولی کی کئی تعریفات بیان کی گئی ہیں ۔ علامہ سَعْدُ الدین تَفْتَازَانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ولی وہ ہے جوممکنہ حد تکاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کی صفات کا عارف ہو ، ہمیشہ اُس کی عبادت کرتا ہواور ہرقسم کے گناہوں اور ( مباح اشیاء ) کی لذات اورشہوات میں مشغولیت سے بچتا ہو ۔ ‘‘ ( )
فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ولی وہ مؤمنعَارِف بِاللہہے جو طاعات کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور محرمات سے بچتا رہے وہ بھیاللہ
کی رضا کے لیے نہ کہ عزت وشہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے ، اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہوسکتا اگرچہ ہوا میں اڑے ۔ جوگی جے پال حالت کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں ، آگ برسائیں ، خود ہوا میں اڑیں ، کیا اس وقت وہ ولی تھے ؟ ( ہرگز نہیں ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ) ارشاد ہے : (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ) (پ۹ ،الانفال:۳۴ )اللہکے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ولیُّ ﷲوہ بندہ ہے جس کاتعالیٰ والی وارث ہوگیا کہ اسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے ۔ نیز حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے ، خدا کی پناہ ۔ یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو ربّ تعالیٰ کی طرف سے اِعلانِ جنگ دیاگیا ہے ایک سود خوار دوسرے دشمن اولیاء ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ولی ہونے کی وجہ سے عداوت :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’وَلِیُ اللہسے اس لئے عداوت وعِناد ( دشمنی وبغض رکھنا ) کہ وہوَلِیُ اللہہے یہ تو کفر ہے ۔ اسی کا یہاں ( حدیث پاک میں ) ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے اور نہ ہی فسق ۔ ‘‘ ( ) شارِحِ بخاری حضرت علامہ غلام رسول رَضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی جو کوئی ولی سے عداوت ( دُشمنی ) اس لئے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی ہے تو میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت پہنچاتے رہیں ۔ اُس شخص کی یہ رُسوائی دنیا میں ہے آخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے ۔اللہتعالیٰ مسلمانوں کو ایسی ذلت و رُسوائی سے پناہ دے ۔ ‘‘ ( )

¥
دو لوگوں سے رب تعالیٰ کا اعلان جنگ :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیائمہ کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامکے حوالے سے بیان فرماتے ہیں : ’’دو قسم کے گناہ گاروں سے ربعَزَّوَجَلَّنے اِعلانِ جنگ کیا ہے : ( 1 ) سُود خور ( 2 ) اَولیاء کا دشمن ۔ یہ دونوں ( یعنی سود خوری اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی ) بہت بڑے گناہ ہیں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندے سے جنگ کرنا بندے کے بُرے خاتمے پر دلالت کرتاہے اورجس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاِعلان جنگ کر دے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ ( )فرائض کی ادائیگی نوافل سے افضل ہے :فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیحدیث پاک کی شرح کے تحت فرماتے ہیں : ’’فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض ادا کرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں ۔ نیز فرائضماموربِہِہیں ( یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیاہے ) ان کا کرنے والا تابع فرمان ہے ۔ اس میں آمر ( یعنی حکم دینے والے ) کی عظمت ظاہر ہے ، اس میں عبودیت کا تذلل بھی ہے ۔ نیز فرائض اصل ہیں اور نوافل فرع ۔ حتی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو ( شخص ) فرائض ترک کئے ( ہوئے ) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین وآسمان کے درمیان معلق رہیں گے مقبول نہ ہوں گے ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا : جس کے فرائض قضا ہوگئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضاکرے ۔ ‘‘ ( )
¥
نوافل کب قربِ الٰہی کا سبب ہیں؟حدیثِ مذکور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوافل کے ذریعے بندہ اپنے رب کا مُقَرَّب ومحبوب بن جاتا ہے ۔ تو یہاں مطلقاً نوافل مراد نہیں بلکہ وہ نوافل مرادہیں جو فرائض کی ادائیگی کے بعد اضافی طور پر ادا کئے جائیں ۔ فرائض کی ادائیگی کے بغیرمحض نوافل کی وجہ سے نہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب مل سکتا ہے نہ وِلایت ۔

فقیہ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینوافل کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی کَمَا حَقُّہُ ادائیگی کے بعد نوافل کی ادائیگی کرتا ہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑے اور نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہو ۔ اس لئے کہ جو فرائض چھوڑے گا فاسق ہوگا وہ محبوب کیسے ہوگا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے اس لئے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص خدمت پر نوکر ہے جس کی تنخواہ لیتا ہے اورمتعلقہ خدمت کے سوا کچھ انجام نہیں دیتا وہ مشاہرے کا ضرورمستحق ہے اور وہ ایک اچھا نوکر بھی کہلائے گا مگر دوسرا نوکرمتعلقہ خدمات کے علاوہ مزید اپنی خوشی سے دوسری خدمات بھی انجام دیتا ہے یقیناً مالک اس دوسرے نوکر سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ محبت کرے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
فرائض وواجبات مع نوافل کی ادائیگی :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’صرف فرائض وواجبات ادا کرنے والوں اور فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والوں کی مثال اُن دو غلاموں کی طرح ہے کہ جنہیں اُن کا مالک پھل لانے کا حکم دے تو اُن میں سے ایک پھلوں کو ٹوکری میں رکھ کر پھولوں اور خوشبو وغیرہ سے سجا کر بڑے سلیقے سے اپنے مالک کی خدمت میں پیش کرے ۔ جبکہ دوسرا جھولی میں پھل لائے اور اپنے مالک کے سامنے زمین پر ڈال دے ۔ تو اِن دونوں ہی غلاموں نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی لیکن اہتمام سے حکم کی تعمیل کرنے والادوسرے کے مقابلے میں مالک کو زیادہ محبوب ہوگا ۔ اسی طرح جو بندہ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )محبوب الٰہی بننے کا انعام :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : جباللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے ذکر اور فرمانبرداری میں مشغول کرکے شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتا ہے ،

اس کے سب اعضاء کو نیکیوں میں لگا دیتا ہے ۔ قرآن پاک کی سماعت اور ذکرِ الٰہی کو اس کا محبوب ترین مشغلہ بنا دیتا ہے ۔ گانے باجے اور دیگر لغویات کو اس کے نزدیک بہت نا پسندیدہ کر دیتا ہے پھروہ جاہلوں سے اعراض اور فحش کلامی سے اجتناب کرتا ہے ، اپنی نظروں کو حرام اشیاء سے بچاتا ہے ، پس اس کا دیکھنا غور وفکر و عبرت پر مبنی ہوتا ہے ، وہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی قدرت پر دلیل پکڑتا ہے ۔ ‘‘
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربّعَزَّوَجَلَّکی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرے اور اس کی عظمت کا اقرار کرے ، اپنے ہاتھ ، پاؤں صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کے مطابق استعمال کرے ، کسی فضول کام کی طرف نہ چلے ، اپنے ہاتھوں سے کوئی بے کار کام نہ کرے ، اس کی حرکات وسکناتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہوں ، جب بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی تمام حرکات وسکنا ت اور افعال پر ثواب دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
کان ، آنکھ ، ہاتھ اور پاؤں ہونے کے معانی :حدیث پاک میں فرمایا گیا ’’میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ الخ ‘‘ علمائے کرام اور شارحین نے اس کے کئی معنی بیان فرمائے ہیں ۔ شارح حدیث علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کے دو معنی بیان فرمائے ہیں : ( 1 ) پہلا معنی یہ ہے کہ میں اس کے کان آنکھ اورہاتھ اور پاؤں کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہوں ۔ ( 2 ) دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب وہ اپنے ہاتھ ، کان یا پاؤں سے کوئی عمل کرتا ہے تو میری یاد اس کے دل میں بسی ہوتی ہے جب وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے تو غیر کے لیے کوئی کام نہیں کرتا اس کے سب کام میری رضا کے لیے ہوتے ہیں ۔ ( ) عمدۃ القاری میں ہے : ’’یہ حدیث اپنے مجازی معنیٰ پر محمول ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندے کی اِس طرح حفاظت فرماتا ہے جیسے بندہ اپنے اعضاء کی خودحفاظت کر تااورانہیں ہلاکت سے بچاتا ہے ۔ ‘‘ امام خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں :

اِس حدیث میں سمجھانے کے لیے اس طرح مثال دی گئی ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاء ( یعنی ہاتھ زبان کان اور پاؤں ) سے ہونے والے نیک اُمور کی پہچان کرا دیتا ہے پھر اُن نیک اَعمال کی محبت اُس کے دل میں ڈال کر انہیں اس پرآسان کر دیتا ہے اوران اعضاءکو اپنی ناراضی والے کاموں مثلاً بُری باتیں سننا ، ممنوع اشیاء کی طرف نظر کرنا ، حرام اشیاء کو پکڑنا ، ناجائز اُمور کی طرف چلنا وغیرہ سے محفوظ کر دیتا ہے یا پھر اس پراس طرح آسانی فرماتا ہے کہ اس کی دعائیں اور حاجتیں جلدپوری فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’اولیاء ‘‘ کے 6 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنا دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنے والا دراصلاللہ عَزَّ وَجَلَّکا دشمن ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور جس کے خلاف خود ربّعَزَّ وَجَلَّاِعلانِ جنگ فرمادے یہ اس کے بُرے خاتمے اور دنیا وآخرت میں کامیاب نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے اُن کی ولی ہونے کی وجہ سے عداوت یعنی دشمنی رکھنے کو علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے کفر لکھا ہے ۔
(4) فرائض کی ادائیگی ربّ
عَزَّ وَجَلَّکو بہت محبوب ہے جبکہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی ادائیگی بھی ربّعَزَّ وَجَلَّکے قرب کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔
(5) جو نوافل فرائض کی ادائیگی کے بعد اداکیے جائیں وہی قُرب الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
(6) جس بندے سے ربّ
عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے اسے خلافِ شرع کاموں سے محفوظ فرمادیتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی پابند بنائے اور ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے اور اپنے اولیا کی دشمنی اور بغض سے محفوظ فرمائے ، ہمیں

فقط اُن کی محبت نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 386