- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- رب کی بندے سے محبت
- حدیث نمبر 388
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَاُ لِاَصْحَابِهِ فِىْ صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ(قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوْا ذَلِكَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : سَلُوْهُ لِاَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذٰلِكَ؟ فَسَاَلُوْهُ فَقَالَ : لِاَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمٰنِِ فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقْرَاَ بِهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَخْبِرُوْهُ اَنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّهُ. ( )
عن عائشة رضی اللہ عنہا أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعث رجلا على سرية فكان يقرا لاصحابه فى صلاتهم فيختم بـ(قل هو الله احد) فلما رجعوا ذكروا ذلك لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : سلوه لاى شىء يصنع ذلك؟ فسالوه فقال : لانها صفة الرحمن فانا احب ان اقرا بها فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اخبروه ان الله تعالی يحبه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کوکسی لشکر کا امیر بناکر بھیجا ۔ وہ امیر اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتا تو اپنی قراءت کا اختتام (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ)پر کرتا ۔ جب وہ لشکر واپس لوٹا تو اس کے ساتھیوں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس بات کا ذکر کیا ۔ رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اس سے پوچھو ! وہ ایسا کیوں کرتاتھا؟ ‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : ’’اس میں رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکی صفت کا بیان ہے اس لیے میں اس کی تلاوت پسند کرتا ہوں ۔ ‘‘ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اسے خبر دے دو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
غزوات وسرایاکسے کہتے ہیں؟دعوت اسلامی کے اشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘ جلداول ، ص۴۶۹ پر ہے : ’’جن جنگوں میں حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود شرکت فرمائی انہیںمُحَدِّثِیْنْکی اِصطلاح میں’’مَغَازِیْ‘‘ اور’’غَزَوَاتْ‘‘ کہا جاتاہے اور جن میں آپ خود شریک نہ ہوئے بلکہ اپنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو امیر بنا کر بھیجا انہیں’’سَرَایَا‘‘ اور ’’بُعُوْثْ‘‘ کہا جاتاہے ۔ اِن چاروں اِصطلاحات میں مختصر سا فرق ہے ۔ ’’مَغَازِیْ‘‘ جمع ہے ’’مَغْزیٰ‘‘ کی ، جس کے معنی غازیوں کے اوصاف کو بیان کرنا ہے جبکہ ’’غَزَوَاتْ‘‘ جمع ہے ’’غَزْوَہْ‘‘ کی ۔ اِسی طرح ’’سَرَایَا‘‘ جمع ہے
’’سَرِیَّہْ‘‘ کی ، اِس سے مراد وہ لشکر ہے جو کم از کم پانچ افراد پر مشتمل ہو ۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کم از کم سو اَفراد پر مشتمل ہو تو ’’سَرِیَّہْ‘‘ کہلائے گا ۔ ’’سَرِیَّہْ‘‘ کے اَفراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۴۰۰چار سوہوتی ہے اور بعض علماء کے نزدیک ۵۰۰پانچ سو جبکہ ’’بُعُوْثْ‘‘ جمع ہے ’’بَعْثْ‘‘ کی ، اِس سے مراد وہ فوجی مہم ہوتی ہے جو لشکر سے کچھ منتخب اَفراد کو الگ کرکے بھیجی جائے ۔ ‘‘ ( )
¥سورۂ اخلاص پر قراءت کا اختتام :صحابی رسولرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں بیان ہوا کہ وہ اپنی قراءت کا اختتام سورۂ اخلاص کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی ہر نماز کی آخری رکعت میں اور جماعت کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد’’قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ‘‘ پڑھا کرتے تھے ۔ قراءت ختم کرنے کے بعد کے یہ ہی معنی ہیں ، یہ مطلب نہیں کہ ہررکعت میں اور ( کوئی دوسری ) سورت پڑھ کر’’قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ‘‘ پڑھتے تھے کہ یہ تو مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جنگ میں بھی نماز باجماعت :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو کسی جنگی مہم کے لیے بھیجا اور وہاں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے نماز باجماعت ادا کی ۔ اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نماز باجماعت کی بہت اہمیت ہے ، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانعام طور پر تو نماز باجماعت کا اہتمام فرمایا ہی کرتے تھے لیکن جنگوں میں بھی نماز باجماعت کو کبھی ترک نہیں فرمایا کرتے تھے ۔ کاش ہم بھی نماز پنجگانہ باجماعت پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے والے بن جائیں ۔ نماز باجماعت کی فضیلت پر مشتمل 2 فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نمازپڑھنے سے ستائیس درجے افضل ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’جس نے کامل وضو کیا اور کسی فرض نَماز کی ادائیگی کے
لئے چلا اور نَماز باجماعت ادا کی تو اس کے گنا ہ معاف کردئیے جائیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥سورۂ اخلاص میں صفاتِ باری تعالیٰ :سورۂ اخلاص میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات کا واضح بیان ہے اور ان صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی اس بات کو بیان فرمایا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ سورتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان صفات پر مشتمل ہے جو اس کے لیے واجب ہیں جیسے توحید اور ان صفات پر بھی مشتمل ہے جو اس کے لیے مخلوق کی جہت سے جائز ہیں جیسے اس کی مخلوق کا اس کی طرف محتاج ہونا ، تمام امور میں اس کی ذات کا قصد کرنا ، اور ان صفات پر بھی مشتمل ہے جو باری تعالیٰ کے لیے محال ہیں جیسے وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّظالم و سرکشی کرنے والوں کی ان تمام باتوں سے پاک ومنزہ اور بہت بلند ہے جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہیں ۔ علامہ دمامینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ صحابی کے اس قول کہ اس سورت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات کا بیان ہے ۔ اس میں دواحتمال ہیں ، ایک تو یہ کہ اس سورت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات کو بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ جب کسی وصف کو ذکر کیا جائے تو اسے اس ذات کے ذکر سے تعبیر کردیا جاتا ہے کیونکہ وصف ذات کے ساتھ ملا ہوتا ہے اگرچہ وہ ذکر وصف نہیں ہوتا ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہوسکتا ہے انہوں نے اس سے غیر کی نفی مراد لی ہو کہ اس سورت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایسی صفات کا بیان ہے جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں ۔ ‘‘ ( ) صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’احادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کو تہائی قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے یعنی تین مرتبہ اس کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے ۔ ایک شخص نے سیّدِ عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کیا کہ مجھے اس سورت سے بہت محبّت ہے فرمایا : اس کی محبّت تجھے جنّت میں داخل کرے گی ۔ شانِ نزول : کفّارِ عرب نے سیّدِ عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاللہربُّ العزّت وعزّ وعلا تبارک وتعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے سوال کئے : کوئی کہتا تھا کہاللہکا نسب کیا ہے ؟ کوئی کہتا
تھا کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا لوہے کا ہے یا لکڑی کا ہے کس چیز کا ہے ؟ کسی نے کہا وہ کیا کھاتا ہے ، کیا پیتا ہے ؟ ربوبیّت اس نے کس سے ورثہ میں پائی اور اس کا کون وارث ہوگا ؟ ان کے جواب میںاللہتعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اپنے ذات و صفات کا بیان فرما کر معرفت کی راہ واضح کی اور جاہلانہ خیالات و اوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات و صفات کے اَنوار کے بیان سےمُضْمَحِل( کمزور ) کر دیا ۔ ‘‘ ( )
¥صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا استفسار :جنگ سے واپسی پر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بارگاہِ رسالت میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس صحابی کے بارے میں استفسار کیا ۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ۔ چنانچہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یا تو حکایۃً کہا گیا یا شکایۃً کیونکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں کوئی سورت مقرر نہ کرتے تھے ، فرائض میں یہ مکروہ بھی ہے ۔ ہاں نوافل میں سورتوں کا تقرر جائز ہے ۔ مثلاً کوئی شخص ہمیشہ تہجد میں’’قُلْ هُوَ اللَّه‘‘ ہی پڑھا کرے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کی شکایت اُستاد سے مُرید کی شکایت پیر سے حتی کہ اپنے امام کی شکایت سلطان اسلام سے کرسکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اصلا ح ہے ۔ ‘‘ ( )
¥کام کرنے والے سے پوچھنے کی حکمت :جب صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اس شخص کے متعلقرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خبر دی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے اس کی وجہ پوچھنے کا حکم دیا ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس کا سبب یہ ہے تاکہ اس کی نیت اور اس کے ارادے کے مطابق اس کی جزا کو مرتب کیا جاسکے ۔ اس میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اعمال کا دارومدار ان کے مقاصد پر ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( ) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو حکم دیا کہ اس سے پوچھیں
کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اس سے پوچھا اوران کے جواب دینے کے بعد سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ’’اسے خبر دے دو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ فریقین کا بیان لے کر حاکم کو فیصلہ کرنا چاہیے ۔ فتویٰ اور ہے ، فیصلہ کچھ اور ۔ فتویٰ صرف ایک فریق کے بیان پر دیا جاسکتا ہے ، دیکھو داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنے بکریوں والے فرشتوں میں سے ایک کا بیان سن کر فتویٰ دے دیا تھا ۔ یہ حدیث تعلیم فیصلہ کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( )
¥قرآن پاک سے اُلفت ومحبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانقرآن پاک سے بہت محبت کیا کرتے تھے ، نماز وغیرنماز دونوں میں اس کی ذوق وشوق سے تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ہم بھی قرآن پاک سے محبت کا زبانی دعویٰ تو ضرور کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ہمارا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا ہے ، کیونکہ ہماری آج ہماری اکثریت قرآن پاک کو برکت کے لیے تو غلاف میں لپیٹ کر اپنے گھروں میں رکھتی ہے مگر باوضو ہوکر اس کی تلاوت کی سعادت حاصل نہیں کرتی ۔ کاش ہم صبح وشام تلاوت قرآن کرنے والے بن جائیں ، اس کے احکام پر عمل کرنے والے بن جائیں ۔ تلاوت قرآن کریم کے فضائل پر2 فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ( 1 ) ’’قرآن پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا ۔ ‘‘ () (2 ) ’’روزہ اور قرآن بندے کے لئے شفاعت کریں گے ، روزہ عرض کرے گا : یا ربعَزَّ وَجَلَّ! میں نے اسے دن میں کھانے اور پینے سے روک دیا تھا لہذا میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرماجبکہ قرآن کہے گا : اے ربعَزَّ وَجَلَّ! میں نے اسے رات کو سونے سے روک دیا تھا لہذامیری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما ۔ پھران دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی ۔ ‘‘ ( )
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت :حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس صحابی کے لیے بشارت دی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتا ہے ، دلیل الفالحین میں اس کی چند وجوہات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ چنانچہ علامہ دمامینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ہوسکتا ہے یہ مراد ہو کہ چونکہ یہ اس سورت کی قراءت کرنے سے محبت کرتا ہے اس لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے اور یہ بھی ہوسکتاہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے اس لیے محبت فرماتا ہے کیونکہ اس کا یہ کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اپنے ربعَزَّ وَجَلَّکے ذکر اور اس کے اعتقاد کے لیے اس سے محبت کرتا ہے ۔ “یہ بھی ہوسکتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا اپنے بندے سے محبت فرمانا اس کے لیے اس بات کی خوشخبری ہو کہ اس کا ربعَزَّ وَجَلَّاس سے راضی ہے ۔ نیز حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مضارع کا صیغہ بیان فرمایا جس کی یہ تعبیر ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا اس کے ساتھ دوام اور استمرار کے ساتھ یعنی مستقل رہتی ہے ۔ نیز اس حدیث پاک میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ قرآن پاک کا بعض حصہ ایسا بھی ہے کہ جس کی طرف بندے کا دل مائل ہوجاتا ہے اور وہ اس کی کثرت سے تلاوت کرتا ہے ۔ لہذا اسے قرآن پاک کے بعض دیگر حصوں کو چھوڑدینے میں شمار نہیں کیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥قرآن سے محبت ، محبت اِلٰہی کا ذریعہ :اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتا ہے ۔مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’یا تو اس سورت سے محبت کرنے کی بنا پر یاﷲتعالیٰ سے محبت کرنے کی بناء پر ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کی آیات ذات و صفاتِ الٰہی سے محبت کرناﷲتعالیٰ کے محبوب بن جانے کا ذریعہ ہے ۔ ایسے ہی حضور ِانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت بلکہ اُن کی اطاعت خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے : (αفَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ) (پ۳ ،آل عمران: ۳۱ ) (ترجمۂ کنزالایمان: تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔ ) یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریمصَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم سب بندوں کے ایسے حالات سے خبردار ہیں جن کی خود ہمیں بھی خبر نہیں ۔ محبوبِ خدایا مردودِ بارگاہ ہونا ایک ایسی چھپی ہوئی حالت ہے جو کسی دلیل یا علامت سے معلوم نہیں ہوسکتی مگر حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر بھی خبردار ہیں ۔ اس ایک جملے میں اس کے تقویٰ پر استقامت ، ایمان پر خاتمہ ، قبر و حشر میں نجات ، جنت میں داخلہ ، سب کی خبردے دی گئی ۔ ‘‘ ( )
¥رب تعالٰی کے محبوب صحابی :مذکورہ حدیث پاک میں جن صحابی کا ذکر خیر ہے کہ وہ سورۂ اخلاص پر قراءت کا اختتام فرمایا کرتے تھے ، اِن کا نام کرز بن زھدم انصاری تھا ۔ انہیں بارگاہ رسالت سے رب تعالیٰ کے محبوب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ بعض نے ان کا نام کلثوم بن زھدم بھی ذکر کیا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ان صحابی کا نام کلثوم بن ھدم تھا لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ ان کا وصال تو ابتدائے ہجرت میں قتال کی آیات نازل ہونے سے پہلے ہی ہوگیا تھا ۔ علامہ ابن عبد البررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” حضرت سیدنا کلثوم بن ھدمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت بزرگ صحابی تھے ، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت سے قبل ہی مدینہ منورہ میں ایمان لے آئے تھے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو سب سے پہلے ابتدائی چار دن اِن ہی کے گھر ٹھہرے تھے ، بعدازاں حضرت سیدنا ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے گھر تشریف لے گئے ۔ حضرت سیدنا کلثوم بن ھدمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا وصال بدر سے قبل ہوگیا تھا ، ہجرت کے بعد انصار میں سب سے پہلے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہی وصال ہوا ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’رب کریم کی رضا ‘‘ کے 11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 11مدنی پھول
(1) سفر ہو یا حضر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز باجماعت کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے ۔
(2) تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ اور محبوب بندے ہیں مگر بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو بارگاہِ ربُّ العزت اور بارگاہِ رِسالت میں خصوصی مقام ومرتبہ بھی حاصل تھا ۔
(3) شاگرد کی شکایت اُستاد سے مُرید کی شکایت پیر سے حتی کہ اپنے امام کی شکایت سلطانِ اسلام سے کرسکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اِصلا ح ہے جبکہ اِصلاح ہی کی نیت ہو ۔
(4) اعمال کا دارومدار مقاصد اور نیتوں پر ہے ۔
(5) سورۃ اخلاص میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مختلف صفاتِ کا بیان ہے ۔
(6) قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں کے مختلف فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، سورۂ اخلاص کی بھی بہت فضیلت ہے ، تین بار سورۂ اخلاص کو پڑھنا پورے قرآن کے برابر ثواب ہے ۔
(7) جب بنده اخلاص كے ساتھ کوئی عمل کرتاہے تو وہ انعامات ربانی کا مصداق بن جاتاہے ۔
(8) قرآن اور صاحب قرآن سے محبت میں دارَین کی فلاح ہے ۔
(9) جب بھی کسی معاملے کا فیصلہ کرنا ہو تو فریقین کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے ۔
(10) جس نے قرآن کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام تو ایسا شخص کل بروزِ قیامت اپنے خاندان کے دس ایسے لوگوں کی شفاعت کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا ہوگا ۔
(11) قرآنِ پاک سے محبت کرنے والا بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا محبوب بن جاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے ، تلاوتِ قرآن کے سبب محبت الہی نصیب فرمائے ، ہمیں قرآنِ پاک کے حلال کو حلال جاننے اور حرام کو حرام جاننے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 388