Main Icon

باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 538

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ عَبْدِ اللہ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيْنِي الْعَطَاءَ فَاَقُوْلُ:اَعْطِهِ مَنْ ھُوَ اَفْقَرُ اِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ:خُذْهُ اِذَاجَاءَكَ مِنْ هٰذَا الْمَالِ شَیْ ءٌ وَاَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ. فَتَمَوَّلْہُ فَاِنْ شِئْتَ کُلْہُ وَاِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْ بِہِ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ. قَالَ سَالِمٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللہ لَایَسْاَلُ اَحَدًا شَیْئًا وَلَایَرُدُّ شَیْئًا اُعْطِیَہُ.

عن سالم بن عبد اللہ بن عمر عن ابیہ عبد اللہ بن عمر عن عمر رضي الله عنهم قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول:اعطه من ھو افقر اليه مني فقال:خذه اذاجاءك من هذا المال شی ء وانت غير مشرف ولا سائل فخذه. فتمولہ فان شئت کلہ وان شئت تصدق بہ وما لا فلا تتبعه نفسك. قال سالم: فکان عبد اللہ لایسال احدا شیئا ولایرد شیئا اعطیہ.

حدیث ترجمہ

حضرت سالِم بن عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد حضرت عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مجھے کچھ عطا فرماتے تو میں عرض کردیا کرتا کہ آپ یہ مال اسے عطا فرمادیں جو آپ کے نزدیک مجھ سے زیادہ حاجت مندہو۔ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے:’’جب تمہارے پاس کوئی مال بغیر طمع اور بغیر مانگے آئے تو اسے قبول کرلواوراپنی مِلک و مال میں داخل کرلو۔ چاہے تو خود کھالو اور چاہے تو صدقہ کردو اور اگر اس طرح (یعنی بغیر طمع اور بغیر مانگے) مال نہ آئے تو اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔‘‘(راوی حدیث) حضرت سَیِّدُنَا سالِم بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ’’(ان کے والد ماجد) حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکسی سے کچھ مانگا نہ کرتےتھے لیکن جو شے بغیر مانگےآجاتی اسے رد (یعنی لوٹایا) بھی نہ کرتے تھے۔‘‘

شرح حدیث

مالی حقوق کی ادائیگی:امام طحاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو جو مال عطا فرمایا تھا وہ صدقہ نہیں تھا بلکہ یہ وہ مال تھا جسے آپ مال دار اور محتاج مسلمانوں پرتقسیم فرمایا کرتے تھےاورآپ یہ مال اُن کواُن کی محتاجی کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کے حقوق کی وجہ سے دیاکرتے تھے۔مناقب سَیّدُنا فاروقِ اعظم :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:’’یہ حدیث پاک امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت، اُن کے زُہد، دُنیوی مال ودولت کی حرص نہ ہونے، اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے پر اِیثار کرنے پر دلالت کرتی ہے۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظم
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُواقعی دنیا سے بالکل بے رغبت رہا کرتے تھے۔ آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی متقی،پرہیزگار اور زُہدوتقویٰ رکھنے والے تھے۔ مذکورہ حدیث پاک میں بھی آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے دنیا سے بے رغبتی اور زُہدوتقویٰ کے اعلیٰ مراتب کا بیان ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃنے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرتِ طیبہ پر’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘کے نام سے دو جلدوں میں ایک ضخیم کتاب مرتب کرنے کی سعی کی ہے جس میں آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی حیاتِ طیبہ کے زُہدوتقویٰ سمیت کئی گوشوں کواَحسن انداز میں بیان کیاگیا ہے، خود بھی مطالعہ کیجئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیے۔ہدیہ قبول کرنا جائز ہے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’جومال تمہیں ملے حالانکہ تم اس کا پیچھانہیں کرتےاورنہ ہی اس کی خواہش کرتے ہوتواس میں کوئی حرج نہیں ہے ورنہ اس کے پیچھے پیچھے مت پڑو۔ طلب کرنے کے بغیراگر حلال مال ہاتھ لگے تو اس کولے لینابہتر ہے اورامام(یعنی حاکم) کا عطیہ مسترد کردینا ادب کے خلاف ہے۔صحابہ کرامرَضِیَ اللہ عَنْہُمْہدایا اور نذرانے قبول کرلیا کرتے تھے،حضرت عثمانِ غنیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکہا کرتے تھے: بادشاہوں کے عطایاتو لذیذ گوشت جیسے ہیں۔کونسا مال قبول کرنا منع ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں:’’جومال حرام ذریعے سے حاصل ہواُسے قبول کرناجائزنہیں جیساکہ کوئی شخص اگرکسی سے کوئی مال غصب کرےاورپھربعینہٖ وہ مال کسی دوسرے کودے دےاورلینےوالےکومعلوم ہوکہ یہ غصب،چوری یاخیانت کامال ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ مال واپس لوٹادے۔‘‘سیدنا فاروق اعظم کا جذبہ ایثار:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:’’صحبتِ مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ تاثیر تھی کہ حضرت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُصِرف غنی نہیں بلکہ غنی تَر وغنی گَر ہوگئے، مانگنا تو کیا بغیر مانگے آتی ہوئی چیز میں بھی ایثار ہی کیاکرتےاور دوسروں کو اپنے پر ترجیح دیتےاوراپنے دورِ خلافت میں جب فارس اور روم کے خزانے مدینہ منورہ لاتےہیں تو اس وقت بھی خود ایک قمیض ہی دھو دھو کر پہنتے ہیں۔‘‘چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن ابو جمیلہ انصاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو نماز جمعہ کے لیے تاخیر ہوگئی، جب آپ تشریف لائے تو لوگوں سے معذرت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اس پہنے ہوئے کپڑے کو دھونے کی وجہ سے میں لیٹ ہوگیا کیونکہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی کپڑا نہیں ہے۔‘‘لمحہ ٔفکریہ۔۔۔!میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکیسے دُنیوی مال ومتاع سے بے رغبت تھے۔آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُزُہدوتقویٰ کو پسند فرماتے تھے۔ دنیوی عیش وعشرت میسر ہونے کے باوجود اسے اختیار نہیں فرماتے تھے۔مذکورہ حدیث پاک میں ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے، کاش! ہم بھی امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے والے بن جائیں، دنیا سے بے رغبت ہوجائیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینمدنی گلدستہسَیِّدُنَا’’عمر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی متقی وپرہیزگار اور زُہدوتقویٰ رکھنے والے تھے۔
(2) بغیر خواہش اور بغیر طلب کے جو حلال مال ملے اسے لے لینا جائزہے۔
(3) جومال حرام طریقے سے حاصل ہواُسے قبول نہ کیاجائے،لینےوالےکوا گرمعلوم ہوجائے کہ یہ غصب، چوری یاخیانت کامال ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ مال واپس لوٹادے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 538