- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- حدیث نمبر 1215
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَهُ اِلَّا الصِّيَامَ، فَاِنَّهُ لِي وَ اَنَا اَجْزِيْ بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَاِذَا كَانَ يَومُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفَثْ وَلَا يَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّهُ اَحَدٌاَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ:اِنِّي صَائِمٌ،وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِم ِاَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،لِلصَّائِم ِفَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا،اِذَ اَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَ اِذَالَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
وَفِی رِوَايَةٍ لَهُ:يَتْرُكُ طَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ اَجْلِي، الصِّيَامُ لِی وَاَنَا اَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا. وَ فِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِم: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ يُضَاعَفُ،الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا اِلٰی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ،قَالَ اللهُ تَعَالٰی: اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّهُ لِي وَاَنَااَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ اَجْلِي، لِلصَّائِم ِفَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَ فَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوْفُ فِيهِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِّيْحِ الْمِسْكِ.
عن ابی هريرة رضی اﷲ عنہ قال، قال رسول الله صلی اﷲ علیہ و سلم: قال الله عز وجل: كل عمل ابن ادم له الا الصيام، فانه لي و انا اجزي به، والصيام جنة، فاذا كان يوم صوم احدكم فلا يرفث ولا يصخب فان سابه احداو قاتله فليقل:اني صائم،والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم اطيب عند الله من ريح المسك،للصائم فرحتان يفرحهما،اذ افطر فرح بفطره و اذالقي ربه فرح بصومه.
وفی رواية له:يترك طعامه، وشرابه، وشهوته من اجلي، الصيام لی وانا اجزي به، والحسنة بعشر امثالها. و فی رواية لمسلم: کل عمل ابن ادم يضاعف،الحسنة بعشر امثالها الی سبع مائة ضعف ،قال الله تعالی: الا الصوم فانه لي وانااجزي به ، يدع شهوته وطعامه من اجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره و فرحة عند لقاء ربه، ولخلوف فيه اطيب عند الله من ريح المسك.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:ابن آدم کا ہر عمل اس کےلئےہے سوائے روزہ کے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے،تو جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ نہ بے حیائی کی بات کرے نہ جھگڑا کرے،اگر اسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزےسےہوں۔‘‘پھر نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! روزہ دارکے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں،ایک خوشی افطار کے وقت کی او رایک خوشی ربّ سے ملاقات کے وقت کی۔“ایک اور روایت میں ہے کہ ”ر وزہ دار اپنے کھانے،پینے اور خواہش کو میری رضا کےلئے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ا ورہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ” ابن آدم کے ہر بھلے کام کاثواب دس گنا سےلے کر سات سوگنا تک بڑھا دیا جاتاہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:”سوائے روزہ کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، وہ اپنے کھانے اور شہوت کومیری وجہ سے ترک کرتا ہے۔“ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت کی خوشی اور ایک اپنے ربّ سے ملاقات کی خوشی اور اس کے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک مشک کی خوشبو سے عمدہ ہے۔“
شرح حدیث
روزہ میرے لئے ہے :اﷲعَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے:”روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“ اگرچہ تمام اعمال و عباداتاﷲعَزَّ وَجَلَّہی کے لئے ہوتے ہیں مگر روزہ کو چند وجوہ سے امتیاز حاصل ہے اس لئے اسے بطورِ خاص بیان کیا گیا۔فقیہِ اعظم مفتی محمد شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نمازمخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ہیئت کے ساتھ مخصوص ارکان کی ادائیگی کا نام ہے جسے دیکھ کر ہر شخص جان سکتاہے کہ یہ شخص نماز پڑھ رہا ہے ،حج کابھی یہی حال ہے بلکہ اس کے لئے سفر، گھر سے باہررہنا اورمجمعِ عام میں اس کی ادائیگی سے ہرشخص جان سکتاہے کہ یہ حج کرنے جا رہا ہے،حج ادا کر رہا ہے۔زکوٰۃ فقرا و مساکین کو دی جاتی ہے اس پر بھی دوسرے کامطلع ہو جانا لازم ہے،مگرروزہ ایسی عبادت ہے جس میں کوئی ایسا فعل نہیں جس کی وجہ سے لوگ اس پرمطلع ہوں، پھرتنہائی میں بہت سے ایسے مواقع ملتے ہیں کہ اگر آدمی کھا پی لے تو کسی کو خبر نہ ہو گی ، اس لئے بہ نسبت اور عبادتوں کے روزے میں ریا کے شائبہ کادخل نہیں۔ بندہ روزہ رکھتاہے توخاصاﷲکی رضا کے لئے رکھتاہے، اسی کو فرمایا:”روزہ میرے لئے ہےمیں اس کی جزا دوں گا۔“بادشاہ جب کسی کو کچھ دیتاہےتو اپنی شان کے مطابق دیتا ہے وہ بھی جب کسی پسندیدہ کام پر خوش ہو کر دیتا ہے تو پھر اس کا اندازہ کون کرسکتاہے ۔“( )مرآۃ المناجیح میں ہے:”دوسری عبادتوں میں رِیا ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے اور ان میں کچھ کرنا ہوتا ہےمگرروزہ میں ریا نہیں ہوسکتی کہ نہ اس کی کوئی صورت ہے اور نہ اس میں کچھ کرنا ہے، جو اندر باہر کچھ نہ کھائے پیے وہ یقیناً مخلص ہی ہے،ریا کار گھر میں کھا کر بھی روزہ ظاہر کرسکتا ہے۔ کل قیامت میں دوسری عبادتیں اہلِ حقوق چھین سکتے ہیں حتی کہ قرض خواہ مقروض سے سات سو نمازیں تین پیسہ قرض کی عوض لے لے گا،مگر روزہ کسی حق والے کو نہ دیا جائے گا۔“روزے کی جزا میں خوددوں گا:اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:” روزے کی جزا میں خود دوں گا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی روزہ کا بدلہ میں براہِ راست خود دوں گا، میں دینے والا روزہ دار لینے والا جو چاہوں دوں اس کی جزا مقرر نہیں، یا روزہ کا بدلہ میں خود ہوں یعنی تمام عبادات کا بدلہ جنت ہے اور روزہ کا بدلہ جنت والا ربّ۔“فیوض الباری میں ہے: ”روزہ ایک پُرخلوص عبادت ہے،اس لئےاﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہےکہ ہرنیک عمل کا ثواب بذریعہ ملائکہ دیا جاتاہے،مگر روزہ کا ثواب میں عطا فرتا ہوں کیونکہ روزہ خالص میرے لئے رکھا جاتا ہے۔“روزہ دار کے لئے دو خوشیاں:”روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، افطار کے وقت کی خوشی اور رب سےملاقات کی خوشی۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”سُبحانَ اﷲ! کیسا پیارا فرمان ہے روزہ دارکو افطار کے وقت روحانی خوشی بھی ہوتی ہے کہ عبادت ادا ہوئی ربّ تعالیٰ راضی ہوا، سینہ میں نور، دل میں سرور ہوااورجسمانی فرحت بھی کہ سخت پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی بہت ہی فرحت کا باعث ہے اورتیز بھوک میں ربّ تعالیٰ کی روزی بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے اوراِنْ شَآءَ اﷲمرتے وقت بھی بروزِ قیامت بھی ربّ تعالیٰ کی مہربانی دیکھ کر روزہ دار کو جو خوشی ہوگی وہ تو بیان سے باہر ہے،وہ کریم فرمائے گا کہ دنیا میں جو میں نے کہا وہ تو نے کیا اب جو تو کہے گا وہ میں کروں گا،اﷲ تعالٰیخیریت سے وہ وقت دکھائے۔“روزہ دار کے منہ کی بو :”روزہ دار کے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مشک سے بڑھ کر ہے۔“اس بو سے مراد وہ بو ہے جو بھوک کی حالت میں معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ شارحینِ حدیث نے اس فرمان کے کئی معانی بیان کئے ہیں۔فیوض الباری میں ہے:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّآخرت میں اس بدبو کا بدلہ اورثواب خوشبو سے عطا فرمائے گا جو مشک سے زیادہ عمدہ ہوگی۔قیامت میں جب قبروں سے اٹھیں گے توروزہ دارکے منہ سے ایسی خوشبو آئےگی جومشک سے بھی بہتر ہوگی۔دنیا ہی میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک اس بو کی قدر مشک سے زیادہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’ماہِ رمضان‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) روزہ ڈھال ہے، دنیا میں نفس و شیطان کے شر سے اور آخرت میں جہنم کی آگ سے بچائے گا۔
(2) بُری باتیں اور شور و غل شریعت میں ویسے بھی ممنوع ہیں مگر روزہ کی حالت میں اورزیادہ ممنوع لہٰذا روزہ دار کو ایسی تمام باتوں سے پرہیزکرنا چاہیے۔
(3) اگرروزہ دار سے کوئی لڑے یا گالی دے تو روزہ دار کوچاہیے کہ عفو ودرگزر سے کام لے اور کہہ دے کہ ”میں روزہ دارہوں“امیدہےیہ سن کرسامنے والاشرمندہ ہوکر اپنی حرکتوں سے باز آجائے گا۔
(4) ایک نیکی کا ثواب کم سےکم دس گنا اورزیادہ سےزیادہ سات سو گنا ہے،اگراﷲ عَزَّ وَجَلَّاور زیادہ دے تو اس کا کرم ہے۔
(5)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک روزے دار کے منہ کی بو مشک سےبڑھ کر ہے۔
(6) بروزِ قیامت روزہ دار جب اپنی قبروں سے اٹھیں گے توان کے منہ سے ایسی خوشبو آئےگی جومشک سے بھی بہتر ہوگی ۔
(7) تمام عبادات واعمالِ صالحہ کی جزا فرشتوں کے ذریعے دلوائی جائے گی مگر روزہ وہ عظیم عبادت ہے کہ اس کاثواباﷲ عَزَّ وَجَلَّخود عطا فرمائے گا۔
(8) روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں،افطار کے وقت روحانی و جسمانی خوشی اور بروزِ قیامت دیدارِ الٰہی کی عظیمُ الشّان خوشی ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی روزے کی برکتیں نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1215