Main Icon

باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 708

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اِبْرَاهِيْمَ وَيُقَالُ اَبُوْ مُحَمَّدٍ وَيُقَالُ اَبُوْ مُعَاوِيَةَ عَبدِ اللَّهِ بْنِ اَبِيْ اَوْفٰي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيْجَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَابِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَاصَخَبَ فِيْهِ وَلَا نَصَبَ.

عن ابي ابراهيم ويقال ابو محمد ويقال ابو معاوية عبد الله بن ابي اوفي رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بشر خديجةرضي الله عنهاببيت في الجنة من قصب لاصخب فيه ولا نصب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ابراہیمعبداللّٰہبن ابی اوفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجنہیں ابو محمد اور ابو معاویہ بھی کہا جاتا ہے،ان سےمروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنَاخَدِیْجَۃُ الْکُبْرٰیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو جنت میں موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی جس میں نہ شوروغل ہوگا اور نہ ہی تھکاوٹ۔

شرح حدیث

جنتی گھر کی کیفیت:اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغارِ حرامیں مصروفِ عبادت تھے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکھانا لے کر آئیں تو اس وقت یہ بشارت پائی۔جنت میں موتی سے بنا یہ گھر ایسا ہوگا جس میں کوئی زحمت اور تکلیف نہ ہوگی برخلاف دنیا کے گھروں کے کہ وہ اس طرح نہیں ہوتے یا یہ مطلب ہے کہ گھر کے بنانے میں کوئی شور،فریاد اور زحمت برداشت کرنا نہیں ہوگا کیونکہ گھر بنانے میں تکلیف اٹھانی اور دوسروں سے مدد مانگنی پڑتی ہےجبکہ وہاں جنت میں تیار گھر ملے گا۔شارحین فرماتے ہیں کہ یہ اس بات کی جزا ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاپہلے پہل برضا ورغبت آواز بلند کرنے،جھگڑنے اور مشقت کے بغیر اسلام لائیں۔“اہل مکہ حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی پاک دامنی اور پارسائی کی بنا پر ان کو ’’طاہرہ‘‘کے لقب سے یاد کرتے تھے، آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاجنتی افضل عورتوں میں سے ہیں۔مدنی گلدستہ
’’طاہرہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجۃ الکبری
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی۔
(2) اہل مکہ حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی پاک دامنی اور پارسائی کی بنا پر ان کو ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔
(3) عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجۃ الکبری
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاہیں۔
(4) اہل جنت کی افضل عورتوں میں سے حضرت سَیِّدَتُنَا خدیجہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَابھی ہیں۔
(5) جنتی گھروں میں کوئی شوروغل، زحمت وتکلیف اور تھکاوٹ وغیرہ نہ ہوگی ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنیک لوگوں کے صدقے ہمیں بھی جنت میں جگہ عطا فر مائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 708