Main Icon

باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1222

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ اَجْوَدَ مَا يَكُوْنُ فِی رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِ يْلُ وَكَانَ جِبْريلُ يَلْقَاهُ في كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْاٰنَ، فَلَرَسُولُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبرِيلُ اَجْوَدُ بالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم اجود الناس وكان اجود ما يكون فی رمضان حين يلقاه جبر يل وكان جبريل يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القران، فلرسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم حين يلقاه جبريل اجود بالخير من الريح المرسلة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”رسولِ کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اورآپ کی سخاوت اس وقت اوربڑھ جاتی جب رمضان میں جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَامآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملتے اور وہ ماہِ رمضان کی ہر رات میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ قرآنِ پاک کا دَورکرتے تھے۔جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامسے ملاقات کے وقت آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھلائیاں عطا کرنے میں تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔“

شرح حدیث

رمضان شریف میں صدقہ وخیرات کی کثرت:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سخاوت عظیم ہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ ماہ ِرمضان میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرنا مستحب ہے۔ صالحین کی ملاقات کے وقت اور جدائی کے وقت سخاوت و بھلائی کے کاموں میں اضافہ کرنا چاہیےتاکہ ملاقات کا اثر باقی رہے، دورِ قرآن کہ دو بندوں کا ایک دوسرے کو باری باری زبانی قرآن سنانا مستحب ہے ۔“مخلوق میں سب سے بڑے سخی :مرآۃ المناجیح میں ہے:(نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممخلوق میں سب سےبڑے سخی تھے)ہمیشہ ہی مال کی،اعمال کی ،علم کی،ہر رحمتِ الٰہیہ کی سخاوت کرتے تھے۔حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَکی سی سخاوت آج تک نہ کسی نے کی نہ کوئی کرسکتا ہے۔ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اﷲکی صفتِ جوّاد کے مظہر ِ اَتَّم ہیں، قرآن کریم نے حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَکو کریم یعنی سخی داتا فرمایا۔ ماہِ رمضان میں تو کسی کو کسی طرح رد فرماتے ہی نہ تھے،جنت مانگنے والوں کوجنت، رحمت کے سائلوں کو رحمت،خودحضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَسےحضور کو مانگنے والوں کو اپنی توجۂ کرم،مال مانگنے والوں کو مال،اعمال،کمال، لقائے ذُوالجلال غرضکہ جو سائل جو مانگتا تھا منہ مانگی پاتا تھا۔بعض عُشَّاق اب بھی رمضان میں حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَسے ہر چیز مانگتے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی رمضان میں بہت سخاوت کرنا چاہیے کہ یہسنّتِ رسولُ اﷲہےصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ۔( نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے)یعنی جیسے ہوا کی سخاوت پر عالَم قائم ہے کہ ہرشخص ہوا سے ہی سانس لیتا ہے اور ہوا ہی سے بارش آتی ہے،ہوا سے ہی کھیت و باغ پھلتے پھولتے ہیں پھر ہر جگہ ہوا موجود ہے ہر جاندار وغیر جاندار کو ہر طرح فیض پہنچاتی ہے ایسے ہی حضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَملاقاتِ جبریل کے موقعہ پر ہرایک کوہر طرح ہر چیز دیتے تھے۔ خیال رہے کہ ربّ تعالیٰ رمضان میں بہت جُودو کرم فرماتا ہے،اسسُنَّتِ اِلہٰیَّہکے مطابق حضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَبھی رمضان میں زیادہ سخاوت کرتے تھے،ہوئے جو ربّ تعالیٰ کے مَظہَر ِاَتمّصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ۔رمضان میں قران پاک کا دَورمُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ہر رمضان میں حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَحضرت جبریل(عَلَیْہِ السَّلَام) کے ساتھ اَوَّل سے آخر تک سارا قرآن دور فرماتے تھے۔اس سےدو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رمضان میں قرآن کا دورہ کرنا سنت ِرسول بھی ہے اور سنتِ جبریل بھی۔دوسرے یہ کہ حضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَاَوّل ہی سے سارا قرآن جانتے ہیں،نزولِ قرآن تو اُمَّت پراَحکام جاری کرنے کیلیے ہوا،کیونکہ ہر رمضان میں حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَپوراقرآن سن بھی رہے ہیں اورحضرت جبریل کو سنا بھی رہے ہیں،حالانکہ ابھی سارا قرآن نازل نہیں ہوا تھا، نزول کی تکمیل تو وفات سے کچھ پہلے ہوئی ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1222