Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 790

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِ يْدَ الْاَنَّصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ كُمُّ قَمِيْصِ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَى الرُّسْغِ .

عن اسماء بنت يز يد الانصارية رضي الله عنها قالت:كان كم قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الرسغ .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اسماء بنت یزید اَنصاریہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آستین کلائی تک تھی۔

شرح حدیث

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:لہٰذا سنت یہ ہی ہے کہ قمیص کی آستینیں نہ تو کلائی سے اوپر ہوں نہ نیچے یعنی ہتھیلی یا انگلیوں تک۔جن روایات میں ہے کہ حضورِ انور کی آستینیں انگلیوں تک ہوتی تھیں وہاں جبہ کی آستینیں مراد ہیں لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں۔جُبّہ کی آستینیں دراز ہوتی تھیں قمیص کی آستینیں چھوٹی،آج کل قمیص کی آستینیں آدھی کلائی تک بعض لوگ رکھتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔شَلُوکے(کہنیوں تک آستینوں والا کُرتا جو کمر تک ہوتا ہے ) یا واسکٹ کی آستینیں بازو تک ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتیں یہ بھی جائز ہے۔ہاف آستین میں نَماز پڑھنا کیسا ؟آدھی آستین والاکُرتہ یا قمیص پہن کرنَماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے جبکہ اُس کے پاس دوسرے کپڑے موجود ہوں۔ صدرُالشَّریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جس کے پاس کپڑے موجود ہوں اور صِرف نیم آستین(یعنی آدھی آستین)یابَنیان پہن کرنَمازپڑھتا ہے تو کراہتِ تنزیہی ہے اورکپڑے موجود نہیں تو کراہت بھی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 790