Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 795

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاعَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الْاِسْبَالُ فِي الْاِِزَارِ وَالقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلَاءَ لَم يَنظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهماعن النبى صلى الله عليه وسلم قال:الاسبال في الازار والقميص والعمامة من جر شيئا خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اِسْبَال(کپڑا لٹکانا)تہبند ،قمیص اور عمامہ میں ہے جس نے تکبر کی وجہ سے (ان میں سے ) کسی چیز کو لٹکایا قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائےگا ۔

شرح حدیث

اِسبال کی تعریف :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں تین چیزوں یعنی تہبند، قمیص اور عمامہ میں اِسبال کا ذکر ہے۔ اِسبال کا لغوی معنیٰ ہے: ’’چھوڑنا اورلٹکانا۔‘‘اِسبال کی شرعی تعریف کرتے ہوئےصَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:” اِسبال یعنی کپڑا حدِمُعتَاد سے بافراطِ دراز رکھنا منع ہے۔“یعنی عام طور پر عادۃً جتنا کپڑا لٹکایا جاتا ہے اس سے زیادہ لٹکانا اِسبال ہے۔ تینوں چیزوں میں اِسبال کی تفصیل درج ذیل ہے۔قمیص وغیرہ میں اِسبال کی صورت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:صرف نیچا تہبند ہی مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ، کُرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی یہی وعید ہے نیز عمامہ کا شملہ نصف پیٹھ تک چاہیے بعض نِشَست گاہ تک رکھتے ہیں (یہ)ممنوع ہے اور قمیض کا دامن بعضے عرب ٹخنوں کے نیچے رکھتے ہیں (یہ بھی) ممنوع ہے ۔شلوار و تہبند میں اِسبال کی صورت:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں۔اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:پائچوں کا کعبین ( یعنی ٹخنوں ) سے نیچا ہونا جسے عربی میں اِسبال کہتے ہیں اگر براہ عجب و تکبر ہے تو قطعاً ممنوع و حرام ہے اور اس پر وعیدِ شدید وارد (ہے)۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے: کسی آدمی کاٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر چلنا اگر تکبر کی بناپر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔عمامہ میں اِسبال کی صورت:اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ ٔشمع رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: شِملے کی اَقَل ( یعنی کم از کم) مقدار چار انگشت (یعنی چاراُنگل) ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ اور بعض نے نشست گاہ (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضعِ جلوس (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک پہنچے، اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت (یعنی آدھی پیٹھ) سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریباً وہی ایک ہاتھ ہے۔ حد سے زیادہ داخلِ اِسراف ہے اور بہ نیتِ تکبر ہو تو حرام ، یونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلاً رانوں یا زانوں تک یہ سختشَنِیع ومَمنُوع(یعنی بُرا و منع)اوربعض انسانِ بدوضع آوارہ رِندوں (یعنی آوارہ گَردوں ) کی وضع (یعنی انداز) ہے۔ ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہیے۔ خصوصاً اس حالت میں کہ بعض علمانے مَوضعِ جُلُوس تک بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنیٰ عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہِ تحریمی کو شامل ہے۔اشعۃاللمعات شرح مشکاۃمیں ہے:پگڑی کے شملہ کی کم سے کم مقدار چارانگلیوں کے برابر ہے اور شملے کو اتنا لمبارکھنا کہ آدھی پشت سے بھی آگے چلا جائے بدعت ہے کپڑا لٹکانے میں اِسراف ہے جو ممنوع ہے اور اگر تکبر اور تفاخر کے طو رپر ہو تو حرام ہے۔ ورنہ مکروہ اور خلافِ سنت ہے۔ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’دامنوں اور پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اور آستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔‘‘مدنی گلدستہ’’عمامہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) عام طور پر عادۃً جتنا کپڑا لٹکایا جاتا ہے اس سے زیادہ لٹکانا اِسبال کہلاتا ہے اور حدیث پاک میں اِسبال کی ممانعت ہے۔
(2) صرف تہبند کو ہی ٹخنوں سے نیچا کرنا مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ، کُرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی وعید ہے۔
(3) پائنچوں کا ٹخنوں سے نیچے ہونا اگر تکبر کی نیت سے ہو تو حرام ہے۔
(4) دامنوں اور پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اور آستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔
(5) شملہ کی کم سے کم مقدار چارانگلیوں کے برابر ہے اور شملے کو اتنا لمبارکھنا کہ آدھی پشت سے بھی آگے چلا جائے خلافِ سنت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق لباس پہننے اور لباس میں تکبر کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 795