Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 800

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:مَرَرْتُ عَلَى رسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي اِزَارِي اِسْتِـرْخَاءٌ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ!اِرْفَعْ اِزارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ:’’زِدْ‘‘ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ اَتَحَرَّاهَا بَعْدُفَقَالَ بَعْضُ القَوْمِ: اِلَى اَيْنَ ؟ فَقَالَ: اِلَى اَنْصَافِ السَّاقَيْنِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي ازاري استـرخاء فقال: يا عبد الله!ارفع ازارك فرفعته ثم قال:’’زد‘‘ فزدت فما زلت اتحراها بعدفقال بعض القوم: الى اين ؟ فقال: الى انصاف الساقين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے گزرا اور میرا تہبند لٹکا ہوا تھا ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےعبداللّٰہ! تہبند اونچا کرو۔“میں نے اونچا کر دیا، پھر فرمایا:”اور اونچا کرو۔“میں نے اور اونچا کیا اس کے بعد میں ہمیشہ تہبند کا خیال رکھتا ۔کسی نے (سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے)پوچھا :کہاں تک اونچاکیا؟فرمایا: آدھی پنڈلیوں تک۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیث مبارکہ میں تہبند کی مقدار بیان کی گئی ہے کہ تہبند کہاں تک ہونا چاہیے جیسا کہ پہلی حدیث پاک میں فرمایا گیا :مسلمان کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے ،اگر آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو اس میں بھی حرج نہیں البتہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو کہ ٹخنوں سے نیچے ہونے پر جہنم کی وعید ہے اور یہ کام نظرِ رحمت سے محرومی کا سبب ہے ۔حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو تہبند اُونچا رکھنے کا جو فرمایا گیا اس کی وجہ ذکرکرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”تہبند کو اونچا رکھنے میں پاکیزگی و طہارت ہے۔‘‘جب پاؤں دوزخ میں تو پاؤں والا بھی وہاں ہی ہوگا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:(مسلمان کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے)یعنی مسلمانوں کے اِزاروتہبند باندھنے کی کیفیت یہ چاہیے کہ وہ نصف پنڈلی تک رہے،نصف سے مراد تقریبًا آدھا ہے نہ کہ حقیقی آدھا لہٰذا کچھ اونچے نیچے ہونے میں حرج نہیں،یہ حد مردوں کے لیے ہے۔عورتوں کے تہبند یا پاجامے ٹخنوں کے نیچے تک ہونے چاہئیں کیونکہ ان کی پنڈلی سِتر میں داخل ہے جس کا چھپانا فرض ہے۔عورتیں گھر میں رہتی ہیں گندی گلیوں سڑکوں میں انہیں چلنا پھرنا نہیں پڑتا ان کے لیے پاجامہ نیچا ہونا مضر نہیں،مردوں کو باہر چلنا پھرنا پڑتا ہے ان کے نیچے پا ئنچے نجس ہوجائیں گے اس لیے بھی یہ فرق کیا گیا۔(اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ ٹخنوں اور پنڈلی کے درمیان ہو۔)یعنی مرد ٹخنوں تک پاجامہ اور تہبند رکھ سکتے ہیں اس طرح کہ ٹخنے کھلے ہوں۔(البتہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ آگ میں ہے۔)اس حد سے نیچا تہبند مع پا ؤں کے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب پا ؤں دوزخ میں گیا تو پاؤں والا بھی وہاں ہی گیا۔وجہ ظاہر ہے کہ یہ عمل متکبرین اور فیشن ا یبل لوگوں کا ہے،نیز ایسے تہبند اکثر نجس رہتے ہیں،راستہ کی گندگی ان کے نچلے کنارہ میں لگ جاتی ہے جس سے نماز درست نہیں ہوتی،اکثر ایسے تہبند میں اُلجھ کر گر جاتے ہیں خصوصًا زینہ پر چڑھتے اترتے۔(اور جو شخص فخر سےاپنے تہبند کو گھسیٹے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔) فخر کی قید سے معلوم ہوا کہ یہ سزائیں اس صورت میں ہیں جب کہ فیشن یا تکبر کے طور پر ہو،اگر کوئی شخص بے خیالی میں ایساکر بیٹھے تو یہ حکم نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 800