Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 801

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ جَرَّ ثَوبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَةَ:فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهنَّ قَالَ:يُرْخِيْنَ شِبْراً قَالَتْ:اِذًا تَنكَشِفُ اَقْدَامُهُنَّ قَالَ: فَيُرْخِيْنَهُ ذِراعًالَا يَزِدْنَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة فقالت ام سلمة:فكيف تصنع النساء بذيولهن قال:يرخين شبرا قالت:اذا تنكشف اقدامهن قال: فيرخينه ذراعالا يزدن.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو شخص تکبر کرتے ہوئے کپڑا لٹکائےگاقیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر (رحمت)نہیں فرمائے گا۔“حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی:عورتیں اپنی چادروں کو کس طرح استعمال کریں،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ایک بالشت نیچے کریں۔“انہوں نے عرض کی:اِس طرح تو پاؤں کُھل جائیں گے۔ارشاد فرمایا:”ایک گز نیچے چھوڑ دیں لیکن اس سے زیادہ نہ کریں۔“

شرح حدیث

عورتوں کے ٹخنے ڈھکے رہیں:’’حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی:عورتیں اپنی چادروں کو کس طرح استعمال کریں،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:ایک بالشت نیچے کریں۔‘‘مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی بمقابلہ مرد کے ایک بالشت اپنا تہبند زیادہ رکھے۔مطلب یہ ہے کہ نصف پنڈلی سے ایک بالشت زیادہ لٹکائے تاکہ ٹخنے بھی ڈھکے رہیں۔(انہوں نے عرض کی:اس طرح تو پاؤں کُھل جائیں گے۔) یعنی ایک بالشت زیادہ رکھنے میں اگرچہ بیٹھنے کی حالت میں تو اس کا ستر چھپا رہے گا مگر چلنے کی حالت میں اس کے قدم ضرور کھلیں گے یا بے احتیاطی میں پنڈلی بھی کھل جائے گی لہٰذا ایک بالشت زیادہ ہونے سے بھی ستر حاصل نہ ہوگا۔(فرمایا:ایک گز نیچے چھوڑ دیں لیکن اس سے زیادہ نہ کریں۔) گز سے شرعی گز مراد ہے یعنی ایک ہاتھ یا دو بالشت جو کہ ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ ہوتے ہیں شریعت میں اسی گز کا اعتبار ہے۔مطلب یہ ہے کہ دو بالشت زیادہ رکھے اس سے زیادہ نہ کرے ورنہ زمین پر گھسیٹے گا اور نجس ہوتا رہے گا۔مدنی گلدستہ’’حجر اسود ‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذ کورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھو ل
(1) مسلمان کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے اگر ٹخنوں اورآدھی پنڈلی کے درمیان ہو تو اس میں بھی حرج نہیں۔
(2) عورتوں کے پاجامے وغیرہ ٹخنوں سے نیچے ہونے چاہئیں کہ ان کی پنڈلی سِتر میں داخل ہے۔
(3) مرد ٹخنوں تک پاجامہ، تہبند شلوار وغیرہ رکھ سکتے ہیں جبکہ ٹخنے کُھلے ہوں۔
(4) ٹخنوں سے نیچا تہبند،پاجامہ،شلوار وغیرہ پا ؤں سمیت دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب پا ؤں دوزخ میں گیا تو پا ؤں والا بھی وہاں جائے گا۔
(5) ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے کی سزا اس صورت میں ہے کہ جب فیشن یا تکبر کے طور پر ایسا کرے اگر کسی شخص کا تہبند ،شلوار وغیرہ بے خیالی میں ٹخنے سے نیچا ہو جائے تو اس کے لیے یہ حکم نہیں۔
(6) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان پر عمل کرنے میں جلدی کرتے۔
(7) عورتوں کو بھی زمین پر کپڑا گھسیٹ کر چلنا منع ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق لباس پہننے اور سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 801