- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- حدیث نمبر 440
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ : قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِيْ وَاَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللهُ لِلّٰهِ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ اَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ شِبْرًاتَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ بَاعًاوَ اِذَا اَقْبَلَ اِلَيَّ يَمْشِيْ اَقْبَلْتُ اِلَيْهِ اُهَرْوِلُ. ( )
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال : قال الله عز وجل : انا عند ظن عبدي بي وانا معه حيث يذكرني والله لله افرح بتوبة عبده من احدكم يجد ضالته بالفلاة ومن تقرب الي شبراتقربت اليه ذراعا ومن تقرب الي ذراعا تقربت اليه باعاو اذا اقبل الي يمشي اقبلت اليه اهرول. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے پاس ہوتاہوں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! ربّ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے جتناکوئی شخص جنگل میں اپنی گمشدہ چیز پا کر خوش ہوتا ہے اورجوایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تومیری رحمت اس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جوایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میری رحمت اُس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جب وہ پیدل چل کرمیری طرف آئے تو میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث قدسی کی تعریف :مذکورہ حدیث پاک ’’حدیث قدسی ‘‘ ہے ۔ حدیث قدسی اُس حدیث پاک کو کہتے ہیں جس میں فرمان رب تعالیٰ کا ہو اور الفاظ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہوں ۔ یعنی جس حدیث پاک میںاللہ عَزَّوَجَلَّکے فرمانِ عالیشان کو حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے الفاظ میں بیان فرمائیں وہ حدیث قدسی کہلاتی ہے ۔ ( )
¥حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات اور اس کی رحمت کے ساتھ جیسا گمان رکھے گا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمایا جائے گا ۔ لہذا بندے کو چاہیے کہ اپنے رب تعالی کی یاد
میں ہردم مگن رہے اور اس کی رحمت سے امید رکھے ، رب تعالی کی ذات سے حُسنِ ظن رکھے ۔ یہ باب بھی چونکہ رب تعالیٰ کی رحمت سے امید اور حسن ظن کے بارے میں ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥ربّ تعالیٰ کا بندے کے گمان کے ساتھ ہونا :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس کامعنیٰ یہ ہے کہ جب کوئی شخص مجھ سے مغفرت طلب کرتاہے تومیں اس کی مغفرت کردیتاہوں ، جب توبہ کرتاہے تواس کی توبہ قبول کرتا ہوں ، جب مجھ سے کچھ مانگتاہے تومیں اُس کوعطا کرتاہوں اورجب میری کفالت طلب کرتاہے تومیں اسے بے نیازکردیتاہوں ۔ ‘‘ ( ) علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ یعنی میں اُس کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتا ہوں اور اس کے ساتھ وہی کرتا ہوں جس کی وہ مجھ سے توقع رکھتا ہے ۔ یعنی اگروہ مجھ سے اچھائی کی اُمید رکھتا ہے تو میں اس کے ساتھ اچھا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے بُرائی کی امید رکھتا ہے تو میں اس کے ساتھ بُرا ہی کرتا ہوں ۔ جس کانفس مطمئن ہو اور جس کا دل نورِ الٰہی سے منور ہو تو وہ اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان ہی رکھے گا کیونکہ اس کے دل میں جو نور ہے وہ اسے توحید کی ایسی باریکیاں دکھائے گا جس سے اس کا نفس سکون حاصل کرے گا تو وہ یہ گمان کرے گا کہ اس کے لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کافی ہے اور ووہ ربعَزَّ وَجَلَّکرم فرمانے والا ہے ، رحم فرمانے والا ہے ، مہربانی فرمانے والا ہے ، وہ ربعَزَّ وَجَلَّاس پر نرمی فرمائے گا ، اس پر رحم فرمائے گا ، اس پر مہربانی فرمائے گا تو اس کی یہ موجودہ کیفیت ہی ربعَزَّ وَجَلَّسے اس کا حُسنِ ظن ہے اور جس کا نفس لالچی اور حریص ہو ، اُس پر شہوت غالِب ہوتو اُس کادل اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور اُس اندھیرے کے سبب نور چَھٹ جاتا ہے ، دل اندھا ہوجاتا ہے ، نفس چھوٹی چھوٹی خواہشات کرتا ہے جس کی وجہ سے ایسی صورت میں بندہ اپنے رب سے متضاد گمان کرتا ہے تو اس کی یہ کیفیت رب تعالیٰ سے بُرا گمان ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی
بندے سے بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے تو اسے اپنے بارے میں اچھا گمان عطا فرماتا ہے اور جس سے بُرائی کا اِرادہ فرماتا ہے تو اس سے برعکس معاملہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )یادِالٰہی کے ساتھ رب تعالیٰ کی مَعِیَّت :ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے پاس ہوتاہوں ۔ ‘‘عَلَّامَہ جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی میں اس کے ساتھ اپنی رحمت ، توفیق ، ہدایت ، رِعایت اور اِعانت کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ ( ) ( یعنی اس پر رحمت فرماتا ہوں ، اسے نیکیوں کی توفیق دیتا ہوں ، اسے گمراہی سے ہدایت دیتا ہوں ، اس کی رعایت فرماتا ہوں اور مشکل وقت میں اس کی مدد فرماتا ہوں ۔ )حدیث پاک کے بعض الفاظ کے معانی :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی یہ صفت بیان کی جارہی ہے کہ وہ اپنے بندے کے ایک یادو بالشت قریب ہوجاتاہے یاوہ بندے کی طرف دوڑتا ہواآتا ہے ۔ اس قسم کے الفاظ حقیقت ومجاز دونوں کا احتمال رکھتے ہیں مگر ان الفاظ کو حقیقت پرمحمول کرنا درست نہیں کیونکہ ایک بالشت یادوبالشت قریب ہونایاپھردوڑکرآنا یہ دونوں معانیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی شان کے لائق نہیں ہیں اس وجہ سے ان الفاظ کومجاز ( یعنی اجروثواب والے معنیٰ ) پرمحمول کرناواجب ہے ۔ بندے کا اپنے ربعَزَّ وَجَلَّکے ایک ہاتھ یا ایک بالشت قرینے ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت وفرائض کو اداکرکے اس کاقرب حاصل کرتاہے ۔ امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’بندے کی کم عبادت کو ایک بالشت کے ذریعے مثال دینااور زیادہ اجر کوایک ہاتھ سے مثال دینایہ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ جوشخصاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی عبادت سے بڑھ کراسے ثواب عطا فرماتاہے ۔ ‘‘ ()عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان
عالیشان کے ظاہری معنیٰ کا ارادہ کرنا محال ہے ۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ میرا جو بندہ میری طاعت وفرمانبرادی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی رحمت ، توفیق اور اعانت اس کے قریب کردیتا ہوں ، اور اگر وہ میری طاعت وفرمانبرادی میں زیادتی کرتا ہے اور میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اپنی رحمت کو اس پر انڈیل دیتا ہوں اور اسے اس رحمت کے بہت قریب کردیتا ہوں جس کی وجہ سے اسے اپنا مقصود حاصل کرنے میں زیادہ چلنا نہیں پڑتا ۔ اس حدیث پاک سے مراد یہ ہے کہ بندے کی جزاء اس کے رب تعالیٰ کے قرب کے اعتبار سے ضعیف یا قوی ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’رب کریم ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)جب کوئی شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے توبہ کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے اتنا خوش ہوتاہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی گمشدہ چیز پاکربہت خوش ہوتاہے ۔
(2) جوشخص رضائے الٰہی کے لیے عبادت کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی عبادت سے بڑھ کراسے اجر و ثواب عطا فرماتاہے ۔
(3) جو بندہ رب تعالیٰ کی جیسی طاعت وفرمانبراداری کرتا ہے اسے ویسا ہی رحمت سے نوازا جاتا ہے ۔
(4) وہ تمام احادیث جن میں رب تعالیٰ کی طرف چلنے یا دوڑنے کی نسبت ہے وہاں ان کے حقیقی معانی مراد لینا محال ہے لہٰذا مجازی معنی یعنی رحمت ، توفیق اور اعانت وغیرہ مراد لیے جائیں گے ۔
(5) جب کوئی شخص پیدل چل کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف آتاہے یعنی اس کی طاعت وفرمانبرادی کرتا ہے تو اس کی رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے ۔
(6) یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے کی جزا رب تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے ضعیف یا قوی ہوتی ہے ، جو شخص جتنا زیادہ قرب حاصل کرتا ہے اسے اتنی ہی بڑی جزا دی جاتی ہے ۔
اللہعَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں کثرت سے توبہ واستغفارکرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے قرب کی لازوال دولت عنایت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 440