Main Icon

باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 699

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ وَائِلٍ شَقِيْقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ:كَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُذَكِّرُنَا فِيْ كُلِّ خَمِيْسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ اَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ:اَمَا اِنَّهُ يَمْنَعُنِيْ مِنْ ذٰلِكَ اَنِّیْ اَكْرَهُ اَنْ اُمِلَّكُمْ وَاِنِّيْ اَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِكَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَابِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.

عن ابي وائل شقيق بن سلمة قال:كان ابن مسعودرضي الله عنه يذكرنا في كل خميس فقال له رجل: يا ابا عبدالرحمن لوددت انك ذكرتنا كل يوم فقال:اما انه يمنعني من ذلك انی اكره ان املكم واني اتخولكم بالموعظةكما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخولنابها مخافة السآمة علينا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو وائل شقیق بن سَلَمَہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُہر جمعرات ہمیں وعظ ونصیحت فرماتے تھے، ایک شخص نے عَرض کی:اے ابو عبد الرحمٰن!میری تَمنَّا یہ ہےکہ آپ ہمیں ہرروزوعظ ونصیحت فرمایا کریں۔حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:میرے لیے اِس میں رُکاوٹ یہ ہے کہ میں تمہیں اُ کتاہَٹ اور مَلال میں ڈالنا پسند نہیں کرتا،میں وعظ و نصیحت میں تمہارا ویسا ہی لِحاظ رکھتا ہوں جیسا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکتاہٹ اور مَلال کے خوف سے ہمارا لِحاظ رکھتے تھے۔

شرح حدیث

روزانہ وعظ کی ممانعت:مرآۃ المناجیح میں ہے:’’یعنی روزانہ وعظ سےتم اُ کتا جاؤ گےاوریہ ذوق شوق جاتارہے گا۔اِس سے معلوم ہوا کہ اِتنا لمبا وعْظ بھی نہ کہا جائے کہ لوگ گھبرا جائیں تاکہ عِلم ووعظ کی بے قَدرِی نہ ہو۔صُوفِیائے کِرام فرماتے ہیں کہ جو عالِم یا شَیخ لوگوں کے سامنے ہر دَمﷲ ﷲہی کرے وہ مَکَّار ہے۔حُضُور کی مَجلسِ پاک میں دُنیوی تذکرے بھی ہوتے تھے۔‘‘
فقیہِ اعظم حضرت علَّامہ مولانا مُفتی شریف الحَق اَمْجَدِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:*’’ثابِت ہوا کہ اگر کسی اچھے کام کے لیےشَرْعاً وَقْت مُقَرَّر نہ ہوتو اِس کےلیے اَزْخُود،دِن مُقَرَّرکرناصَحابہ کی سُنَّت ہے، اِسی کے پَیشِ نظراَہْلِسُنَّت،مِیلادشریف،عُرس،فاتِحہ کے لیےدِن تاریخ مُقَرَّر کرتے ہیں، اِس سے ایک فائدہ یہ ہے کہ جب کسی کام کے لیے دِن وَقت مُقَرَّر ہوتا ہے تو لوگ پہلے سےاپنے ضروری کام اَنجام دے کراُس وَقت کو محفوظ رکھتے ہیں۔*اِس سے معلوم ہوا کہ وعظ تقریر اِتنی لمبی نہ کی جائےکہ سُننے والے اکتاجائیں۔اِعتبار صِرْف اُن لوگوں کے اُ کْتانے نہ اُ کْتانے کا ہےجو دِینی ذوق رکھتے ہیں۔ہَرْ کَسْ ونَاکَسْ عَوام کَالْاَنْعَامکا نہیں۔‘‘
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! نصیحت کرنے اورنیکی کی دعوت دینے کے مُعامَلے میں اِعْتِدال سے کام لینا چاہیے،ہروَقت اورہرمَوقع پرنصیحت نہیں کرنی چاہیے،اِس لیےکہ اِس سے لوگوں کے دِل اُچاٹ ہو جاتے ہیں اور وہ اُ کْتاجاتے ہیں،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی بات دِل جمعی اورسُکُونِ خَاطِر سے نہیں سُنتے اِس لیے اِن پر کوئی اچھا اَثَر بھی مُرَتَّب نہیں ہوتا،اِس سِلسلے میں آدمی غور کرے کہ میں کس وَقْت میں لوگوں کو نیکی کی دعوت دوں جس میں وہ میری بات دِل جمعی اورتَوَجُّہ کےساتھ سُنیں اورایسےمَوقع کی تلاش میں رہےجب کوئی ایسامُناسِب مَوقع مُیَسَّرآجائے تو اُس وَقْت نیکی کی دعوت دے۔جو نصیحت اپنے وَقت پر نِہایت اَخلاق و مَتانَت اور اِنتہائی مَحَبَّت وشفقت سے کی جاتی ہے دَراَصل وہی مُخاطَب کے دِل پر اَثَر اَنداز ہوتی ہے اور اُس کا بہترین ثَمَرَہ مُرَتَّب ہوتا ہے۔
مدنی گلدستہ’’عالِم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) روزانہ وعظ و نصیحت نہیں کرنی چاہیے اِس سے لوگ اُ کتا جاتے ہیں اور ذوق شوق جاتا رہتا ہے۔
(2) لمبا چوڑا وعظ بھی نہیں کرنا چاہیے کہ لوگ پریشان ہوجائیں۔
(3) کسی اچھے کام کے لیے کوئی دِن مُقَرَّر کرنا صَحابہ کی سُنَّت ہے۔
(4) جو نصیحت اپنے وَقت پر،نِہایت اَخلاق و مَتانَت اور اِنتہائی مَحَبَّت وشفقت سے کی جاتی ہے وہی مُخاطَب کے دِل پر اَثَر اَنداز ہوتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسےدُعا ہے کہ وہ ہمیں اِعتِدال کےساتھ وَعظ ونصیحت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 699