Main Icon

باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 701

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِیّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:بَيْنَا اَنَا اُصَلِّي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ:يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي القَوْمُ بِاَبْصَارِهِمْ،فَقُلْتُ:وَاثُكْلَ اُمِّيَاهُ! مَا شَاْنُكُمْ تَنْظُرُونَ اِلَيَّ؟فَجَعَلُوْا يَضْرِبُوْنَ بِاَيْدِيْهِمْ عَلٰى اَفْخَاذِهِمْ،فَلَمَّارَاَيْتُهُمْ يُصَمِّتُوْنَنِي لٰكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِاَبِيْ هُوَ وَاُمِّي مَارَاَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَبَعْدَهُ اَحْسَنَ تَعْلِيْمًا مِنْهُ فَوَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي.قَالَ:اِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لاَ يَصْلُحُ فِيْهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ اِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيْرُ وَقِرَاءَةُ القُرْآنِ اَوْكَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنِّيْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْاِسْلاَمِ وَ اِنَّ مِنّارِجَالًا يَاْتُوْنَ الْكُهَّانَ؟قَالَ:فَلاَ تَاْتِهِمْ قُلْتُ: وَمِنّارِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ؟ قَالَ:ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُوْنَهُ في صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ.

عن معاوية بن الحكم السلمی رضي الله عنه قال:بينا انا اصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ عطس رجل من القوم فقلت:يرحمك الله، فرماني القوم بابصارهم،فقلت:واثكل امياه! ما شانكم تنظرون الي؟فجعلوا يضربون بايديهم على افخاذهم،فلمارايتهم يصمتونني لكني سكت فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبابي هو وامي مارايت معلما قبله ولابعده احسن تعليما منه فوالله ما كهرني ولا ضربني ولا شتمني.قال:ان هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس انما هي التسبيح والتكبير وقراءة القرآن اوكما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم.قلت: يا رسول الله اني حديث عهد بجاهلية وقد جاء الله بالاسلام و ان منارجالا ياتون الكهان؟قال:فلا تاتهم قلت: ومنارجال يتطيرون؟ قال:ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنامُعاوِیَہ بِن حَکَمْ سُلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میںرسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِقتداء میں نَماز پڑھ رہا تھا کہ قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی،میں نے کہا:يَرْحَمُكَ اللّٰهُ(یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتم پر رَحم کرے)تولوگ مجھے تیز نِگاہوں سےدیکھنے لگے،میں نے کہا:ہائے میری ماں کا رونا،تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟تو لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے،جب میں نے سمجھاکہ مجھے خاموش کرارہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا،پھرجبرسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نَمازپوری فرمائی، میرے ماں باپ آپ پر نِثار،میں نے ایسا اچھا سکھانے والامُعَلِّمنہ آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔خُدا کی قسم!آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مارا، نہ کچھ بُرا کہا بلکہ فرمایا:”نَماز میں باتیں کرنا دُرُست نہیں ، نَماز میں صِرف تسبیح،تکبیراورقرآن کی قِراءَت کی جاتی ہے۔“یاجورسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا۔میں نےعَرض کی:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں زمانہ ٔجاہِلِیَّت کےقریب کا انسان ہوں اوراباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اِسلام کی دولت سےمُشَرَّف فرمادیا ہے۔(پھرپوچھا)ہم میں سےبعض لوگ کاہِنوں کے پاس جاتےہیں؟اِرشادفرمایا:”کاہِنوں کے پاس مت جاؤ۔“میں نے پوچھا:ہم میں سے بعض(پرندوں وغیرہ کے ذریعے)شگون بھی لیتے ہیں؟اِرشادفرمایا:”یہ ایک چیز(یعنی خیال)ہے جسے وہ اپنے دِل میں پاتے ہیں لیکن یہ اُنہیں(اُن کےعَزْم واِرادے سے)نہ روکے۔“

شرح حدیث

پیارومحبت سے مسئلہ بتاناچاہیے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حصۂ حدیث ’’ہائے میری ماں کا رونا ‘‘کے تحت فرماتے ہیں:عَرَب میں یہ لفظ تعجب پر بولا جاتا ہے اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ میں مرگیااورمیری ماں مجھے رو رہی ہے یعنی میں نے ایسا کون سا کام کیا جو اِس کے رونے کا سبب ہوا۔ (مزید فرماتے ہیں:)اَوَّلاً اسلام میں بحالتِ نَماز کلام سلام بھی کیا جاتا تھااور اِمام کےپیچھےقِراءَت بھی:﴿وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)﴾(پ۲،البقرۃ:۲۳۸)(ترجمۂ کنزالایمان: اور کھڑے ہواللّٰہکے حُضُور اَدَب سے)سےکلام و سلام بند ہوا اور﴿وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)﴾(پ۹، الا عراف :۲۰۴)(ترجمۂ کنزالایمان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے کان لگا کر سُنو اور خاموش رہو کہ تم پر رَحْم ہو) سے اِمام کے پیچھے قِراءَت ممنوع ہوئی، نَماز میں کلام بند ہوچکی تھی اِنہیں یہ خبر نہ تھی اِس لیے اِنہوں نے (یعنی حضرت معاویہ بن حکمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نَماز میں)یہ گفتگو کی۔صَحابہ نے اِنہیں کلام سے روکنے کے لیے اپنا ایک ہاتھ ایک ایک بار ران پر مارا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نَماز میں ضرورۃً کنکھیوں سے دائیں بائیں دیکھنا اور عَمَلِ قلیل بھی جائز ہے۔
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!اِس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص ناواقفیت سے کوئی غلط کام کرےتو پیار اورمَحَبَّت سےاُسے مسئلہ بتانا چاہیےجیسےنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سَیِّدُنامُعاوِیَہ بِن حَکَمْ سُلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو نَماز میں کلام کا مسئلہ بتایا۔ہم میں سے کوئی اگر کسی کو گُناہ کرتا دیکھے تو نِہایت مَتانَت اورنرمی کے ساتھ اُسےمنع کرے۔حدیث پاک میں ہے:’’تم میں سے جو شخص بری بات دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو زبان سے بدلے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہوتو دل سے اسے برا جانے اور یہ کمزور ایمان والا ہے۔‘‘بہارشریعت میں ہے: ’’اُمَرا (حکمرانوں)کے ذمہ امربالمعروف ہاتھ سے ہے کہ اپنی قوت وسطوت (یعنی طاقت و دبدبہ) سے اس کام کو روک دیں اور علما کے ذمہ زبان سے ہے کہ اچھی بات کرنے کو اور بری بات سے باز رہنے کو زبان سے کہہ دیں اور عوام الناس کے ذمہ دل سے برا جاننا ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نَماز میں کلام کرنا اور اِمام کی اِقتِدا میں قِراءَ ت کرنا ممنوع ہے۔
(2) ∞کاہنوں کے پاس جانا منع ہے۔
(3) بدشگونی لینا منع ہے۔
(4) غلط کام کرنے والے کوپیار،مَحَبَّت اور شفقت سےسمجھانا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں نرمی اور مَحَبَّت کے ساتھ نصیحت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 701