Main Icon

اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 346

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ يَزِيْدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ : اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعَمْرُوبْنُ مُسْلِم اِلَى زَيْدِ بْنِِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا رَاَيْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَسَمِعْتَ حَدِيْثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ : لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا اِبْنَ اَخِيْ وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِيْ وَنَسِيْتُ بَعْضَ الَّذِيْ كُنْتُ اَعِيْ مِنْ رَسوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُوْنِيْهِ ثُمَّ قَالَ : قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِيْنَا خَطِيْبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ : اَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيْهِ ثُمَّ قَالَ : وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : وَمَنْ اَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُاَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ : نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ وَلٰكِنْ اَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ : وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ : هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيْلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ. قَالَ : كُلّ ُهٰؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ : نَعَمْ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ : اَلَا وَاِنّي تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَليْنِ : اَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ وَهُوَ حَبْلُ اللهِ مَنِِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ. ( )

عن يزيد بن حيان قال : انطلقت انا وحصين بن سبرة وعمروبن مسلم الى زيد بن ارقم رضي الله عنهم فلما جلسنا اليه قال له حصين : لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم

وسمعت حديثه وغزوت معه وصليت خلفه : لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا حدثنا يا زيد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : يا ابن اخي والله لقد كبرت سني وقدم عهدي ونسيت بعض الذي كنت اعي من رسول الله صلى الله عليه وسلم فما حدثتكم فاقبلوا وما لا فلا تكلفونيه ثم قال : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى خما بين مكة والمدينة فحمد الله واثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال : اما بعد الا ايها الناس فانما انا بشر يوشك ان ياتي رسول ربي فاجيب وانا تارك فيكم ثقلين : اولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال : واهل بيتي اذكركم الله في اهل بيتي اذكركم الله في اهل بيتي فقال له حصين : ومن اهل بيته يا زيداليس نساؤه من اهل بيته؟ قال : نساؤه من اهل بيته ولكن اهل بيته من حرم الصدقة بعده قال : ومن هم؟ قال : هم آل علي وآل عقيل وآل جعفر وآل عباس. قال : كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال : نعم. ( ) وفي رواية : الا واني تارك فيكم ثقلين : احدهما كتاب الله وهو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على ضلالة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن حیانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں ، حُصَیْن بن سَبْرَہ اور عَمرو بن مسلم ہم تینوں حضرت سَیِّدُنَا زید بن اَرْقَمْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکی خدمت میں حاضر ہوئے پس جب ہم ان کے پاس بیٹھ چکے تو حضرت سیدنا حُصَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا : ’’اے زید ! آپ نے بہت بھلائی پائی کیونکہ آپرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت سے مشرف ہوئے ، آپ نے ان سے احادیث سنیں ، ان کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اوران کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔ اے زید ! آپ نے خیر کثیر پائی ، آپ ہمیں بھی وہ باتیں بتائیں جو آپ نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنیں ۔ حضرت سَیِّدُنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’اے بھتیجے ! خدا کی قسم ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرے اس یادگار زمانے کو مدت گزر گئی ہے اور جو کچھ حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے میں نے یاد کیا تھا اس میں سے بھی کچھ

بھول گیا ہوں پس جو کچھ میں تم سے بیان کروں اسے قبول کرلو اور جو نہ بیان کرسکوں اس کے متعلق مجھے زحمت نہ دو ۔ ‘‘ پھر فرمایا کہ ایک دن
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ و مدینہ کے درمیان خم نامی تالاب پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے پہلےاللہتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی ۔ پھر ارشاد فرمایا : ” خبردار ! اے لوگو ! میں ایک بشرہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کا پیغام قبول کرلوں ۔ میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ ان میں سے پہلی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ، تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ “ پھرآپ نےکِتَابُ اللہپر عمل کرنے پر اُبھارا اور اس کی رغبت دلائی ۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا حصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’اے زید ! اہل بیت کون ہیں؟ کیا ان میں ازواجِ مُطَہَّرات شامل نہیں؟ ‘‘ حضرت سیدنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’ آپ کی ازواج بھی اہلِ بیت میں سے ہیں لیکن یہاں اہل بیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد صدقہ لینا حرام ہے ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ وہ کون ہیں؟ ‘‘ فرمایا : ’’وہ آلِ علی ، آلِ عقیل ، آلِ جعفر اور آلِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْہیں ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ان سب پر صدقہ لینا حرام ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سنو ! میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔ ان میں سے ایکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رسّی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا ۔ ‘‘

شرح حدیث

نیک اَعمال میں شرکت باعث شرف :مذکورہ حدیثِ پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاکیزہ کلام قرآنِ مجید اور حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامکے اہل بیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اُن کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیا گیا ہے ۔ حدیث پاک کی ابتدا میں بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن حیان ، حُصَین بن سَبْرَہ اور عَمرو بن مسلمرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامتینوں حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرْقَمْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حُصَین بن سَبْرَہ نے زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ

آپ تو بہت خوش قسمت ہیں کیونکہ آپ حضور
عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامکی زیارت سے مشرف ہوئے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اَحادیث کا سماع کیا ، آپ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا ، آپ تو خیر کثیر پانے والے ہیں ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلحاء کے ساتھ نیک اعمال میں شریک ہونابڑے شرف کی بات ہے اور اسی وجہ سے شریعت نے نمازوں میں جماعت کو مشروع کیا ہے تاکہ صالحین کی برکت سے کوتاہی کرنے والوں کی نماز بھی قبول ہوجائے ۔ ‘‘ ( )
¥
محدثین کے اَوصاف اور دعا کی تعلیم :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا حُصَین بن سَبْرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کے بعد سیدنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ آپ نے حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے جو باتیں سنی ہیں وہ ہمیں بھی بیان کردیں ۔ حضرت سیدنا حُصین بن سَبْرَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول میں اس بات پر دلیل ہے کہ علم اس کے اہل لوگوں سے حاصل کرنا چاہیے اور محدثین سے حدیث طلب کرنے سے پہلے ان کی شان کے لائق اوصاف بیان کیے جائیں اور ان کے لیے دعا کی جائے ۔ ‘‘ ( )
¥
بڑھاپے میں حدیث روایت کرنا :حضرت سیدنا حصین بن سبرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سَیِّدُنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ آپ ہمیں حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے سنی ہوئی باتیں بیان کریں تو سیدنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’اے بھتیجے ! میری عمر کافی ہوچکی ہے اور حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے یاد کی ہوئی بہت سی باتیں اب میں بھول چکا ہوں اسی لیے میں جو کچھ تم سے بیان کردوں تم اسے قبول کرلینا اور جو نہ بیان کر سکوں اس میں مجھے زحمت نہ دینا ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا زید بن

ارقم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سیدنا حصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو خود سے چھوٹا ہونے کی بنا پر بھتیجے کے لفظ سے مخاطب کیا نیزسیدنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بڑھاپے کی وجہ سے اپنی طرف نسیان کی نسبت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بڑھاپا قوتِ حافظہ کے ضعف اور نسیان کا سبب ہے اسی وجہ سے اَسّی سال ( 80 ) کے بعد حدیث پاک روایت کرنے کو ایک جماعت نے ناپسند کیا ہے کیونکہ اِس عمر میں لاشعوری طور پر حدیث پاک میں اختلاط واقع ہونے کا خوف ہوتا ہے ۔ سلف و صالحین میں سے اکثر نے کثرت سے حدیث پاک کی روایت کرنے کو مکروہ جانا ہے ۔ سیدنا امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے تھے : ’’رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت کم حدیثیں روایت کرنے والا میں بھی ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
غدیر خَم کیا ہے ؟حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک روز حضورنبی اکرم ، نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ’’خم ‘‘ نامی تالاب پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’حر مین شریفین کے درمیان حجفہ منزل کے قریب ایک جگہ کا نام ’’خم ‘‘ ہے ، وہاں ایک تالاب ہے اِس تالاب کو غدیرخم کہتے تھے ، وہاں کا یہ واقعہ ہے ۔ ( ) خطبے کی ابتدا میں حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنےاللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا بیان فرمائی یعنیاللہتعالیٰ کا شکر ادا کیااور اس کی عظمت و کبریائی بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمائی یعنی جو چیز ان کے لیے نفع مند تھی اس کی نصیحت کی اور انہیں غفلت کی نیند سے بیدار کیا ۔ ( )
¥
رسولُ اللہبے مثل بشر ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہعَزَّوَجَلَّنے بشریت اور نورانیت دونوں سے متصف فرمایا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جو فضائل وکمالات عطا فرمائے ، اتنے فضائل وکمالات کسی اور بشر کو عطا نہ فرمائے ، اسی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے مثل بشر ہیں ، اس حدیث پاک میں بھی اس بات کا بیان ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے لوگو ! میں ایک بشر ہوں ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے یہ الفاظ اس لیے نہیں فرمائے کہ آپ کی صفات ایک عام آدمی کی مثل ہیں بلکہ آپ یہ وہم دُور کرنا چاہتے تھے کہ میرے ہاتھ پر خلاف عادت افعال کے صدور کی وجہ سے کہیں تم لوگ مجھے معبود یا فرشتہ نہ سمجھ لو اور خود کو بشر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بشر کی صفت ہے کہ اسے دنیا سے دارِ فانی کی طرف کوچ کرنا پڑتا ہے اسی وجہ سے آپ نے خود کے بشر ہونے کا اظہار فرمایا ۔ ‘‘ ( )
¥
رب کا قاصدکون ہے ؟حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اے لوگو ! میں ایک بشر ہوں ! قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آجائے اور میں اس کا پیغام قبول کرلوں ۔ ‘‘ قاصد سے مراد یا حضرت سیدنا عزرائیلعَلَیْہِ السَّلَامہیں جو ہر ایک کے پاس موت کے وقت آتے ہیں یا حضرت سیدنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامہیں جو وفات شریف کے وقت ملک الموت کے ساتھ حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے استقبال کے لیے اور بارگاہِ الٰہی میں ساتھ لے جانے کے لیے خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ( )
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’فی الواقع حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحلت قریب تھی یہ واقعہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ذوالحجہ کے آخری دنوں کا ہے اور آپعَلَیْہِ السَّلَامکی رحلت ربیع الاوّل میں ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
ثقلین کے دو معنی :آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ان دو چیزوں کے لیےثَقَلَیْنِکے الفاظ ارشاد فرمائے ۔ یہ لفظ دو طرح آتا ہے ( 1 )ثِقْلٌبمعنیٰ بوجھ ، جن و اِنس کو بھی ثقلین کہتے ہیں کہ زمین میں ان کا بڑا وزن ہے کیونکہ قرآنِ مجید کے احکامات پر عمل کرنا اور اہل بیت کی اطاعت کرنا نفس پر بھاری ہے لہٰذا انہیں ثقلین فرمایا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشار فرماتا ہے : )اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵)( (پ۲۹ ،المزمل: ۵ )ترجمۂ کنزالایمان: ” بے شک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے ۔ “ ( یعنی قرآنِ مجید ) ( 2 )ثَقَلٌبمعنی عظیم و نفیس چیز ، چونکہ اِیمان کی زِینت دِین کی رونق قرآنِ مجید اور اہل بیت اَطہار سے ہے اس لیے انہیں ثقلین فرمایا یعنی دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو متاعِ اِیمان میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں ۔ ( )
¥
قرآن ہدایت اور نورہے :تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اِن دو نفیس چیزوں میں سے پہلی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب پر عمل پیرا ہو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ ‘‘ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ کتاب دنیا اور آخرت کی سعادت تک پہنچاتی ہے ، اس میں روشنی یعنی اعمال کا بیان ہے کہ جس روشنی سے راستہ روشن ہوتا ہے اور منزل ِمقصود تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے ، نیز نور قرآن پاک کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حدیث پر عمل قرآن پر عمل کرناہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یہ کتاب گمراہی سے ہدایت کی جانب پھیر تی ہے ، دلوں کو مُنور کرتی ہے اور قیامت میں پل صِراط کا نور ہے ۔ لہٰذا اسے مُسْتَدَلّ بناؤ ، اسے حِفظ کرو اور اس

کے علوم حاصل کرو اور اپنے اعقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ احادیث
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر عمل کرنا بھی منجملہکتابُ اللہپر عمل کرنا ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے : )αوَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-( (پ۲۸ ،الحشر: ۷ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ ‘‘ اوررسولُ اللہکی اطاعت در حقیقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت ہے ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے : )مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-( (پ۵ ،النساء: ۸۰ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نےاللہکا حکم مانا ۔ ‘‘ اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والا ہے اس پر تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت کرنا لازم ہے ، قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے : )قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ((پ۳ ،آل عمران:۳۱ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔ ‘‘ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوکتابُ اللہکے الفاظ و معانی کی رعایت کرنے اور اُس کے اَحکامات پر عمل کرنے پر اُبھارا اور وہ چیزیں بیان فرمائی جن سے لوگوں میںکتابُ اللہپر عمل کرنے کی رغبت پیدا ہو ، ممکن ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رغبت دلانے والی باتوں کے ساتھ ان عذابوں سے بھی لوگوں کو خوف دلایا ہو جو اَحکامِ الٰہی ترک کرنے والوں کو دئیے جائیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہکی رسّی مضبوطی سے تھام لو :ایک روایت میں ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ’’سنو ! میں تم میں دوعظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔ ان میں سے ایکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رسّی ہے جو اُس پر عمل پیرا ہوگا وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا ۔ ‘‘مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہ فرمانِ عالی اِس آیت کی طرف اشارہ ہے : (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًاوَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪) (پ۴ ،آل عمران: ۱۰۳ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان: اوراللہکی رسّی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا ( فرقوں میں بٹ نہ جانا ) ۔ ‘‘ جیسے کنویں میں گیا ہوا ڈول رسّی سے وابستہ رہے تو پانی لے آتا ہے وہاں کی کیچڑ میں نہیں پھنستا لیکن اگر رسّی سے کھل جاوے تو وہاں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کنواں ہے جہاں نیک اَعمال و اِیمان کا پانی بھی ہے اور کفر و گناہوں کی دلدل بھی ، ہم لوگ گویا ڈول ہیں اگر قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ رہے تو یہاں کے کفرو عصیان میں نہیں پھنسیں گے ۔ نیک اعمال کا پانی لے کر بخیریت اپنے گھر پہنچیں گے ۔ خیال رہے کہ قرآن رسّی ہے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوپر کھینچنے والے مالک ہیں اور اگر حضور رسی ہیں تو رب تعالیٰ اوپر کھینچنے والا ۔ امام ابوصیریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :دَعَا اِلَی اللہِ فَالْمُسْتَمْسِکُوْنَ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ بِحَبْلٍ غَیْرِ مُنْفَصِمِترجمہ : ’’حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے ہمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین کی طرف بلایا تو ان کی اطاعت کی رسّی تھامنے والے ایسے تھامنے والے ہیں کہ کبھی منقطع نہ ہوں گے ۔ ‘‘ رسّی کا ایک کنارہ ڈول میں ہوتا ہے دوسرا کنارہ اوپر والے کے ہاتھ میں اگر اوپر والا ہاتھ نہ کھینچے تو رسّی ڈول کو نہیں نکال سکتی ۔ لہٰذا کوئی قرآن چھوڑ کر ہدایت پر نہیں آسکتا ۔ خیال رہے کہ بعض مؤمنین بغیرکتابُ اللہصرف نبی کے ذریعہ رب تک پہنچ گئے جیسے فرعونی جادوگر یا جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص صرفکتابُ اللہسے بغیر نبی رب تک نہیں پہنچا ۔ ‘‘ ( )
¥
اہل بیت سے محبت اور اُن کاادب :کتابُ اللہکی عظمت بیان فرمانے کے بعد حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے دوسری عظیم چیز بیان فرمائی کہ وہ میرے اہل بیت ہیں اور میں تمہیں ان کے بارے میںاللہتعالیٰ سے ڈراتا ہوں ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ارشاد کا معنیٰ یہ ہے کہ میں تمہیں اہل بیت کی حفاظت ، ان کے ادب و احترام ، ان کی تعظیم اور ان سے محبت مؤدت کے معاملے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حق سے

آگاہ کرتا ہوں ۔ نیز حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے مبالغہ فرمانے کے لیے اپنے جملے مکرّر فرمائے اور یہ امکان بھی بعید نہیں کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے پہلی مرتبہ میں اپنی آل مراد لی ہو اور دوسرے بار میں ازواج کیونکہ اہل بیت کا لفظ تو آل و ازواج دونوں کو شامل ہے ۔ ‘‘ ( )
ا
ِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’معنیٰ یہ ہے کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت کی شان کے حوالے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں اور تم سے کہتا ہوں کہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو انہیں ایذا نہ دو بلکہ ان کی حفاظت کرو ۔ ‘‘ ( )
¥
اہل بیت کی بے ادبی سے بچو :مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں ، اُن کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دِین کھو بیٹھو گے ۔ ‘‘ ( )
¥
اہل بیت دو طرح کے ہیں :” اشعۃ اللمعات“ میں ہے : ’’حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامکے اہل بیت دوطرح کے ہیں : ( 1 ) بیت جسم یعنی وہ لوگ کہ جن کا آپ سے جسمانی تعلق ہے جیسے آپ کی اولاد اور اَزواج ۔ ( 2 ) بیت ذِکر یعنی وہ لوگ کہ جن کا آپ سے قلبی رشتہ و تعلق ہے اور یہ علماء ، صُلحاء اوراَولیاءُ اللہہیں ۔ یہ دونوں اہل بیت اہل دنیا کے ظاہر و باطن کی آبادی اور دِین و دُنیا کے نظام کی اِصلاح کا سبب ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
ایک اِشکال اور اُس کا جواب :حدیث پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ سیدناحَصِین بن سَبُرَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سیدنا زید بن اَرقمرَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے دریافت کیا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اہل بیت کون ہیں؟ اور کیا اِن میں اَزواجِ مُطَہَّرات شامل نہیں ہیں؟ تو حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا کہ اَزواجِ مُطَہَّرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں لیکن مذکورہ حدیث پاک میں اَہل بیت سے مراد وہ حضرات ہیں جن پر صدقہ لینا حرام ہے ۔ یہاں ایک اِشکال وارد ہوتا ہے کہ صحیح مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اَزواجِ مُطَہَّرات کے اہلِ بیت میں شامل ہونے سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے نفی میں جواب دیا ۔ بظاہر اِن دونوں روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے لیکن ان دونوں احادیث میں تطبیق دینا ممکن ہے وہ اس طرح کہ جس روایت میں اَزواجِ مُطَہَّرات کی اہل بیت ہونے سے نفی کی گئی ہے تو وہاں مراد ان اہل بیت میں شمولیت سے نفی ہے کہ جن پر صدقہ ( زکوٰۃ ) لینا حرام ہے اور جس حدیث میں یہ بیان ہواکہ اَزواجِ مُطَہَّرات بھی اَہل بیت سے ہیں تو وہاں ادب و احترام ، تعظیم و تکریم اور حُرمت کے اِعتبار سے انہیں اہل بیت میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ اَزواجِ مُطَہَّرات تو حضور کے گھر میں سکونت پذیر تھیں اور اُن کے اَخراجات حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ذمہ تھے اِس لحاظ سے وہ اَہل بیت میں داخل ہیں ۔ ( ) اَحناف کے نزدیک وہ اَہل بیت جن پر صدقہ حرام ہے وہ صرف مؤمنینِ بنی ہاشم ہیں ان کے علاوہ کسی پر صدقہ حرام نہیں ۔ ( )مدنی گلدستہ
’’خاتونِ جنت ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)
علم دِين حاصل كرنے کے لیے اکابرین کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہیے جیساکہ حضرت سیدناحصین بن سبرہ ، سیدنا یزید بن حیان اور سیدنا عَمر و بن مُسْلِمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْتینوں حضرت سیدنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوئے ۔

(2) اہل بیت کی تعظیم ، ادب و احترام اور اُن سے محبت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔
(3) بڑھاپا نسیان اور حافظہ کمزور ہونے کا سبب ہے ، اِسی وجہ سے بڑھاپے میں حدیث روایت کرنے کو اکثر محدثین نے ناپسند فرمایا ہے ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے بشریت اور نورانیت دونوں صفات سے متصف فرمایا ہے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے مثل بشر ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بشر ہونے کا اِظہار اس لیے فرمایاتاکہ لوگ آ پ کے معجزات دیکھ کر کہیں آپ کو معبود یا فرشتہ نہ سمجھ لیں ۔
(5) اَحکامِ قرآنی پر عمل کرنا اور اہل بیت کی تعظیم کرنا نفس پر بہت ثقیل ( بھاری ) ہے اس لیے ان کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے ۔
(6)
کتابُ اللہہدایت ، نور اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رسّی ہے اسے مضبوطی سے تھامنے والے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہیں ۔
(7) حدیث پر عمل کرنا بھی
کتابُ اللہپر عمل کرنا ہے کیونکہ حضور تاجدرا رسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت ہے ۔
(8) بعض مؤمنین بغیر
کتابُ اللہصرف نبی کے ذریعے رب تک پہنچ گئے جیسے وہ لوگ جو عین جہاد میں ایمان لاکر فورًا شہید ہوگئے مگر کوئی شخص فقطکتابُ اللہسے بغیر نبی کے رب تک نہ پہنچا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اہل بیت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 346