Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 25

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمِ الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ’’اَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِ یْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلأ الْمِیْزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَینَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، والصَّلاۃُ نُورٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ،کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُہَاأَوْ مُوْبِقُہَا۔(مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب فضل الطہور، ص۱۴۰، حدیث: ۲۲۳)

عن ابی مالک الحارث بن عاصم الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم’’الطہور شطر الا یمان، والحمد للہ تملا المیزان ، وسبحان اللہ والحمد للہ تملان او تملا ما بین السماوات والارض، والصلاۃ نور، والصدقۃ برہان، والصبر ضیائ، والقران حجۃ لک او علیک،کل الناس یغدو فبائع نفسہ فمعتقہااو موبقہا۔(مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب فضل الطہور، ص۱۴۰، حدیث: ۲۲۳)

حدیث ترجمہ

حضرت ِ سَیِّدُناحَارِث بِن عَاصِمْ اَشْعَرِیرَضِیَ ﷲ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہاللہ عَزَّوَجَل َّکے پیا ر ے رسول، رسولِ مقبول کا فرمانِ عظمت نشان ہے: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ میزان کو بھردیتا ہے۔ ’’سُبْحَانَ اللہاوراَلْحَمْدُلِلّٰہ‘‘ زمین و آسمان کے درمیان کو بھردیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صَدَقہ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے۔ اور قراٰن تمہارے حق میں یا خلاف دلیل ہے، ہر انسان اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے پھر یا تو ( نیک اعمال کے ذریعے) اسے آزاد کرتا ہے یا (بُرے اعمال کے سبب) تباہ کرنے والا ہے۔

شرح حدیث

علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیاس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’طہارت نصف ایمان ہے ‘‘ کاایک معنی یہ ہے کہ طہارت کا اجر بڑھ کر نصف ایمان تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جس طرح ایمان لانے سے سابقہ تمام گناہ مِٹ جاتے ہیں ، اِسی طرح وضو سے بھی مسلمان کے سابقہ گناہ مِٹ جاتے ہیں لیکن ایمان کے بغیر وضو نہیں ہوتا اس لئے فرمایا: ’’طہارت نصف ایمان ہے‘‘
’’
اَلْحَمْدُلِلّٰہِمیزان کو بھر دیتا ہے اورسُبْحَانَ اللہاوراَلْحَمْدُلِلّٰہِآسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں ‘‘ قراٰن و سنت سے ثابت ہے کہ اعمال کا وزن کیا جاتا ہے اور اعمال کم اور زیادہ ہوتے ہیں۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگرسُبْحَانَ اللہاوراَلْحَمْدُلِلّٰہِکے ثواب کو مُجَسَّمْ کیا جائے تو ان کی جسامت آسمان اور زمین کو بھردے گی، اور انکے ثواب کے زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہسُبْحَانَ اللہکا کلمہاللہ عزَّوَجَلَّکے مُنَزَّہ (پاک ہونے ) اور ہر نَقْص اور عیب سے بَری ہونے کے معنی پر مشتمل ہے اوراَلْحَمْدُلِلّٰہِکا کلمہاللہ عَزَّوَجَلکی طرف مُفْتَقِرْ(محتاج) ہونے اس کی حمد و ثنا اور اس کا شکر بجالانے پر مشتمل ہے۔
’’نماز نورہے ‘‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جس طرح نور اندھیروں کو دور کر کے روشنی پھیلا دیتا ہے اسی طرح نماز گناہوں ، بے حیائی اور بُرے کاموں کو دور کر کے اعمال صالحہ کی ہدایت دیتی ہے ۔ دوسرا معنی یہ ہے بروزِ قیامت نمازی کا چہرہ نماز کی وجہ سے روشن و منور ہوگا اور دنیا میں بھی نمازی کا چہرہ تروتازہ رہتا ہے۔
’’ صدقہ دلیل ہے ‘‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انسان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ مال کہاں خرچ کیا ؟ تو اس کے صَدَقات اس سوال کے جواب پر براہین (دلیل) بن جائیں گے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مال انسان کو طبعاً عزیز ہوتا ہے اور جب وہ
اللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں صَدَقہ دیتا ہے تو یہ صدقہ کرنا اس کے دعویٰ ایمان کی صداقت پر دلیل بن جاتا ہے۔
’’ صبر ضِیاء (روشنی)ہے‘ ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ صبر ایک پسندیدہ عمل ہے اور صبر کرنے والا ہمیشہ ترو تازہ اور ہدایت پر مستقیم رہتا ہے، حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خواص
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّابنے فرمایا: کتاب اور سنت پر ثابت قدم رہنا صبر ہے، حضرتِ سَیِّدُنا اِبنِ عطاءرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: حوصلہ اور برداشت کے ساتھ مصائب کا سامنا کرنا صبر ہے، استاذ اَبُو عَلِی دَقَّاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاقنے فرمایا کہ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ تقدیر پر اعتراض نہ کرے، البتہ مصائب کا اظہار کرنا صبر کے مُنافی نہیں ، بشرطیکہ یہ اظہار بطورِ شکایت نہ ہو۔
’’قراٰن تمہار ے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے‘‘یعنی اگر تم قراٰن مجید کی تلاوت کرو گے اور اس کے احکامات پر عمل کرو گے تو یہ تمہارے حق میں دلیل ہوگا ورنہ یہ تمہارے خلاف دلیل ہوگا۔
نیز اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’ہر شخص جب صبح کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فروخت کردیتا ہے، پھر یا تواپنے جسم کو جہنم سے آزاد کرالیتا ہے یا اسے عذاب میں ڈال کر ہلاک کردیتا ہے۔‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان عمل کرتا ہے ، بعض انسان
اللہ عزَّوَجَلَّکے احکام مان کر اپنے نفس کواللہ عزَّوَجَلَّکے حوالے کردیتے ہیں اور اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرالیتے ہیں اور بعض انسان شیطان اور خواہش کی اتباع کرتے ہیں اور اپنے نفس کو شیطان کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں اور شیطان انہیں جہنم میں ڈال کرہلاک کردیتا ہے۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوئ، ۲/۱۰۰، الجزء الثالث)قبر کا اُجالاعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمِرْقَاۃ شرح مِشکٰوۃمیں فرماتے ہیں :ایک قول کے مطابق نفس کواس کی خواہشوں سے روکنا، گِراں گزرنے والی عبادات کی طرف اسے مائل کرکے اس راہ میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنا صبر کہلاتا ہے۔ جب بندہ اپنے صبر کے عہد کو پورا کرے تو یہ اس کے لئے ضیائ( روشنی )ہے کیونکہ اگر صبر کو ترک کیا تو گناہوں کے اندھیرے میں جا گرے گا۔ ضیاء سے مراد قبر کا اُجالا ہے، کیونکہ جب مومن دنیا کی زندگی میںاللہ عزَّوَجَلَّکی اطاعت اور بلاؤں پراور گناہوں سے بچنے پر صبر کرتا ہے،تواللہ عزَّوَجَلَّاس کی تنگ وتاریک قبر کو کشادہ ومنورفرما دیتا ہے ۔ (ملخصاً مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطھارت، الفصل الاول، ۲/۸)
صبر بہت ہی اچھا عمل ہے لیکن ہر صبر اچھاہو یہ ضروری نہیں۔کبھی کبھی صبر کرنا مکروہ وحرام ہوتا ہے اور کبھی فرض وواجب یانفل۔ چنانچہ،
حکم کے اعتبار سے صبر کی اقسامحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں :’’ حکم کے اعتبار سے صبر کی چار قسمیں ہیں (۱)فرض(۲) نفل(۳) مکروہ اور(۴) حرام۔
ممنوعہ کاموں سے صبر کرنا’’ فرض‘‘ ہے (جیسا کہ گناہوں سے صبر کرنا )۔ ناپسندیدہ اُمور پر صبر کرنا ’’نفل‘‘ہے (یعنی نفس کی ناپسندیدہ باتوں مثلاً نفلی عبادات صدقہ و خیرات وغیرہ پر صبر کرنا کیو نکہ اعمالِ صالحہ نفس پر بہت گراں گزرتے ہیں )۔ شرعی طور پر ممنوع اذیت پر صبر کرنا ممنوع ہے جیسے بلا وجہ کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ کاٹا جائے اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی شہوت کے ساتھ اس کی بیوی کا قَصْد کرے تو اس سے اس کی غیرت جاگ اٹھے لیکن غیرت کے اظہار سے صبر کرے اور اس کی بیوی سے جو سلوک کیا جائے اس پر خاموشی اختیار کرے تو یہ صبر’’ حرام‘‘ ہے۔ اور جو صبر ایسی اذیت پر ہو جو شرعی طور پر مکروہ طریقے سے پہنچے اس پر صبر کرنا مکروہ ہے۔گویا صبر کی کسوٹی معیارِ شریعت ہے، لہٰذا صبر کے ’’نصفِ ایمان‘‘ ہونے سے یہ مراد نہیں لینی چاہیے کہ ہر قسم کا صبر محمود( قابل تعریف )ہے بلکہ اس سے صبر کی مخصوص انواع مراد ہیں۔ (احیاء العلوم، ۴/۸۵)
صبر کے مختلف نامحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیاِحیاء العلوم میں فرماتے ہیں : ’’صبر کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم ہے، بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا وہ یا تو فعل کے ذریعے ہوتا ہے جیسے سخت اعمال برداشت کرنا یا عبادات وغیرہ کے ذریعے ،یا اس کا تعلق برداشت سے ہوتا ہے مثلاً سخت مار، بہت بڑی بیماری اور تکلیف دِہ زخموں کو برداشت کرنا یہ صبر اگر شریعت کے موافق ہو تو قابل تعریف ہے۔ لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل دوسری قسم ہے اور وہ’’ طبعی خواہشات‘‘ اور خواہش کے تقاضوں سے نفس کا صبر کرنا ہے اب اگر اس قسم میں پیٹ اور شرمگاہ کی خواہش سے صبر ہو تو اسے ’’عِفَّت‘‘ کہتے ہیں۔چونکہ وہ مکروہ اُمور جن پر صبر غالب آتا ہے لوگوں کے نزدیک مختلف ہیں اس لیے ان کے نام بھی مختلف ہیں اگر وہ مصیبت میں ہو تو اسے’’ صبر‘‘ ہی کہا جاتا ہے اور اس کے خلاف حالت کو’’جَزَع و فَزَع(رونا دھونا) ‘‘کہتے ہیں یعنی خواہش کے تقاضوں کو کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ خوب آواز بلند کرے، رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے ، نیز اس قسم کی دوسری حرکات کرے اور اگر مالداری کی برداشت میں صبر کرے تو اسے’’ ضبطِ نفس ‘‘کہتے ہیں اور اس کے خلاف حالت کو’’ بَطَر‘‘( اکڑ) کہتے ہیں اگر یہ لڑائی اور جنگ میں ہو تو اسے ’’بہادری‘‘ کہا جاتا ہے جس کا مُقَابِل بُزْدِلی ہے، اگر غصہ پی جانے کے سلسلے میں صبر ہو تو اسے ’’ بُرْدباری‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں غضبناکی ہے اور اگر زمانے کی کسی آفت پر صبر ہو تو اسے ’’دل کی کشادگی‘‘ کہتے ہیں اور اس کی ضد کم حوصلگی، دل کی تنگی اور زِچ (تنگ، مجبور) ہونا ہے اگر کلام کو چھپانے کے سلسلے میں صبر ہو تو اسے’’ کِتْمَانِ سِرّ‘‘(راز چھپانا) کہا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو کَتُوْم ( چھپانے والا) کہا جاتا ہے اگر ضروریات زندگی سے زائد اشیاء سے صبر کیا جائے تو اسے ’’زُہْد‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حِرْص ہے ، اگر تھوڑے حصے پر صبر کیا جائے تو اسے’’ قَنَاعَت‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حِرْص ہے۔ الغرض ایمان کے اکثر اَخلاق صبر میں داخل ہیں اسی لیے جب نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایمان صبر ہے ۔ (احیاء العلوم، ۴/۸۲)
صبر بہت ہی افضل چیز ہے یہاں تک کہ اگر انسان کا نفلی روزہ ا ور رات کی ساری نفلی عبادت چھوٹ جائے تو صبر ویقین کی برکت سے اسے ان اعمال کا ثواب مل سکتا ہے۔
’’صَبْر‘‘ کے3 حروف کی نسبت سے صبر کے متعلق 3 روایات ملاحظہ فرمائیے :
(1)صبر اور دیگر نفلی عباداتنُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :جو چیزیں تمہیں دی گئی ہیں ان میں سب سے کم چیز یقین اور صبر کی عزیمت ہے اور جسے ان دونوں باتوں سے حصہ مل گیا اس کا قیامِ لیل (رات کی نفلی عبادت) اور دن کا( نفلی )روزہ فوت بھی ہوجائے تو کوئی پروا نہیں اور تم جس حالت پر ہو اس پر تمہارا صبر کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی شخص تم سب کے عمل کے برابر عمل میرے پاس لائے، لیکن مجھے خوف ہے کہ تم پر دنیا کھول دی جائے تو تم ایک دوسرے سے اجنبی ہو جاؤ گے، اس وقت آسمان والے بھی تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ جس نے صبر کیا اورثواب کا ارادہ کیا وہ پورے ثواب کے ساتھ کامیاب ہوا۔جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھاللہ عزَّوَجَلَّکے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اوروہ صبر کرنے والوں کو ضرور ان کا اجر عطا فرمائے گا۔ ( احیاء العلوم، ۴/۷۶)(2) جنت الفردوس میں ٹھکاناشہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’جو شخص دنیا میں ہی اپنی ہر خواہش کی تکمیل کرلے تویہ چیز آخرت میں اس کے اور اس کی خواہش کے درمیان آڑ اورپردہ بن جائے گی اور جو مالداروں کی زینت کی طرف اپنی نگاہیں دراز کرے تووہ آسمان والوں کے سامنے بے عزت ہو جاتا ہے اور جو شدید بھوک پر صبر کرےاللہ عزَّوَجَلَّاس کو جنتُ الفردوس میں جہاں چاہے گا ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔(شعب الایمان ، باب فی الصبرعلی المصائب ، ۷/۱۲۵، حدیث۹۷۲۲)(3) مومن کی پہچانمکّی مَدَنی سلطان، سرورِ ذیشانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانصار کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا: کیا تم مومن ہو؟ وہ خاموش رہے، اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ہاں ! یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایا :’’ تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ہم فراخی کی حالت میں شکر کرتے ہیں ، آزمائش کے وقت صبر کرتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّکے فیصلے پر راضی رہتے ہیں۔‘‘ نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ربِّ کعبہ کی قسم ! تم مومن ہو۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۷۶)صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’صابر‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) نماز میں اور نماز کے علاوہ بھی طہارت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
(2) سارے اعمال وہاں (بروزِ قیامت) شکلوں میں نمودار ہونگے۔ جیسے آج دنیا میں ہم واقعات کو خواب میں مختلف شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔( مراٰۃ المناجیح ۳/۱۳۹)
(3)
اللہ عَزَّوَجَلکی منع کردہ چیزوں سے صبر کرنا سب سے افضل صبر ہے۔
(4) شرعی تقاضوں کے مطابق صبر کرنا نصف ایمان ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں مصائب وآلام پرصبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دین ودنیا میں عافیت عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 25