Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 49

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :مَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ فِیْ نَفْسِہٖ وَوَلَدِہِ وَمَالِہِ حَتّٰی یَلْقَی اللہَ تَعَالٰی وَمَا عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِی وَ قَالَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔(ترمذی ، کتاب الزہد عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، حدیث:۲۴۰۷)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :ما یزال البلائ بالمؤمن والمؤمنۃ فی نفسہ وولدہ ومالہ حتی یلقی اللہ تعالی وما علیہ خطیئۃ ۔رواہ الترمذی و قال حدیث حسن صحیح۔(ترمذی ، کتاب الزہد عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، حدیث:۲۴۰۷)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ مومن مرد و عورت کی جان ، اولاد اور مال میں مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔‘‘امام ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اس حدیث کو ’’حسن صحیح‘‘فرمایا ہے۔

شرح حدیث

حضرت علاّمہ مُحَمَّدبِن عَلَّان شَافِعِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :مسلمان مرد و عورت پر مرض، محتاجی، غربت و تنگدستی وغیرہ کی صورت میں جو مصیبتیں آتی ہیں وہ بظاہر تو تکلیف دہ ہیں لیکن اگر بندہ یہ ذہن بنا لے کہ یہ مصیبتیں اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کی طرف سے ہیں تو مصیبتوں کی اذیت راحت میں تبدیل ہو جائے گی ۔ اولاد میں مصیبت ان کی موت ، بیماری یا اولاد کے زندہ نہ رہنے یا ان جیسے دوسرے مسائل کی صورت میں ہوتی کہ جن کی وجہ سے باپ غم زدہ ہوجاتا ہے۔ مال میں مصیبت آنے سے مراد مال کا جَل جانا یا چوری ہوجاناہے ، الغرض بندۂ مومن اسی طرح کی مصیبتوں میں مبتلا رہتا ہے یہاں تک کہ اُسے اِس حال میں موت آتی ہے کہ اُس کے سر پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا، کیونکہ اعمالِ صالحہ سے اس کے وہ صغیرہ گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں جوحُقُوقُ اللہ سے متعلق ہوں اور صبر اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے اجر کی امید رکھنا بھی نیک اعمال ہی ہیں۔ (لہٰذاان سے گناہ مِٹ جاتے ہیں ) (دلیل الفالحین، باب الصبر، ۱/۱۹۹)صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیںمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہاں (حدیث مذکور میں ) گناہوں سے مراد حُقُوقُ اللہ کے گناہِ صغیرہ ہیں ورنہ شرعی حقوق، یوں ہی بندوں کے حقوق بیماری وغیرہ سے معاف نہیں ہوتے، حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مقروض یا بے نماز ی جب کبھی بیماری سے اٹھے تو گزشتہ قرضے بھی معاف ہوگئے اور نہ پڑھی ہوئی نماز یں بھی۔ ‘‘(مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۱۸)بیمار نہ ہو تو فکر کرےبیماری بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اگر ہم کبھی بیمار پڑ جائیں تو اس پر شکر کرنا چاہیے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے ہمیں بیماری عطا فرمائی کیونکہ بیماری سے گناہ جھڑتے ہیں اور اگر کسی شخص پر کوئی بیماری یا مصیبت نہ آئے تو اسے فکر کرنی چاہیے کہ کہیں اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسے چھوڑ تو نہیں دیا۔ اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیِ نِعمت،عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پَرْوَانۂ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’ اگر چالیس (40)دن گزر جائیں کہ کوئی عِلّت (یعنی بیماری یا تکلیف )یا قِلَّت (یعنی تنگی )یا ذلّت نہ ہو تو خوف کرے کہ کہیں چھوڑ نہ دیا گیا ۔‘‘(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص۱۵۹)مدنی گلدستہ
’’احمد‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) بندہ ٔ مومن پر جو بھی مصیبت یا بیماری آتی ہے وہ اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
(2) اگر مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کیا جائے تو اس پر اجرِ عظیم ملتا ہے ۔
(3) بیماری یا مصیبت سے انسان کیحقوقُ اللہ سے متعلق صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(4) جب مصیبت آئے تو یہ ذہن بنانا چاہیے کہ جو خدائے بُزُرگ وبرتر ہم پر اپنی نعمتوں کی چھما چھم برسات فرماتا ہے یہ مصیبت اسی کی جانب سے ہے اور اس میں ہم اری بھلائی پوشیدہ ہے ،تو اس طرح مصیبت پر صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 49