- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 53
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بعض أَیَّامِہِ الَّتِیْ لَقِیَ فِیْہَا الْعَدُوَّ، اِنْتَظَرَحَتّٰی اِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِیْھِمْ فَقَالَ:’’یَاأَیُّہَا النَّاسُ! لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوااللہَ الْعَافِیَۃَ ، فَإِذَا لَقِیْتُمُوْہم فَاصْبِرُوْا، وَاعْلَمُوْاأَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ‘‘۔ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :’’اللہم مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اِہْزِمْہم وَانْصُرْنَا عَلَیْہم ‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
(بخاری، کتاب الجہاد، باب لا تمنوا لقاء العدو، ۲/۳۱۷، حدیث:۳۰۲۴۔۳۰۲۵، بتغیر قلیل)
عن ابی إبراہیم عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم ا:ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی بعض ایامہ التی لقی فیہا العدو، انتظرحتی اذا مالت الشمس قام فیھم فقال:’’یاایہا الناس! لا تتمنوا لقائ العدو، واسالوااللہ العافیۃ ، فإذا لقیتموہم فاصبروا، واعلمواان الجنۃ تحت ظلال السیوف‘‘۔ثم قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :’’اللہم منزل الکتاب ومجری السحاب، وہازم الاحزاب، اہزمہم وانصرنا علیہم ‘‘۔ متفق علیہ
(بخاری، کتاب الجہاد، باب لا تمنوا لقاء العدو، ۲/۳۱۷، حدیث:۳۰۲۴۔۳۰۲۵، بتغیر قلیل)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن اَبِی اَوْفٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنگ کے دنوں میں ایک دن انتظار فرمانے لگے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا:اے لوگو! دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور جان لو! کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا: اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! (اے) کتاب نازل فرمانے والے! بادلوں کو چلانے والے! اور لشکروں کو شکست دینے والے ان (کفار) کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہم اری مدد فرما۔
شرح حدیث
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِی عمدۃُ القاری شرحِ بخاری میں حدیثِ پاک کے حصے ’’ أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوف‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :’’ یعنی اس سے مراد اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والا ثواب ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو تلوار کی ضرب جنت کی طرف لے جانے کا سبب ہے۔ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے جنت میں داخلہ ہوگا، اور ظِلال ظِلّ کی جمع ہے جس کا معنی ہے’’ سایہ‘‘ جب ایک شخص دوسرے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس کی تلوار کے سائے میں آجاتا ہے اور جب دو لڑنے والے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی تلوار کے سائے تلے ہوتے ہیں پس اس طرح جنت کو پایا جاتا ہے۔(یعنی جو شخص جہاد کے قریب ہوتا ہے وہ جنت کے قریب ہو جاتا ہے ) (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد، باب الجنۃ تحت بارقۃ السیف، ۱۰/۱۲۷، تحت الحدیث:۲۸۱۸)
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرحِ مسلم میں فرماتے ہیں :
’’وَاِذَا لَقِیْتُمُوْہم ‘‘ اس حدیث میں جنگ کی حالت میں صبر کرنے اور ثابت قدم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور جہاد میں صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا جہاد کے اَرکان میں سے ایک اَہم رُکن ہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الجھاد، باب کراہۃ تمنی لقاء العدو، ۶/۴۶، الجزء الثانی عشر)تین نعمتیںفتحُ الباری میں ہے : اللہ م مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ ۔۔۔ الخ ترجمہ :اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! (اے) کتاب نازل فرمانے والے بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کوشکست دینے والے! اُن (کفار) کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہم اری مدد فرما۔
اس دعا سے کفار پر مدد کی طرف اشارہ ہے۔کتاب سے اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس قول کی طرف اشارہ ہےقَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ(پ۱۰، التوبۃ:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دیگا تمہارے ہاتھوں۔
اور بادلوں کے چلنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قدرتِ ظاہرہ ہی بادلوں کو چلاتی ہے اور مشیتِ الٰہی سے ہی ہوا چلتی ہے ، اور وہ بادل ہوا کے ساتھ ہر جگہ جاتے ہیں کبھی وہ بادل برستے ہیں اور کبھی نہیں برستے ، تو بادل کے چلنے سے جنگ میں مجاہدین کی اِعانت مراد ہے اور بادلوں کے رکنے سے مجاہدین سے کفار کے ہاتھ رک جانا مراد ہے اور بادلوں کے برسنے سے مالِ غنیمت ملنا مراد ہے اور نہ برسنے سے کفار کی شکست مراد ہے ۔
حدیث میں اِن تین نعمتوں کی عظمت پر تنبیہ ہے (1)قرآن کے نازل ہونے سے اُخْرَوِی نعمت حاصل ہوئی اور وہ ہے اسلام (2) بادلوں کے چلنے سے دُنْیَوِی نعمت حاصل ہوئی اور وہ ہے رزق (3)کفار کی شِکَست سے اُن دونوں نعمتوں کا تحفظ حاصل ہوا۔ گویا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اے اللہ عزَّوَجَلَّ تو نے ہمیں دو عظیم دُنْیَوِی اور اُخْرَوِی نعمتیں عطا کیں پس تو ان کی حفاظت فرما اور انہیں باقی رکھ ۔ (فتح الباری، کتاب الجہاد والسیر، باب لا تمنوا لقاء العدو، ۷/۱۲۷، تحت الحدیث:۳۰۲۶)عافیت مانگنے میں ہی عافیت ہےعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :’’ حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ ’’ دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو!‘‘یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس میں کچھ تَکَبُّر اور اپنی قوت پر اعتماد اور اِترانے کا شائبہ ہے، مزید یہ کہ بَلا پر صبر کرنا سب کا کام نہیں ، منقول ہے کہ ’’زخم کی تکلیف کی تاب نہ لا کر ایک شخص نے خود کشی کرلی۔ ‘‘اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا:’’ مجھے عافیت ملے اور میں شکر کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ بَلا میں مبتلا ہوں اور صبر کروں ‘‘ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: اے بیٹے !کسی کو مقابلہ کے لئے نہ بلاؤ اور اگر تمہیں کوئی بُلائے تو اس کا مقابلہ کرو، اس لئے کہ وہ باغی ہے اور جس کے خلاف بغاوت کی جائے اس کی مدد کی اللہ عزَّوَجَلَّ نے ضمانت لی ہے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد والسیر، باب لا تمنوا لقاء العدو، ۱۰/۳۴۷، تحت الحدیث:۳۰۲۶)
حدیثِ مذکور میں عافیت کی دعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لہٰذا اس ضمن میں 4 روایات ملاحظہ فرمائیے !(1) ایمان کے بعد سب سے بہتر چیزاَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ منبر پرکھڑے ہوئے پھر رونے لگے اور فرمایا:جب خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہلے سال ہمارے درمیان منبر پر تشریف فرماہوئے تو رونے لگے پھر فرمایا: ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ سے عَفو اور عافیت کا سوال کیا کرو کیونکہ یقین کے بعد کسی کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی ۔‘‘ (ترمذی ،کتاب احادیث شتی ، باب من ابواب الدعوات، ۵/۳۲۷، حدیث:۳۵۶۹)(2)دنیا وآخرت میں عافیتتاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بندہ اس سے افضل کوئی دعا نہیں مانگتا: ’’اللھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ‘‘ترجمہ:ا ے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عا فیت کا سوال کرتاہوں۔(ابن ماجہ،کتا ب الدعاء، باب الدعاء بالعفو… الخ، ۴/۲۷۳،حدیث:۳۸۵۱)(3)عافیت کاسوا ل محبوب ہےنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ سے عافیت کا سوال کرنا اسے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘(ترمذی ،کتا ب الدعوات، ۵/۳۰۶، حدیث:۳۵۲۶)(4) جسے عافیت ملی وہ کامیاب ہو گیاایک شخص نے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہو کر عرض کی:یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! سب سے افضل دعا کون سی ہے؟فرمایا: اپنے ربّ عزَّوَجَلَّ سے عافیت اور دنیا وآخرت کی بھلائی کا سوال کرو! اس نے دوسرے دن حاضرہوکر پھر عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! سب سے افضل دعا کون سی ہے؟فرمایا: اپنے رب عزَّوَجَلَّ سے عافیت اور دنیا وآخرت کی بھلائی کا سوال کیا کرو! تیسرے دن پھر یہی سوال کیا تورسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے پھر وہی جواب دیااور فرمایا:’’ جب تجھے دنیا اور آخرت میں عافیت مل جائے تو تُو کامیاب ہوگیا۔‘‘ (ترمذی ،کتاب الدعوات، ۵/۳۰۵، حدیث:۳۵۲۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’بقیع‘‘ کے 4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مد نی پھول(1) اپنے نفس پر اعتمادکرتے ہوئے دشمن سے ملنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ عافیت کی دعا کرنی چاہیے۔
(2) جب دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدمی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
(3) جو مسلمان دشمنِ اسلام سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوجائے وہ جنتی ہے۔
(4) جسے دنیا وآخرت میں عافیت نصیب ہو گئی وہ کامیاب ہو گیا۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّ ! ہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا فرما!اپنی رحمت سے جنت الفردوس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پڑوس میں جگہ عطا فرما ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماخلاص کیا ہےاخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص، ص ۳۲۸)
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 53