Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 30

جلد 1

حدیث مبارکہ

حَدَّثَنَا ہَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ صُہَیْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ مَلِکٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَکَانَ لَہُ سَاحِرٌ فَلَمَّا کَبِرَ قَالَ لِلْمَلِکِ إِنِّیْ قَدْ کَبِرْتُ فَابْعَثْ إِلَیَّ غُلَامًا أُعَلِّمْہُ السِّحْرَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ غُلَامًا یُعَلِّمُہُ فَکَانَ فِی طَرِیْقِہٖ إِذَا سَلَکَ رَاہِبٌ فَقَعَدَ إِلَیْہِ وَسَمِعَ کَلَامَہُ فَأَعْجَبَہُ فَکَانَ إِذَا أَتَی السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاہِبِ وَقَعَدَ إِلَیْہِ فَإِذَا أَتَی السَّاحِرَ ضَرَبَہُ فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی الرَّاہِبِ فَقَالَ إِذَا خَشِیْتَ السَّاحِرَ فَقُلْ حَبَسَنِی أَہْلِیْ وَإِذَا خَشِیْتَ أَہْلَکَ فَقُلْ حَبَسَنِی السَّاحِرُ فَبَیْنَمَا ہُوَعَلَی ذٰلِکَ إِذْ أَتَی عَلٰی دَابَّۃٍ عَظِیْمَۃٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَقَالَ الْیَوْمَ أَعْلَمُ السَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمِ الرَّاہِبُ أَفْضَلُ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللہم إِنْ کَانَ أَمْرُ الرَّاہِبِ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ ہَذِہِ الدَّابَّۃَ حَتّٰی یَمْضِیَ النَّاسُ فَرَمَاہَا فَقَتَلَہَا وَمَضَی النَّاسُ فَأَتَی الرَّاہِبَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ الرَّاہِبُ أَیْ بُنَیَّ أَنْتَ الْیَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّیْ قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِکَ مَا أَرَی وَإِنَّکَ سَتُبْتَلٰی فَإِنِ ابْتُلِیْتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَیَّ وَکَانَ الْغُلَامُ یُبْرِیئُ الْأَکْمَہَ وَالْأَبْرَصَ وَیُدَاوِی النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَائِ فَسَمِعَ جَلِیْسٌ لِلْمَلِکِ کَانَ قَدْ عَمِیَ فَأَتَاہُ بِہَدَایَا کَثِیرَۃٍ فَقَالَ مَا ہَہُنَا لَکَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَیْتَنِی فَقَالَ إِنِّیْ لَا أَشْفِیْ أَحَدًا إِنَّمَا یَشْفِی اللہُ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللہِ دَعَوْتُ اللہَ فَشَفَاکَ فَاٰمَنَ بِاللہِ فَشَفَاہُ اللہُ فَأَتَی الْمَلِکَ فَجَلَسَ إِلَیْہِ کَمَا کَانَ یَجْلِسُ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَنْ رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ قَالَ: رَبِّیْ قَالَ: وَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللہُ فَأَخَذَہُ فَلَمْ یَزَلْ یُعَذِّبُہُ حَتّٰی دَلَّ عَلَی الْغُلَامِ فَجِیْئَ بِالْغُلَامِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ أَیْ بُنَیَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِکَ مَا تُبْرِئُ الْأَکْمَہَ وَالْأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ إِنِّیْ لَا أَشْفِیْ أَحَدًا إِنَّمَا یَشْفِی اللہُ فَأَخَذَہُ فَلَمْ یَزَلْ یُعَذِّبُہُ حَتَّی دَلَّ عَلَی الرَّاہِبِ فَجِیْئَ بِالرَّاہِبِ فَقِیلَ لَہُ اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِی مَفْرِقِ رَأْسِہِ فَشَقَّہُ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْئَ بِجَلِیْسِ الْمَلِکِ فَقِیلَ لَہُ اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِی مَفْرِقِ رَأْسِہِ فَشَقَّہُ بِہٖ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ ثُمَّ جِیْئَ بِالْغُلَامِ
فَقِیْلَ لَہُ ارْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَأَبٰی فَدَفَعَہُ إِلٰی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَالَ اِذْہَبُوْا بِہٖ إِلٰی جَبَلِ کَذَا وَکَذَا فَاصْعَدُوْا بِہٖ الْجَبَلَ فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَہُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِینِہٖ وَإِلَّا فَاطْرَحُوْہُ فَذَہَبُوْا بِہٖ فَصَعِدُوْا بِہِ الْجَبَلَ فَقَالَ اللہم اکْفِنِیْہم بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِہم الْجَبَلُ فَسَقَطُوْا وَجَائَ یَمْشِیْ إِلَی الْمَلِکِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُکَ؟ قَالَ کَفَانِیْہم اللہُ فَدَفَعَہُ إِلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَالَ اذْہَبُوْا بِہٖ فَاحْمِلُوْہُ فِی قُرْقُوْرٍ فَتَوَسَّطُوْا بِہٖ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِیْنِہٖ وَإِلَّا فَاقْذِفُوْہُ فَذَہَبُوْا بِہٖ فَقَالَ اللہم اکْفِنِیْہم بِمَا شِئْتَ فَانْکَفَأَتْ بِہم السَّفِینَۃُ فَغَرِقُوْا وَجَاء َ یَمْشِیْ إِلَی الْمَلِکِ فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُکَ؟ قَالَ کَفَانِیْہم اللہُ فَقَالَ لِلْمَلِکِ إِنَّکَ لَسْتَ بِقَاتِلِی حَتّٰی تَفْعَلَ مَا اٰمُرُکَ بِہٖ قَالَ وَمَا ہُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ وَتَصْلُبُنِیْ عَلٰی جِذْعٍ ثُمَّ خُذْ سَہم ا مِنْ کِنَانَتِی ثُمَّ ضَعِ السَّہم فِیْ کَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قُلْ بِاسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ ارْمِنِیْ فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ قَتَلْتَنِیْ فَجَمَعَ النَّاسَ فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَہُ عَلَی جِذْعٍ ثُمَّ أَخَذَ سَہم ا مِنْ کِنَانَتِہٖ ثُمَّ وَضَعَ السَّہم فِیْ کَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قَالَ بِاسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاہُ فَوَقَعَ السَّہم فِیْ صُدْغِہٖ فَوَضَعَ یَدَہُ فِیْ صُدْغِہٖ فِیْ مَوْضِعٍ السَّہم فَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَأُتِیَ الْمَلِکُ فَقِیلَ لَہُ أَرَأَیْتَ مَا کُنْتَ تَحْذَرُ قَدْ وَاللہِ نَزَلَ بِکَ حَذَرُکَ قَدْ اٰمَنَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأُخْدُوْدِ فِیْ أَفْوَاہِ السِّکَکِ فَخُدَّتْ وَأُضْرِمَ فِیْھَا النِّیْرَانُ وَقَالَ مَنْ لَمْ یَرْجِعْ عَنْ دِیْنِہٖ فَأَقْحِمُوْہُ فِیْہَا أَوْ قِیْلَ لَہُ اقْتَحِمْ فَفَعَلُوْا حَتّٰی جَائَ تِ امْرَأَۃٌ وَمَعَہَا صَبِیٌّ لَہَا فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِیْہَا فَقَالَ لَہَا الْغُلَامُ یَا أُمَّہْ اِصْبِرِیْ فَإِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔( مسلم ، کتاب الزھد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ص۱۶۰۰، حدیث:۳۰۰۵)

حدثنا ہداب بن خالد حدثنا حماد بن سلمۃ حدثنا ثابت عن عبد الرحمن بن ابی لیلی عن صہیب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کان ملک فیمن کان قبلکم وکان لہ ساحر فلما کبر قال للملک إنی قد کبرت فابعث إلی غلاما اعلمہ السحر فبعث إلیہ غلاما یعلمہ فکان فی طریقہ إذا سلک راہب فقعد إلیہ وسمع کلامہ فاعجبہ فکان إذا اتی الساحر مر بالراہب وقعد إلیہ فإذا اتی الساحر ضربہ فشکا ذلک إلی الراہب فقال إذا خشیت الساحر فقل حبسنی اہلی وإذا خشیت اہلک فقل حبسنی الساحر فبینما ہوعلی ذلک إذ اتی علی دابۃ عظیمۃ قد حبست الناس فقال الیوم اعلم الساحر افضل ام الراہب افضل فاخذ حجرا فقال اللہم إن کان امر الراہب احب إلیک من امر الساحر فاقتل ہذہ الدابۃ حتی یمضی الناس فرماہا فقتلہا ومضی الناس فاتی الراہب فاخبرہ فقال لہ الراہب ای بنی انت الیوم افضل منی قد بلغ من امرک ما اری وإنک ستبتلی فإن ابتلیت فلا تدل علی وکان الغلام یبریئ الاکمہ والابرص ویداوی الناس من سائر الادوائ فسمع جلیس للملک کان قد عمی فاتاہ بہدایا کثیرۃ فقال ما ہہنا لک اجمع إن انت شفیتنی فقال إنی لا اشفی احدا إنما یشفی اللہ فإن انت آمنت باللہ دعوت اللہ فشفاک فامن باللہ فشفاہ اللہ فاتی الملک فجلس إلیہ کما کان یجلس فقال لہ الملک من رد علیک بصرک قال: ربی قال: ولک رب غیری؟ قال ربی وربک اللہ فاخذہ فلم یزل یعذبہ حتی دل علی الغلام فجیئ بالغلام فقال لہ الملک ای بنی قد بلغ من سحرک ما تبرئ الاکمہ والابرص وتفعل وتفعل فقال إنی لا اشفی احدا إنما یشفی اللہ فاخذہ فلم یزل یعذبہ حتی دل علی الراہب فجیئ بالراہب فقیل لہ ارجع عن دینک فابی فدعا بالمنشار فوضع المنشار فی مفرق راسہ فشقہ حتی وقع شقاہ ثم جیئ بجلیس الملک فقیل لہ ارجع عن دینک فابی فوضع المنشار فی مفرق راسہ فشقہ بہ حتی وقع شقاہ ثم جیئ بالغلام
فقیل لہ ارجع عن دینک فابی فدفعہ إلی نفر من اصحابہ فقال اذہبوا بہ إلی جبل کذا وکذا فاصعدوا بہ الجبل فإذا بلغتم ذروتہ فإن رجع عن دینہ وإلا فاطرحوہ فذہبوا بہ فصعدوا بہ الجبل فقال اللہم اکفنیہم بما شئت فرجف بہم الجبل فسقطوا وجائ یمشی إلی الملک فقال لہ الملک ما فعل اصحابک؟ قال کفانیہم اللہ فدفعہ إلی نفر من اصحابہ فقال اذہبوا بہ فاحملوہ فی قرقور فتوسطوا بہ البحر فإن رجع عن دینہ وإلا فاقذفوہ فذہبوا بہ فقال اللہم اکفنیہم بما شئت فانکفات بہم السفینۃ فغرقوا وجاء یمشی إلی الملک فقال لہ الملک ما فعل اصحابک؟ قال کفانیہم اللہ فقال للملک إنک لست بقاتلی حتی تفعل ما امرک بہ قال وما ہو قال تجمع الناس فی صعید واحد وتصلبنی علی جذع ثم خذ سہم ا من کنانتی ثم ضع السہم فی کبد القوس ثم قل باسم اللہ رب الغلام ثم ارمنی فإنک إذا فعلت ذلک قتلتنی فجمع الناس فی صعید واحد وصلبہ علی جذع ثم اخذ سہم ا من کنانتہ ثم وضع السہم فی کبد القوس ثم قال باسم اللہ رب الغلام ثم رماہ فوقع السہم فی صدغہ فوضع یدہ فی صدغہ فی موضع السہم فمات فقال الناس امنا برب الغلام فاتی الملک فقیل لہ ارایت ما کنت تحذر قد واللہ نزل بک حذرک قد امن الناس فامر بالاخدود فی افواہ السکک فخدت واضرم فیھا النیران وقال من لم یرجع عن دینہ فاقحموہ فیہا او قیل لہ اقتحم ففعلوا حتی جائ ت امراۃ ومعہا صبی لہا فتقاعست ان تقع فیہا فقال لہا الغلام یا امہ اصبری فإنک علی الحق۔( مسلم ، کتاب الزھد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ص۱۶۰۰، حدیث:۳۰۰۵)

حدیث ترجمہ

’’ حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک بادشاہ ہواکرتاتھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، جب وہ بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہوگیاہوں ، لہٰذا میرے پاس کسی لڑکے کو بھجواؤتاکہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ چنانچہ، بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا تو وہ اسے سکھانے لگا، لڑکے کے راستے میں ایک راہب رہتا تھا ۔ راہب کی باتیں اسے بہت اچھی لگتیں۔ چنانچہ، وہ اس کے پاس بیٹھتااور اس کی باتیں سنتا ، جب وہ جادو گر کے پاس دیر سے پہنچتا تو وہ اسے مارتا، لڑکے نے راہب سے شکایت کی تو اس نے کہا : جب جادوگر سے ڈر محسوس کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے گھر والوں نے روک رکھاتھا اور جب گھر والوں کا خوف ہو تو کہہ دو کہ مجھے جادو گر نے روک رکھا تھا۔ ( چنانچہ یو نہی سلسلہ چلتا رہا)پھر ایک دن لڑکے نے راستے میں ایک بہت بڑا جانور دیکھا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا تواس نے دل میں کہا :آج معلوم کروں گا کہ جادو گر افضل ہے یا راہب ؟ چنانچہ، اس نے یہ دعا مانگی :اےاللہ عزَّوَجَلَّ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادو گر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ہلاک کردے تاکہ لوگ گزر سکیں۔پھر اس نے ایک پتھر پھینکااور اس جانورکو ہلاک کر دیاتو لوگ گزر گئے، اب اس نے راہب کے پاس آکر واقعہ سنایاتو راہب نے کہا: بیٹا! آج تم مجھ سے افضل ہوگئے ہو، تمہارا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جس کو میں دیکھ رہا ہوں اور عنقریب تمہاری آزمائش ہوگی جب تمہیں آزمایا جائے تو میرے بارے میں نہ بتانا ۔اب لڑکے کی یہ کیفیت ہو گئی کہ (اللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے) و ہ پیدائشی اندھوں اور برص والوں کوشفا د ینے لگا اور لوگوں کا ہر قسم کا علاج کرنے لگا ، بادشاہ کا ایک ہم مجلس نابینا تھا جب اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو بہت سے تحائف لے کر اس کے پاس آیا اور کہا : اگر تو مجھے شِفا دیدے تو یہ سب کچھ تجھے دیدیا جائے گا۔ اُسنے کہا: میں کسی کو شِفا نہیں دیتا، شِفا تواللہ تَعَالٰیکے دستِ قدرت میں ہے، اگر تو اس پرایمان لے آئے تو میں دعا کروں گااور وہ تجھے شِفا دے گا۔ چنانچہ، وہاللہ عزَّوَجَلَّپر ایمان لایا اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسے شِفا عطا فرمادی ، پھر وہ حسبِ معمول بادشاہ کے پاس آکر بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا: تیری بینائی کس نے لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیامیرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرا رباللہ عزَّوَجَلَّہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے اسے پکڑا اور اس وقت تک سزا دیتا رہا جب تک کہ اس نے لڑکے کے بارے میں نہ بتادیا۔پھراس لڑکے کو لایا گیا تو بادشاہ نے کہا :اے لڑکے تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ تو مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو تندرست کردیتا ہے، اوراب تو خوب ماہر ہو گیا۔ لڑکے نے کہا : میں تو کسی کو شِفا نہیں دیتا، بلکہاللہ عزَّوَجَلَّشِفا دیتا ہے۔ ( یہ سن کر ) بادشاہ نے اسے پکڑا اور مسلسل سزا دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتا بتادیا۔ راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے صاف انکار کر دیا ۔ بادشاہ نے اس کے سر کے درمیان رکھا اور سرکے دو ٹکڑے کردیئے، پھراپنے مُصاحِب سے کہا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے بھی انکار کر دیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کے دو ٹکڑے کردیئے، پھر لڑکے کو لایا گیا اور اُس سے بھی دین چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، اُس نے بھی انکار کردیا۔ چنانچہ، اُسے چند آدمیوں کے حوالے کیا گیا کہ اگر یہ اپنے نئے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے فلاں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دینا ۔ چنانچہ، لوگ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس نے دعا کی : اےاللہ عَزَّوَجَل! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے کفایت کر۔ چنانچہ، پہاڑ لرزنے لگا اور وہ گر پڑے ، لڑکا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والوں نے کیا کیا ؟کہا:اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے ان سے بچالیا۔ بادشاہ نے اسے کچھ اور آدمیوں کے حوالے کیا اور کہا: اسے کشتی میں سوار کر کے دریا کے وَسْط میں لے جاؤ اگر اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر ہے ورنہ اسے ( دریا میں )پھینک دینا۔ چنانچہ، وہ اُسے لے گئے،تو اُس نے دعا کی: اےاللہ عزَّوَجَلَّ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے محفوظ رکھ۔ چنانچہ، کشتی اُلٹ گئی اور وہ غرق ہوگئے، لڑکا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والے کہاں ہیں ؟ اُس نے کہا:اللہ عزَّوَجَلَّنے مجھے ان سے بچالیا اور تو اُس وقت تک مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک میری بات پوری نہ کرے، بادشاہ نے کہا: بتا کیا بات ہے ؟ اُس نے کہا :لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مجھے ایک لکڑی پر سولی چڑھا دے پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر لے کر یہ الفاظ کہتے ہوئے مجھے تیر ماردے ،’’اللہ عزَّوَجَلَّکے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے۔‘‘تو جب ایسا کرے گا تو مجھے قتل کرسکے گا ۔ چنانچہ، بادشاہ نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے لڑکے کو سولی پر لٹکا کر اس کے تَرکَش سے ایک تیر لیا اور کمان میں رکھ کر’’بِسْمِ اللہ رَبِّ الْغُلَام‘‘ کہا :اور تیر پھینک دیا جو لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ ا س نے اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھا اور اس دار فانی سے آخرت کی طرف کوچ کر گیا ۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔جب لوگوں کی یہ حالت بادشاہ کو بتا کر کہا گیا کہ تجھے جس بات کا خطرہ تھااللہ (عَزَّوَجَل)نے وہ سب کچھ تیرے ساتھ کردیا ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے گلیوں کے دَہانے پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ چنانچہ، خندقیں کھود کر ان میں آگ جلا دی گئی اور بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ جو شخص اپنے دین سے باز نہ آئے اُسے آگ میں ڈال د یا جائے یا اس سے کہا جائے آگ میں داخل ہو جا! چنانچہ، لوگوں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی۔ وہ آگ میں داخل ہونے سے کچھ ہچکچا نے لگی تو بچے نے کہا :ماں صبر کر، تو حق پر ہے۔

شرح حدیث

بادشاہ کانام کیا تھا ؟حدیث میں جس بادشاہ کاذکرہے اس کا نام زُرْعَہ بِنْ حَسَّان تھا حُمَیْر اور گردو نواح کا بادشاہ تھا اسے یوسف بھی کہا کرتے تھے۔ (تفسیر روح البیان،پ۳۰،البروج، تحت الایۃ:۴، ۱۰/۳۸۶) تفسیرِ بَغَویمیں ہیکہ یہ نَجْران میں حُمَیْر کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا اور سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادتِ باسعادت سے ۷۰ سال پہلے زمانۂ فطرت میں تھا ۔ (تفسیربغوی،پ۳۰،البروج، تحت الایۃ:۴، ۴/۴۳۸)لڑکا کون تھا ؟حدیث میں جس لڑکے کاذکرہوا ’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن‘‘ میں اس کا نام عَبْدُ اللہ بن تَامِر بیان کیا گیا ہے ۔ (دلیل الفالحین، باب فی الصبر، ۱/۱۶۲)اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکا مصیبت پر صبرقاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض بِنْ مُوْسٰیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’اِکْمَالُ الْمُعْلِم‘‘ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ معلوم ہوا کہ نیکی کی دعوت دیتے وقت نیک بندوں کو مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور وہ ان مصائب پر صبر کرتے ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا کہ چاہے کتنے ہی شدید مصائب کا سامنا ہو اظہارِ حق سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ ہر مشکل گھڑی میںاللہ عزَّوَجَلَّکی طرف رجوع اور اس سے دعا کرنی چاہیے ۔‘‘ (اکمال المعلم،کتاب الزہد والرقائق،باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۸/ ۵۵۷، تحت الحدیث:۳۰۰۵)کراماتِ اَوْلیااِمام یَحْیٰی بِن شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث ِپاک میں اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی کرامات کا ثبوت ہے۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الزہد، باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۹/۱۳۰، الجزء الثامن عشر)اپنے قتل پر مُعاوَنَت کیوں کی؟سوال : اس لڑکے نے اپنے قتل پر معاونت کیوں کی حالانکہ یہ جائز نہیں ہے ؟
جواب: قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض بِنْ مُوْسٰی
رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ’’اِکْمَالُ الْمُعْلِم‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ لڑکے نے ایسا اس لئے کیا تاکہاللہ عزَّوَجَلَّپر ایمان لانے کی حقَّانِیت ظاہر ہو جائے اور لوگ ایمان لے آئیں اور واقعی ایسا ہی ہوا۔‘‘علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِینے فرمایا: چونکہ اس لڑکے کو معلوم تھا کہ میں قتل کر دیاجاؤں گا اس لئے ایسا کیا ۔(اکمال المعلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۸/ ۵۵۷، تحت الحدیث:۳۰۰۵)کتنے بچوں نے بہت چھوٹی عمر میں کلام کیا ؟حدیث پاک میں چھوٹے بچے کے کلام کرنے کا بیان ہے ،یہ ان بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے گود میں کلام کیا۔عُمْدَۃُ الْقَارِی میں ہے : چھ بچوں نے بہت چھوٹی عمر میں کلام کیا :(1,2)حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ ویحییٰعَلَیْہم ا السَّلَام(3) صاحبِ جُرَیج (4) حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلَیْہِ السَّلامکی گواہی دینے والا بچہ (5)فرعون کو کنگھی کرنے والی کا بیٹا (6)صاحبِ اُخْدُود۔(عمدۃ القاری، کتاب المظالم والغضب، باب اذا ھدم حائطا فلیبن مثلہ، ۹/۲۵۶، تحت الحدیث:۲۴۸۲)راہب نے جھوٹ بولنے کا مشورہ کیوں دیا؟سوال :راہب نے لڑکے کو جھوٹ بولنے کا مشورہ کیوں دیاتھا؟
جواب :علمائے کرام
رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامفرماتے ہیں کہ’’ ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے ، خصوصاً اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے ۔‘‘(اکمال المعلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ۸/۵۵۵، تحت الحدیث:۳۰۰۵)
سرکارِ اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں : ’’ اپنا حقِ مردہ(جس کے ملنے کی امید نہ ہو) زندہ کرنے کے لئے پہلودار بات کہنا کہ جس کا ظاہر دروغ(جھوٹ) ہو اور واقعی میں اس کے سچے معنے مراد ہوں اگرچہ سننے والا کچھ سمجھے بِلاشُبہَہ بِاتفاقِ علمائے دین جائز اور احادیثِ صحیحہ سے اس کا جواز(جائز ہونا) ثابت ہے جبکہ وہ حق بے(بغیر) اس طریقے کے ملنا مُیَسَّر(ممکن)نہ ہو، ورنہ یہ بھی جائزنہیں ‘‘۔ مزید فرمایا : اپناحق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنامباح ہے ۔جان لیجئے کہ جھوٹ کبھی مباح اور کبھی واجب ہوتاہے اس میں ضابطہ (قاعدہ) یہ ہے کہ ہراچھا مطلوب (مقصد) کہ جس تک صِدْق وکِذْب (سچ اور جھوٹ) دونوں سے رَسائی ہوسکے تو اِس صور ت میں جھوٹ بولنا حرام ہے اور ہراچھا مطلوب جس تک رَسائی صرف کِذْب سے ہوسکے توجھوٹ بولنا مباح ہے جبکہ اس مطلوب کو حاصل کرنا مباح ہواور اگر مطلوب حاصل کرنا واجب ہو تو پھرجھوٹ بولنا واجب ہے جیسا کہ بے گناہ کو دیکھے جو کسی ایسے ظالم سے روپوش ہو رہاہے جو اسے مارڈالنے یا اِیذا پہنچانے کا ارادہ رکھتاہو تو ایسی صورت میں (اس مظلوم کوبچانے کے لئے)جھوٹ بولنا اور یہ کہنا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا یا مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ، واجب ہے۔(فتاویٰ رضویہم خَرَّجَہ، ۲۴/۳۵۲ ،۳۵۴)مدنی گلدستہ
’’صبر کرو‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)اللہ عزَّوَجَلَّ کے ولیاللہ عزَّوَجَلَّکی عطا سے لوگوں کی مدد کرتے اور ان کی دکھ بیماریاں دور کرتے ہیں۔
(2) چاہے کیسے ہی بڑے ظالم کا سامنا ہوحق بات کے اظہار سے نہیں ڈرنا چاہیے۔
(3)نیک بندے راہ خدا میں آنے والی ہرمصیبت برداشت کر کے اپنے رب کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔
(4)ہرمشکل گھڑی میں
اللہ عزَّوَجَلَّہی کی طرف رجوع لانا چاہیے اور اسی سے دعا کرنی چاہیے۔
(5)حدیثِ مذکور اس بات کا ثبوت ہے کہ اولیا ئے کِرام
رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکی کرامات حق ہیں۔
(6) اگر کوئی عذرِ شرعی موجود ہو تو تَورِیہ( یعنی پہلو دار بات کرنا) جائز ہے ۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّہمیں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاناور اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکے صدقے مصیبتوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرما!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 30