Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 46

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَجُلَانِ یَسْتَبَّانِ، وَأَحَدُہم ا قَدِ احْمَرَّ وَجْہُہُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْقَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ،لَوْقَالَ:أَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ،ذَہَبَ مِنْہُ مَا یَجِدُ ‘‘ فَقَالُوْا لَہٗ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:تَعَوَّذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری، کتاب بدء ا لخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ۲/۴۰۰، حدیث:۳۲۸۲، بتغیرقلیل)

عن سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ قال:کنت جالسا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ورجلان یستبان، واحدہم ا قد احمر وجہہ، وانتفخت اوداجہ۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:’’إنی لاعلم کلمۃ لوقالہا لذہب عنہ ما یجد،لوقال:اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم،ذہب منہ ما یجد ‘‘ فقالوا لہ: إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:تعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ متفق علیہ (بخاری، کتاب بدء ا لخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ۲/۴۰۰، حدیث:۳۲۸۲، بتغیرقلیل)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان بن صُرَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی باہم گالی گلوچ کرنے لگے، ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسکی رَگیں پھول گئیں۔ نبیِّ اکرم ،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ اُسے پڑھ لے تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گااگر یہ’’ اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لے تو اس کی یہ کیفیت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ، صحابۂ کرام عَلَیْہم ا لرِّضْوَان نے اسے بتایا کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لو!

شرح حدیث

غصہ شیطان کا بہت بڑا مکر ہےحدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کسی دُنیوی غرض کے لئے غصہ کرنا شیطان کے مَکروں (فریبوں ) میں سے ایک بڑامکر ہے ، لہٰذا جسے غصہ آجائے تو اسے چاہئے کہ فوراً تَعَوُّذْپڑھے کیونکہ یہ عمل غصہ ختم کرنے کا سبب ہے( ایک روایت میں ہے کہ جب اس شخص سے تَعَوُّذْ پڑھنے کو کہا گیا تو اس نے کہا :’’کیا میں مجنون ہوں جو تَعَوُّذْ پڑھوں ؟‘‘)علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس کا یہ کہنا اس لئے تھا کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے دین کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا اور شریعت کے انوار سے نابَلد( ناواقف) تھا اس نے یہ گمان کیا کہ اِسْتِعَاذَہ (اَعُوْذُ بِ اللہ پڑھنا) صرف مجنون کے ساتھ خاص ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ غصہ شیطان کے مکروں میں سے ایک بہت بڑا مکر ہے اسی لئے تو انسان غصے کے وقت حالتِ اعتدال سے نکل جاتا ہے اور اَول فَول بکتا ، مذموم حرکتیں کرتا،بغض و حسد کی نیت کرتا اور ان جیسے دوسرے غیر شرعی افعال کرتا ہے جن کا سبب غصہ بنتا ہے۔ ایک شخص بارگاہ رسالت میں باربار نصیحت کا طالب ہوا توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے ہر بار یہی فرمایاکہ ’’ غصہ نہ کیا کر ! غصہ نہ کیا کر! ‘‘یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ غصے میں بہت خرابیاں ہیں۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر وا لصلۃ والاداب، باب فضل من یملک نفسہ عند ا لغضب، ۸/۱۶۳، الجزء ا لسادس عشر )
عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارفرماتے ہیں :اِسْتِعَاذَہ بِ اللہ ( یعنی شیطان مردود سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگنا ) غصے کو ختم کرتا ہے اور ہر وہ عمل جس کا انجام بُرا ہو وہ انسان کو ہلاکت، گمراہی اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا سے دوری کی آفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔پس اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگنا شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث: ۴۷۸۲)
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لیا کرے ۔ ‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث:۴۷۸۴)(ابنِ بطال کتاب الادب،باب الحذر من الغضب،۹/۲۹۶)
غصے کی مَذَمَّت پر3روایات
(
1)جہنمی دروازہتاجدار رسالت ، محبوب رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بے شک! جہنم میں ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی داخل ہوگا جس کا غصہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔‘‘(کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/ ۲۰۸، حدیث:۷۶۹۶،الجزء الثالث )(2)غصہ کب نقصان دہ ہے؟سرکاردوعالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’عنقریب میں تمہیں لوگوں کے معاملات اور ا ن کی عادتوں کے بارے میں بتاؤں گا۔ ایک شخص کو غصہ جلدی آتاہے اور جلد ہی ختم ہو جاتا ہے یہ نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتا ہے نہ کسی سے نقصان اٹھاتا ہے۔اور ایک شخص کو دیر سے غصہ آتا ہے مگر جلد رفع ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے نقصان دہ نہیں۔ ایک شخص اپنے حق کا تقاضا کرتا ہے اور غیر کا حق بھی ادا کر دیتا ہے، اس کا یہ عمل نہ اسے نقصان دیتا ہے نہ کسی دوسرے کو اور ایک شخص اپنا حق تو طلب کرتاہے لیکن دوسرے کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ اس کے لئے مُضِر( نقصان دہ) ہے مفید نہیں۔‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال، ۲ /۲۰۸، حدیث:۷۶۹۹ الجزء الثالث)(3)غصہ ایمان کو خراب کر دیتا ہےسَیِّدُالْمُبَلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے مُعاوِیَہ بِن حَیْدَہ! ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ )غصہ نہ کیاکرو کیونکہ غصہ ایمان کو اس طرح خراب کردیتاہے جیسے اَیلوا (ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کردیتاہے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۲۰۹، حدیث:۷۷۰۹، الجزء الثالث)مد نی گُلد ستہ
’’احمد‘‘ کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اوراسکی وضاحت سے ملنے وا لے4 مدنی پھول
(1) غصہ کی حالت میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے ۔ تَعُوُّذ پڑھنے سے غصہ بہت جلد ختم ہو جاتا ہے ۔
(2) بندہ غصے کی حالت میں اللہ عزَّوَجَلَّ کے غضب کے بہت قریب ہوتا ہے، لہٰذا بے جا غصے سے بچنا چاہئے۔
(3) جن کا غصہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی کسی نافرمانی کے بعد ٹھنڈا ہو اُن کے لئے جہنم کی وعید ہے ۔
(4) غصہ ایمان کو خراب کر دیتا ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں بے جا غصے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین ودنیا میں اپنی رحمت کے سائے میں رکھے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 46