- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 46
باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 46
جلد 1
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَجُلَانِ یَسْتَبَّانِ، وَأَحَدُہم ا قَدِ احْمَرَّ وَجْہُہُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’إِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْقَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ،لَوْقَالَ:أَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ،ذَہَبَ مِنْہُ مَا یَجِدُ ‘‘ فَقَالُوْا لَہٗ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:تَعَوَّذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری، کتاب بدء ا لخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ۲/۴۰۰، حدیث:۳۲۸۲، بتغیرقلیل)
عن سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ قال:کنت جالسا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ورجلان یستبان، واحدہم ا قد احمر وجہہ، وانتفخت اوداجہ۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:’’إنی لاعلم کلمۃ لوقالہا لذہب عنہ ما یجد،لوقال:اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم،ذہب منہ ما یجد ‘‘ فقالوا لہ: إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:تعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ متفق علیہ (بخاری، کتاب بدء ا لخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، ۲/۴۰۰، حدیث:۳۲۸۲، بتغیرقلیل)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان بن صُرَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی باہم گالی گلوچ کرنے لگے، ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسکی رَگیں پھول گئیں۔ نبیِّ اکرم ،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ اُسے پڑھ لے تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گااگر یہ’’ اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لے تو اس کی یہ کیفیت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ، صحابۂ کرام عَلَیْہم ا لرِّضْوَان نے اسے بتایا کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’اَعُوْذُ بِ اللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھ لو!
شرح حدیث
غصہ شیطان کا بہت بڑا مکر ہےحدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کسی دُنیوی غرض کے لئے غصہ کرنا شیطان کے مَکروں (فریبوں ) میں سے ایک بڑامکر ہے ، لہٰذا جسے غصہ آجائے تو اسے چاہئے کہ فوراً تَعَوُّذْپڑھے کیونکہ یہ عمل غصہ ختم کرنے کا سبب ہے( ایک روایت میں ہے کہ جب اس شخص سے تَعَوُّذْ پڑھنے کو کہا گیا تو اس نے کہا :’’کیا میں مجنون ہوں جو تَعَوُّذْ پڑھوں ؟‘‘)علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس کا یہ کہنا اس لئے تھا کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے دین کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا اور شریعت کے انوار سے نابَلد( ناواقف) تھا اس نے یہ گمان کیا کہ اِسْتِعَاذَہ (اَعُوْذُ بِ اللہ پڑھنا) صرف مجنون کے ساتھ خاص ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ غصہ شیطان کے مکروں میں سے ایک بہت بڑا مکر ہے اسی لئے تو انسان غصے کے وقت حالتِ اعتدال سے نکل جاتا ہے اور اَول فَول بکتا ، مذموم حرکتیں کرتا،بغض و حسد کی نیت کرتا اور ان جیسے دوسرے غیر شرعی افعال کرتا ہے جن کا سبب غصہ بنتا ہے۔ ایک شخص بارگاہ رسالت میں باربار نصیحت کا طالب ہوا توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے ہر بار یہی فرمایاکہ ’’ غصہ نہ کیا کر ! غصہ نہ کیا کر! ‘‘یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ غصے میں بہت خرابیاں ہیں۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر وا لصلۃ والاداب، باب فضل من یملک نفسہ عند ا لغضب، ۸/۱۶۳، الجزء ا لسادس عشر )
عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارفرماتے ہیں :اِسْتِعَاذَہ بِ اللہ ( یعنی شیطان مردود سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگنا ) غصے کو ختم کرتا ہے اور ہر وہ عمل جس کا انجام بُرا ہو وہ انسان کو ہلاکت، گمراہی اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا سے دوری کی آفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔پس اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگنا شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث: ۴۷۸۲)
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لیا کرے ۔ ‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث:۴۷۸۴)(ابنِ بطال کتاب الادب،باب الحذر من الغضب،۹/۲۹۶)غصے کی مَذَمَّت پر3روایات
(1)جہنمی دروازہتاجدار رسالت ، محبوب رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بے شک! جہنم میں ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی داخل ہوگا جس کا غصہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔‘‘(کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/ ۲۰۸، حدیث:۷۶۹۶،الجزء الثالث )(2)غصہ کب نقصان دہ ہے؟سرکاردوعالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’عنقریب میں تمہیں لوگوں کے معاملات اور ا ن کی عادتوں کے بارے میں بتاؤں گا۔ ایک شخص کو غصہ جلدی آتاہے اور جلد ہی ختم ہو جاتا ہے یہ نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتا ہے نہ کسی سے نقصان اٹھاتا ہے۔اور ایک شخص کو دیر سے غصہ آتا ہے مگر جلد رفع ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے نقصان دہ نہیں۔ ایک شخص اپنے حق کا تقاضا کرتا ہے اور غیر کا حق بھی ادا کر دیتا ہے، اس کا یہ عمل نہ اسے نقصان دیتا ہے نہ کسی دوسرے کو اور ایک شخص اپنا حق تو طلب کرتاہے لیکن دوسرے کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ اس کے لئے مُضِر( نقصان دہ) ہے مفید نہیں۔‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال، ۲ /۲۰۸، حدیث:۷۶۹۹ الجزء الثالث)(3)غصہ ایمان کو خراب کر دیتا ہےسَیِّدُالْمُبَلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے مُعاوِیَہ بِن حَیْدَہ! ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ )غصہ نہ کیاکرو کیونکہ غصہ ایمان کو اس طرح خراب کردیتاہے جیسے اَیلوا (ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کردیتاہے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۲۰۹، حدیث:۷۷۰۹، الجزء الثالث)مد نی گُلد ستہ
’’احمد‘‘ کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اوراسکی وضاحت سے ملنے وا لے4 مدنی پھول(1) غصہ کی حالت میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے ۔ تَعُوُّذ پڑھنے سے غصہ بہت جلد ختم ہو جاتا ہے ۔
(2) بندہ غصے کی حالت میں اللہ عزَّوَجَلَّ کے غضب کے بہت قریب ہوتا ہے، لہٰذا بے جا غصے سے بچنا چاہئے۔
(3) جن کا غصہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی کسی نافرمانی کے بعد ٹھنڈا ہو اُن کے لئے جہنم کی وعید ہے ۔
(4) غصہ ایمان کو خراب کر دیتا ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں بے جا غصے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین ودنیا میں اپنی رحمت کے سائے میں رکھے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 46