Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 40

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ لِضُرِّ أَصَابَہُ فَإنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ اللہم أَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًالِیْ وَتَوَفَّنِیْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِیْ۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴/۱۳، حدیث:۵۶۷۱)

عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یتمنین احدکم الموت لضر اصابہ فإن کان لا بد فاعلا فلیقل اللہم احینی ما کانت الحیاۃ خیرالی وتوفنی إذا کانت الوفاۃ خیرا لی۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴/۱۳، حدیث:۵۶۷۱)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کسی تکلیف کے آنے پرتم میں سے کوئی شخص ہر گز موت کی تمنا نہ کرے اگر ضروری ہو تو یہ کلمات کہے: ’’یا اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے اور جب میرا مرنا بہتر ہو مجھے موت دے دے۔‘‘

شرح حدیث

علامہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں :’’ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ کسی مرض، فَقْر و فاقہ ،دشمن کے خوف یا اس جیسی دوسری دُنیوی مَشَقَّتوں کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں !جب دینی نقصان یا کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو اس صورت میں موت کی تمنا ممنوع نہیں اور ہمارے بہت سے اَسلافرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامنے فتنے یا دینی نقصان کے خوف سے موت کی تمنا کی، اگر کسی کو ایسا خوف ہو تو وہ ارشاد ِ نبوی کے مطابق یوں دعا کرے: ’’یا اللہ عزَّوَجَلَّ! جب تک میرے حق میں زندگی بہتر ہو مجھے زندہ رکھ اور جب میرا مرنا بہتر ہو تومجھے موت دیدے۔‘‘ اور افضل یہی ہے کہ وہ صبر کرے اور تقدیر پر راضی رہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ …الخ، باب کراہۃ تمنی الموت لضر نزل بہ، ۹/۷، الجزء السابع عشر)لمبی عمر مومن کے لئے بہتر ہےحضرتِ سَیِّدُنا عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَناِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہشرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث میں حضورِ اکرم، نورِ مُجَسّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مصیبت کے وقت موت کی تمنا کرنے سے اپنی امت کو منع فرمایااور اُس وقت موت کی دعا مانگنے کی اجازت عطا فرمائی جب موت ان کے لئے بہتر ہو۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا مانگے اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کا عمل مُنْقَطَع (ختم)ہوجاتا ہے اور مومن کی عمر جتنی زیادہ ہو اتنی بہتر ہے۔‘‘
سوال : اگر کوئی کہے کہ حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنے وِصال کے وقت یہ فرمانا: ’’اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘ (اےاللہ عزَّوَجَلَّمجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے ) یہ بھی تو موت کی تمنا ہی ہے ،اسی طرح اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب اور اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علیُّ الْمُرْتَضٰیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نے موت کی تمنا فرمائی( تو اس میں کیاحکمت تھی ) حالانکہ حدیث پاک میں موت کی تمنا سے منع فرمایاگیا ہے ؟
جواب : ان احادیث مبارکہ میں کوئی تَعَارُض(ٹکراؤ) نہیں ہے کیونکہ حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا:’’اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘موت کی تمنا نہیں کیونکہ وہ ملائکہ جو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو رب سے ملاقات کی خوشخبری دے رہے تھے آپ نے انہیں دیکھ کر جان لیا تھا کہ اب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہونے والا ہے اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے پہلے ہی فرمادیا تھا کہ ’’تمہارے والد کو آج کے بعد کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔ ‘‘اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کسی نبی کی روح اس وقت تک قَبْض نہیں کی جاتی جب تک کہ اسے اِختیار نہ دیا جائے ،پھر جب میں نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا (اللھُمَّ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی) تو میں سمجھ گئی کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وِصال ہونے والا ہے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا میں رہنا اختیار نہیں فرمایا اور آخرت کی زندگی کو پسند فرمایا اور اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی ۔ (شرح بخا ری لابن بطال،کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۹/۳۸۷)
اسی طرح حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو جب یہ خوف لاحق ہوا کہ بڑھاپے اورجسمانی کمزوری کی وجہ سے شاید رعایا سے متعلق احکام خداوندی صحیح طور سے بجا نہ لاسکیں یا کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جو دنیا یا آخرت میں باعث ملامت ہو تو انہوں نے دعا کی کہ اے میرےاللہ عزَّوَجَلَّ! اس سے پہلے کہ میں عاجز ہو جاؤں یا مجھ پر ملامت کی جائے تو میری روح قبض فرما۔
اسی طر ح جب اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا
کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَریْمکو رعایا سے اُکتاہٹ یا رعایا کی ان سے اُکتاہٹ اور اس کے نتیجے میںاللہ عزَّوَجَلَّکی ناراضی یا دور نہ ہونے والے باہم ی اختلا ف کا خوف ہوا تو انہوں نے موت کی تمنا کی ۔ (شرح بخا ری لابن بطال،کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۹/۳۸۹)
تفہیم البخاری شرح بخاری میں ہے:اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کے وقت موت کی خواہش کرنا ممنوع ہے۔ بعض نے کہا یہ ’’نَہی‘‘ (موت کی تمنا سے منع کرنا ) آیتِ مقدسہ میں یوسف
عَلَیْہِ السَّلام کے قولتَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱)(پ۱۳، یوسف:۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان :مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں۔
اور حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان
عَلَیْہِ السَّلام کے قولوَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۹)(پ۱۹، النمل:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قربِ خاص کے سزاوار ہیں۔
اور اس حدیث ’’
اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘ سے منسوخ ہے ۔(تفہیم البخاری، ۸/۷۴۵ )
افسوس ! آج کل اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے بہت سے لوگ گھریلو ناچاقیوں ، تنگئ معاش ،کسی مُوذِی مرض یا اور طرح طرح کی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی تمنا کرتے دکھائی دیتے ہیں ، انہیں اس حدیث پاک سے عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔بہت سی احادیث مبارکہ میں موت کی تمنا سے منع فرمایا گیاہے ۔چنانچہ، اس ضمن میں چار فرامین مصطفیٰ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیے !
(1) تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے اور وقت سے پہلے اس کی دعا نہ کرے کیونکہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے اعمال بھی مُنْقَطَع ہوجاتے ہیں اور مومن کے لئے زیادہ عمر میں بھلائی ہے ۔ ( مسلم ،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب کراہۃ تمنی الموت لضر نزل بہ، ص۱۴۴۱، حدیث:۲۶۸۲)
(2) تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر نیک ہے تو اُمید ہے کہ اس کی نیکیاں زائد ہوں گی اور اگر بد ہے تو شاید بھلائی کی طرف لوٹ آئے ۔(بخاری، کتاب التمنی، باب ما یکرہ من التمنی، ۴/۴۸۶، حدیث:۷۲۳۵)
(3) موت کی تمنا مت کرو کیونکہ نَزْع کی ہولناکی سخت ہے ، انسان کی عمر کا زائد ہونا نیک بختی ہے ممکن ہے کہ
اللہ عزَّوَجَلَّاسے رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(مسند امام احمد، مسند جابر بن عبد اللہ ، ۵/۸۷، حدیث:۱۴۵۷۰)
(4) حضرتِ سَیِّدُنا انس
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا : اگر نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمموت کی تمنا کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں تمنا کرتا۔ (بخاری، کتاب التمنی، باب ما یکرہ من التمنی، ۴/ ۴۸۶، حدیث:۷۲۳۳)
مذکورہ احادیث مبارکہ میں موت کی تمنا سے منع فرمایا گیا ہے ۔اس لئے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ درازی ٔ عمر بالخیر اور دارزیٔ عمر عَلَی الطَّاعَۃِ(یعنی نیکیوں والی لمبی زندگی) کی دعا کرنی چاہیے ، کیونکہ جس کی عمر زیادہ ہو گی اس کی نیکیاں بھی زیادہ ہونگی ۔ بہت سی احادیث میں لمبی عمر کی فضیلت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ، چار فرامین مصطفیٰ بیان کئے جاتے ہیں :
(1)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :’’یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! سب سے بہتر کون ہے ؟‘‘ فرمایا:’’ جس کی عمر طویل اور عمل اچھا ہو۔‘‘پوچھا : سب سے بُرا کون ہے ؟ فرمایا :’’ جس کی عمر لمبی اور عمل بُرا ہو ۔‘‘(ترمذی ، کتاب الزھد باب منہ، ۴/۱۴۸، حدیث:۲۳۳۷)
(2) رَسُوْلُ
اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تم میں بہتر وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو ۔(مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ، ۳/۲۰، حدیث:۷۲۱۶)
(3) نبیِّ کریم، رء وف رحیم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر آدمی کی خبر نہ دوں ؟ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی :ہاں ! یَا رَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا : اِسلام کی حالت میں جس کی عمر زائد ہو اور اچھے کام کرے ۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق قسم الاقوال، ۲/۲۱، حدیث:۵۳۸۲، الجزء الثالث)
(4) حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے : قُضَاعَہ (قبیلہ ) کے دو شخص حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لائے ، ان میں سے ایک تو شہید ہوگیا اور دوسرا ایک سال بعد تک زندہ رہ کر انتقال کرگیا ، حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْدُاللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ بعد میں مرنے والا شخص شہید سے بھی پہلے جنت میں داخل ہوگیا۔ صبح میں نے یہ واقعہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کیاتو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :کیا اس نے شہید کے بعد ایک رمضان کے روزے نہ رکھے تھے اور چھ ہزار رکعت نمازاور اتنی اتنی سنتیں نہیں پڑھی تھیں ؟ (یعنی اس شخص نے ایک سال میں جو رمضان کے روزے اور نمازیں پڑھیں ان کے سبب اس کی نیکیاں شہید سے زیادہ ہوگئیں اس لئے جنت میں جلدی چلاگیا )۔(مسند امام احمد، مسند ابی ہریرہ،۳/۲۲۹،حدیث:۸۴۰۷)
معلوم ہوا کہ اگر انسان طویل عمر پائے اور اس میں خوب نیک اَعمال کرے تو یہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے کیونکہ نیک اعمال جتنے زیادہ ہونگے اتنے ہی درجات بھی زیادہ ہونگے جیسا کہ حدیث مذکو ر میں بیان ہو اکہ ایک مسلمان ایک شہید سے پہلے جنت میں داخل ہوگیا کیونکہ اس نے شہید سے ایک سال زیادہ عمر پائی اور اس نے اس ایک سال میں
اللہ عزَّوَجَلَّکی اتنی عبادت کی کہ وہ نیک اعمال میں شہید سے بھی آگے نکل گیا ۔موت کی تمنا کرنے کی جائز صورتیںرَنج و مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے ۔ہاں شوقِ وصلِ الٰہی (اللہ عزَّوَجَلَّسے ملنے کے شوق)، صالحین سے ملنے کے اِشْتِیَاق (شوق)، دینی نقصان یا فتنے میں پڑ نے کے خوف سے موت کی تمنا کرنا جائز ہے، رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت علامہ مولانا نقی علی خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے مرنے کی دعا جائز ہے حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منقول ہے :’’اِذَا اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنَ‘‘ اےاللہ عزَّوَجَلَّ! جب تو کسی قوم کے ساتھ عذاب و گمراہی کا ارادہ فرمائے (ان کے اعمالِ بد کے سبب) تو مجھے بغیر فتنے کے اپنی طرف اٹھا ۔ حدیث پاک میں ہے : تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ نیکی کرنے پر اعتمادنہ رکھتا ہو۔سرکار اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : خلاصہ یہ کہ دُنیوی مُضَرَّتوں (نقصانات) سے بچنے کے لئے موت کی تمنا ناجائز ہے اور دینی مُضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز ۔(فضائلِ دعا ،ص ۱۸۲)
اسی طرح بعض روایات میں بھی موت کی تمنا کرنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ قبر کے پاس گزرنے والا یہ نہ کہے گا: اے کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔(بخاری، کتاب الفتن، باب لاتقوم الساعۃ حتی یغبط اہل القبور، ۴/۴۴۷، حدیث:۷۱۱۵)
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے دعا کی : اےاللہ عزَّوَجَلَّ! میری عمر بڑھ گئی ، قوت کم ہوئی اور میری رعایا پھیل گئی تو مجھے وفات دے تاکہ میں ضائع کرنے والا اور کوتاہی کرنے والا نہ بنوں۔(کنز العمال، کتاب الحدود، قسم الاقوال، ۳/۱۷۱، حدیث:۱۳۵۱۹، الجزء الخامس)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : بیماری و آفات سے گھبرا کر موت نہ مانگے اور جس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہے ، کیونکہ اس خیرو شر میں دین و دنیا کی خیر و شر شامل ہے۔ گویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے ، خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے: خدایا مجھے شہادت کی موت دے، خدایا مجھے مدینے پاک میں موت نصیب کر! چنانچہ، عمر فاروق (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ)نے دعا کی تھی کہ مولا! مجھے اپنے حبیب (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے شہر میں شہادت نصیب کر !حضرت حفصہ(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا) نےعرض کی: یہ کیسے ہوسکے گا ؟تو آپ نے فرمایا:اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّایسے ہی ہوگا ۔چنانچہ، مسجدِ نبوی محرابُ النبی نماز کی حالت میں مصلائے مصطفٰے پرآپ کو کافر مجوسی اَبُو لُؤلُؤنے شہید کردیا، دعا کیا تھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا، کیوں نہ ہو، یہ رب کی مانتے ہیں رب ان کی مانتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ /۴۳۶)
زندگی میں بہت سی پریشانیاں اور مشکلات آتی ہیں ، اگر بندہ
اللہ عزَّوَجَلَّکی رضا پر راضی رہتے ہوئے ثواب کی نیت سے مصائب پر صبر کرے تو اس کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ صبر کی برکت سے گناہ مٹتے، درجات بلند ہوتے اور ثواب کا عظم خزانہ ملتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہوں کا مِٹنا نیکیوں کا بڑھنا انسان کے لئے بہت بڑی بھلائی ہے کیونکہ مصیبت وقتی ہوتی ہے دنوں کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اثر اس کا درد زائل ہو جاتا ہے جبکہ آخرت کا عذاب باقی رہنے والا اور بہت دردناک ہے ، لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ صبر کے ذریعے مصیبت کا مقابلہ کرے آخرت کے فائدے کی طرف نظر رکھے اور اس مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے ۔
صَدْرُ الشَّرِیْعَہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیبہارِ شریعت میں فرماتے ہیں :مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دعا مانگنا مکروہ ہے، جبکہ کسی دنیوی تکلیف کی وجہ سے ہو، مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں معصیت میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔(بہارِ شریعت ۳/ ۶۵۸ حصہ۱۶)
شیخِ طریقت امیر اہلِسنت بانیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری
دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃِبارگاہ رسالت میں یوں استغاثہ کرتے ہیں :
مجھے ہریالے گنبد کے تلے قد موں میں موت آئے سلامت لے کے جاؤ دین وایماں یَا رَسُوْلَ
اللہمیں ہوں سنی رہوں سنی مروں سنی مدینے میں بقیع پاک میں بن جائے تُربَت یَا رَسُوْلَاللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمد نی گُلد ستہ
’’سبزگنبد ‘‘کے 7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے 7 مدنی پھول
(1) دنیوی مصائب سے تنگ آکر موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے ۔
(2) خوش بخت ہے وہ مسلمان جس کی عمر طویل اور اعمالِ صالحہ کثیر ہوں۔
(3)دینی نقصان یا کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو موت کی تمنا کرنا جائز ہے ۔
(4)
اللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا کرنا جائز ہے ۔
(5) بُرا ہے وہ شخص جس کی عمر طویل اور اعمال برے ہوں۔
(6) اگر موت کی دعا کرنا ضروری ہو تو یوں دعا کی جائے: اے
اللہ عزَّوَجَلَّجب تک میرے حق میں زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ جب موت بہتر ہو تو مجھے اس دنیا سے اٹھا لے ۔
(7) اگرچہ بعض صورتوں میں موت کی تمنا جائز ہے لیکن افضل یہی ہے کہ صبر کیا جائے اور اپنی تقدیر پر راضی رہا جائے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، اگر ہمارے مقدر میں بدبختی لکھ دی گئی ہو تو اسے مٹا کر ہمیں نیک بخت لکھ دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)(پ۱۳، الرعد :۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان :
اللہجو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے، اور اصل لکھا ہوا اُسی کے پاس ہےتُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 40