Main Icon

باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 739

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مَسْعُوْدٍ البَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ:دَعَا رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم لِطعَامٍ صَـنعَهُ لَهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلمَّا بَلَغَ البَابَ،قَالَ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِنَّ هَذَا تَبِعَنَا، فَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَاْذَنَ لَهُ، وَاِنْ شِئْتَ رَجَعَ، قَالَ: بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ.

عن ابي مسعود البدري رضي الله عنه قال:دعا رجل النبي صلى الله عليه وسلم لطعام صـنعه له خامس خمسة، فتبعهم رجل، فلما بلغ الباب،قال النبي صلى الله عليه وسلم:ان هذا تبعنا، فان شئت ان تاذن له، وان شئت رجع، قال: بل آذن له يا رسول الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو مسعود بدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کھانے کی دعوت دی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسمیت اس نے پانچ افراد کو دعوت پر بلایا ۔ ایک شخص ان افراد کے پیچھے آ گیا۔جب دروازے پر پہنچے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میزبان سے فرمایا:’’یہ شخص ہمارے پیچھے آگیا ہے اگر تم چاہو تو اجازت دو اور اگر چاہو تو لوٹا دو۔‘‘میزبان نے عرض کیا:’’یارسولَ اللّٰہ!میں نے اُسے اجازت دے دی۔ ‘‘

شرح حدیث

اِضافی شخص کی اجازت لے لیجئے:مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جتنے اَفراد کی دعوت کی جائے اتنے ہی دعوت میں شریک ہوں اور اگر بالفرض کوئی فرد یا چند افراد زائد ہو ں تو میزبان سے ان کے بارے میں بھی اجازت لے لی جائے، اگرمیزبان اجازت دے دے تو ٹھیک ورنہ احسن طریقے سے انہیں لوٹا دیا جائے۔ جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بغیر بلائے ہوئے ایک شخص کے بارے میں میزبان سے اجازت طلب فرمائی اوراگرمیزبان پر زائد افراد کا آنا گراں ہو تو ایسی صورت میں اجازت لیے بغیر زائد اَفراد کو لوٹادیا جائےبلکہ ایسی صورت میں پہلے سے ہی کوشش کی جائے کہ زائد اَفراد ساتھ نہ آئیں۔واہ کیا بات ہے میرے آقا کی۔۔۔!مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:سُبْحَانَ اﷲ!یہاں تو ایک زائد شخص کے لیے اجازت حاصل فرما رہے ہیں اور حضرت جابر و طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے گھر چار پانچ آدمیوں کی دعوت میں کئی سو حضرات کو لے گئے اور کھانا کھلایا،یہاں مسئلہ شرعی بتانا مقصود ہے اور وہاں اپنی ملکیت اور سلطنتِ خداداد کا اظہار مقصود کہ حضور ہم سب کے مالک ہیں،ساری امت حضور کی لونڈی غلام،مالک کو حق ہے کہ اپنے غلام کی دعوت میں جسے چاہے بلائے،کیونکہ غلام کا مال مالک کا مال ہے،نیز وہاں اُن صدہا حضرات کو حضور نے خود اپنے معجزے سے کھانا کھلایا کہ وہاں کھانا کھانے سے کم نہ ہوا،جو چیز خرچ کرنے سے کم نہ ہو وہاں بلانے نہ بلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کنویں،دریا سے بغیر بلائے سب پانی پیتے ہیں مگر گھڑے کا پانی مالک سے پوچھ کر،اِیصال ثواب کا بھی یہی حکم ہے،اگر کسی خاص میت کے لیے کھانا پکایا گیا ہے تو تم اس کے ساتھ ساری امتِ رسول کو ثواب پہنچاسکتے ہو۔ اس سے دعوت کے متعلق بہت سے مسائل معلوم ہوئے:*ایک یہ کہ کوئی شخص بغیر بلائے دعوت میں نہ جائے۔*دوسرے یہ کہ بلایا ہوا آدمی بھی اپنے ساتھ کسی ناخواندہ (یعنی جس کو دعوت میں نہیں بلایا گیا اس )کو نہ لے جائےاِلَّابِالْعُرْف(یعنی اگر ایسا کرنے کا عرف ہو تو پھر ساتھ لے جا سکتا ہے ) چنانچہ بادشاہ کی دعوت میں اس کا باڈی گارڈ عملہ جاسکتا ہے کہ اب اِس پر عرف قائم ہے۔*تیسرے یہ کہ ناخواندہ شخص کے لیے اجازت لی جائے۔*چوتھے یہ کہ ناخواندہ بغیر اجازت داعی (یعنی بلانے والے)کے گھر میں داخل نہ ہو۔*پانچویں یہ کہ مہمان کھاتے وقت کسی آجانے والے آدمی کو آرڈر نہ کرے کہ آؤ کھانا کھالو کیونکہ مہمان کھانے کا مالک نہیں۔*چھٹے یہ کہ دسترخوان والا دوسرے دستر خوان والے کو کوئی چیز اس دستر خوان کی نہ دے ہاں ایک دستر خوان کے لوگ ایک دوسرے کو جو چاہیں دیں۔بعض فقہا تو فرماتے ہیں کہ مہمان اجنبی کتے کو ہڈی بھی نہیں ڈال سکتا(فی زمانہ ہڈی کا کوئی منع نہیں کرتا)،اگر مالک کا کتا ہے تو اس کو ڈالے۔بعض فقہا فرماتے ہیں کہ اگر مہمان کسی وجہ سے خود کھانا نہ کھائے تو اپنا حصہ دوسرے کو بغیر اجازت کھلا سکتا ہے۔وَاﷲُ اَعْلَممدنی گلدستہ’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(6) حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا میزبان سے دوسرے شخص کے لئے اجازت طلب فرمانا تعلیم اُمَّت کے لئے تھا ۔
(7) کوئی شخص بغیر بلائے دعوت میں نہ جائےاور نہ ہی بلایا ہوا آدمی اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو لے کر جائے جسے دعوت میں بلایا نہیں گیا ۔
(8) مدعو اَفراد کے ساتھ زائد افراد ہوں تو انہیں چاہیے کہ ان کی میزبان سے اجازت لے لیں۔
(9) اگر مہمان کسی وجہ سے خود کھانا نہ کھائے تو اپنا حصہ دوسرے کو بغیر اجازت کھلا سکتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دعوت کواس کے آداب کے مطابق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 739