Main Icon

باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 946

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عَمْرو وَقِیْلَ اَبُو عَبْدِاللہِ وَقِیْلَ اَبُوْلَیْلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا فرََغَ مِنْ دَفْنِ المَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ وَقَالَ :اِسْتَغْفِرُوْا لِاَخِيْكُمْ وَسَلُوْا لَهُ التَّثْبِيْتَ فَاِنَّهُ اَلْآن يُسْئَلُ.

عن ابی عمرو وقیل ابو عبداللہ وقیل ابولیلی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا فرغ من دفن الميت وقف عليه وقال :استغفروا لاخيكم وسلوا له التثبيت فانه الآن يسئل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوعَمرو یاابوعبداللّٰہیا ابولیلیٰ عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو کچھ دیر قبر پر تشریف فرما رہتے اور فرماتے: ”اپنے بھائی کے لیےاِستِغْفَارکرو اور اس کے ثابت قدم رہنے کی دعا کروبے شک اب اُس سے سوال کیا جائے گا۔“

شرح حدیث

حدیث سے ماخوذ تین فوائد:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں: اس حدیث سے تین فائدے حاصل ہوئے۔ * پہلا فائدہ : مُردے کو زندوں کی دعا سے فائدہ پہنچتا ہے۔ *دوسرا فائدہ:قبر میں سوالات ہوں گے۔ *تیسرا فائدہ :یہ سوالات بعدِ دَفن ہوں گے۔مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرتعبداللّٰہبن ابو بکررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجب میت کو دفنا دیتے تو کچھ دیر قبر کے پاس ٹھہرتے پھر یوں کہتے:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !تیرے بندے کو تیری طرف لوٹا دیا گیا ہے تو اِس پر نرمی اور رحم فرما۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !اس کی قبر کشادہ کردے، اِس کی رُوح کے لیے آسمان کے دروازے کھول دے اور اُسے اچھی طرح قبول فرما۔ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکیوں کو دُگنا فرما اور اگر گنہگار تھا تو اُس سے درگزر فرما۔“تدفین کے بعد دعا اور اِیصالِ ثواب کا ثبوت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:ہمارے ہاں رواج ہے کہ بعدِ دفن فورا واپس نہیں ہوتے بلکہ قبر کے آس پاس حلقہ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں کچھ پڑھ کر بخشتے ہیں اور میت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ تمام فعل سنت ہیں۔بعض جگہ بعد دفن قبر پر اذان بھی کہتے ہیں۔یہ بھی اسی حدیث سے نکل سکتا ہے کہ اس میں مردے کوتلقین ہے اور اس کے ثبات قدمی کی کوشش ہے۔(بے شک اب اُس سے سوال کیا جائے گا۔) یعنی ہونے ہی والے ہیں کیونکہ حساب قبر لوگوں کے لَوٹنے کے بعدشروع ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زِندوں کی دُعا سے مُردوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی ان کے صدقات وخیرات میت کو مفید ہیں۔ابو امامہ کی روایت میں ہے کہ حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ارشاد فرماتے ہیں: دفن کے بعد قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ کہو: اے فلاں ابنِ فلاں! اپنا وہ کلمہ یاد کر جسے تو دنیا میں پڑھتا تھا۔تیرا ربہے،تیرا دِین اسلام ہے،تیرے نبی محمد مصطفےٰ ہیں۔
اشعۃ اللمعات میں ہے:اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زندوں کی دعا سے میت کو فائدہ پہنچتا ہےاور ان کے لئے استغفاراوربخشش کی طلب رحمت کا سبب وذریعہ ہے۔مشائخ اہل سنت وجماعت کا یہی مذہب ہےکہ زندوں کا مردوں کے لئے دعا کرنے اور ان کی طرف سے صدقہ کرنے میں انہیں نفع اور فائدہ پہنچتا ہے۔ قبر پر دعا اور طلب استقامت اس تلقین کے علاوہ ہے جو دفن میت کے بعد کرتے ہیں۔مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”اس کے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ۔“یعنی یہ کہو:
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے قولِ ثابت پر ثابت قدم رکھے یا اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!اسے قولِ ثابت پر ثابت قدم رکھ۔قولِ ثابت سے مراد منکر نکیر کے سوالات کے وقت کلمہ شہادت ہے۔ امام ابن حجر مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: اس حدیث میں بعد تدفین تلقین کا اشارہ ہے جو ہمارے معتمد مذہب کے مطابق سنت ہے۔بعض نے اسے بدعت کہا ہے مگر یہ تلقین بدعت کیسے ہوسکتی ہے جبکہ اس کے بارے میں صریح حدیث موجود ہے جو درجہ حسن تک پہنچی ہوئی ہے۔بیہقی میں حضرت ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ بعد دفن قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع اور پائنتی پر آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے۔مدنی گلدستہ’’مُسْتَحَب‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) تدفین کے بعد کچھ دیر قبر کے پاس ٹھہرے رہنا سنت ہے۔
(2) تدفین کے بعد میت کے لیے
اِسْتِغْفَاراوراُس کے ثابت قدم رہنے کی دُعا کرنی چاہیے۔
(3) مُردے کو زندوں کی دُعا سے فائدہ پہنچتا ہے۔
(4) قبر کے پاس قرآن پڑھنا مستحب ہے۔
(5) تدفین کےبعد میت کے سِرہانے پر سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع اور پائنتی پر آخری رکوع پڑھنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ایمان وعافیت کے ساتھ موت عطافرمائے اور قبرکے امتحان میں کامیابی عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 946