باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 955
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّه عَنْهُمَا اَنَّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَصْحَابِهِ يَعْني لمَّا وَصلُوا الْحِجْرَ : دِيَارَ ثمُوْدَ :لا تَدْخُلُوا عَلٰى هَؤُلاءِ الْمُعَذَّبِيْنَ اِلَّا اَنْ تَكُونُوْا بَاكِيْنَ فَاِنْ لَمْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ فَلَا تَدْخُلُوْا عَلَيْهِمْ لَا يُصِيْبُكُمْ مَا اَصَابَهُمْ.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ:لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ اَنْ يُصِيْبَكُمْ مَا اَصَابَهُمْ اِلَّا اَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ ثُمَّ قَنَّعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاْسَهُ وَاَسْرَعَ السَّيْرَ حَتّٰى اَجَازَالْوَادِي.
عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاصحابه يعني لما وصلوا الحجر : ديار ثمود :لا تدخلوا على هؤلاء المعذبين الا ان تكونوا باكين فان لم تكونوا باكين فلا تدخلوا عليهم لا يصيبكم ما اصابهم.( )وفي رواية قال:لما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحجر قال: لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا انفسهم ان يصيبكم ما اصابهم الا ان تكونوا باكين ثم قنع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه واسرع السير حتى اجازالوادي.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جس وقت صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمقامِ حِجر یعنی قومِ ثمود کے تباہ شدہ علاقے سے گزرنے لگے تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اَصحاب سےفرمایا:”ان عذاب میں مبتلا لوگوں کے پاس سے روتے ہوئے گزرو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو اِن کے پاس سے مت گزرنا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ لوگ مبتلا ہوئے۔“ایک روایت میں ہےکہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ حِجر کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا: ”ان ظالم لوگوں کے مکانات کے پاس سے روتے ہوئے گزرو تاکہ تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔“ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور تیزی سے چلنے لگے حتّٰی کہ اُس وادی سے گزرگئے۔
شرح حدیث
مقامِ حجر:حجر وہ جگہ ہے جہاں صالحعَلَیْہِ السَّلَامکی قوم یعنی قومِ ثمود آباد تھی،یہ جگہ تبوک جاتے ہوئے راستہ میں پڑی اور یہ واقعہ غزوۂ تبوک کا ہے وہاں عذابِ الٰہی آیا تھا اب اُس کے کھنڈرات موجود تھے۔مذکورہ دونوں اَحادیث میں اُن مقامات سے روتے ہوئے گزرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے جہاں عذابِ الٰہی کا نزول ہوا ہو نیز وہاں سے تیزی سے گزرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ایسی جگہوں سے تیزی سے اور روتے ہوئے گزر جاؤ تاکہ تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤ جس عذاب میں وہ لوگ مبتلا ہوئے تھے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدعذاب والی جگہوں سے روتے ہوئے گزرو:اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث میں ظالم وسرکش لوگوں کے علاقوں اور عذاب والے مقامات سے گزرتے وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ اسی طرح وادیٔ محسّر سے تیزی سے گزرنے کا حکم ہے کیونکہ وہاں اصحابِ فیل ہلاک ہوئے ۔ایسے مقامات سے گزرنے والے کو چاہیے کہ وہاں سے گزرتے وقت اپنے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرے اور روتے ہوئے، اُن سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے پناہ مانگتے ہوئے گزرجائے۔مذکورہ حدیث شریف سے پتا چلا کہ ایسے مقامات پر بلا وجہ نہیں جانا چاہیے جہاں عذابِ الٰہی کا نزول ہوا ہو اور اگر ضرورتاً جانا پڑ جائے تو روتے ہوئے وہاں سے گزر جانا چاہیے۔چنانچہمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ جہاں عذابِ الٰہی آچکا ہو وہاں جانا نہ چاہیے کہ وہاںاللّٰہکی لعنت برس رہی ہے کہ تم بھی اس میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔اس سے پتہ چلا کہ جہاںاللّٰہکی رحمتیں آچکی ہوں وہاں ضرور جانا چاہیے کہ وہاں اب بھی نزولِ انوار ہے تم بھی اس میں کچھ پالو، مثلًا صفا مروہ پہاڑیاں،منیٰ مزدلفہ،عرفات،یوں ہی حضراتاولیاءُ اللّٰہکے آستانے تا قیامت انوارِ الٰہی کے مقامات ہیں۔قومِ ثمود کے کنویں کا پانی پینے سے بھی حضور نے منع فرمادیا بلکہ جن لوگوں نے اس پانی سے آٹا گوندھ لیا تھا ان کا گوندھا ہوا آٹا بھی پھینکوادیا۔اس سے پتہ لگا کہ مکین کا اثر مکان میں ہوتا ہے،یوں ہی بندوں کا اثر زمانہ میں ہوجاتا ہے۔جس جگہ یا جس وقتاللّٰہکے مقبول بندے نے عبادت کی ہو وہ جگہ وہ وقت قبولیت کے ہوجاتے ہیں۔سرکارِ دو عالَم (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں کہ شہر میں بہترین جگہ مسجدیں ہیں اور بدترین جگہ بازار ہیں،اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ اچھے بُرے لوگوں کی صحبت میں تاثیر ہے۔مصر میں فرعون پر عذاب نہ آیا لہٰذا وہاں رہنا ممنوع نہیں، طوفانِ نوح کفار کے لیے عذاب تھا مگر مؤمنوں کے لیے رحمت، لہٰذا اس کا حکم کچھ اور ہے۔“سر ڈھانپ کر تیزی سے گزر جانے کی حکمت:حدیث میں ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر مبارک کو ڈھانپا اور اُس مقام سے تیزی سے گزر گئے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمقامِ حجر سے اپنے سر مبارک کو ڈھانپا اور سرجھکا کر دائیں بائیں توجہ کئے بغیر خوف وخشیت رکھنے والے کی طرح وہاں سے جلدی سے گزر ے تاکہ آپ کی نظران کےمکانات پر نہ پڑے۔ آپ کا یہ فعل تعلیمِ اُمَّت کے لیے تھا تاکہ مسلمان آپ کی اتباع کریں۔“مدنی گلدستہ’’نعمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب کسی عذاب شدہ قوم کے پاس سے گزریں تو ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
(2) عذاب والی جگہوں پر بلا وجہ نہیں جانا چاہیے۔
(3) جب کسی ایسے مقام سے گزرنا پڑے جہاں عذاب نازل ہوا ہو تو وہاں سے روتے ہوئےاوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے ڈرتے ہوئے تیزی سے گزرجانا چاہیے۔
(4) حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عذاب والے مقام سے سر ڈھانپ کر تیزی سے گزر جانا تعلیمِ اُمَّت کے لیے تھا تاکہ اُمَّتی بھی جب ایسی جگہ سے گزریں تو آپ کی پیروی کریں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے میں ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 955