Main Icon

باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 955

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّه عَنْهُمَا اَنَّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَصْحَابِهِ يَعْني لمَّا وَصلُوا الْحِجْرَ : دِيَارَ ثمُوْدَ :لا تَدْخُلُوا عَلٰى هَؤُلاءِ الْمُعَذَّبِيْنَ اِلَّا اَنْ تَكُونُوْا بَاكِيْنَ فَاِنْ لَمْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ فَلَا تَدْخُلُوْا عَلَيْهِمْ لَا يُصِيْبُكُمْ مَا اَصَابَهُمْ.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ:لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ اَنْ يُصِيْبَكُمْ مَا اَصَابَهُمْ اِلَّا اَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ ثُمَّ قَنَّعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاْسَهُ وَاَسْرَعَ السَّيْرَ حَتّٰى اَجَازَالْوَادِي.

عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاصحابه يعني لما وصلوا الحجر : ديار ثمود :لا تدخلوا على هؤلاء المعذبين الا ان تكونوا باكين فان لم تكونوا باكين فلا تدخلوا عليهم لا يصيبكم ما اصابهم.( )وفي رواية قال:لما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحجر قال: لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا انفسهم ان يصيبكم ما اصابهم الا ان تكونوا باكين ثم قنع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه واسرع السير حتى اجازالوادي.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جس وقت صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمقامِ حِجر یعنی قومِ ثمود کے تباہ شدہ علاقے سے گزرنے لگے تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اَصحاب سےفرمایا:”ان عذاب میں مبتلا لوگوں کے پاس سے روتے ہوئے گزرو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو اِن کے پاس سے مت گزرنا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ لوگ مبتلا ہوئے۔“ایک روایت میں ہےکہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ حِجر کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا: ”ان ظالم لوگوں کے مکانات کے پاس سے روتے ہوئے گزرو تاکہ تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔“ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور تیزی سے چلنے لگے حتّٰی کہ اُس وادی سے گزرگئے۔

شرح حدیث

مقامِ حجر:حجر وہ جگہ ہے جہاں صالحعَلَیْہِ السَّلَامکی قوم یعنی قومِ ثمود آباد تھی،یہ جگہ تبوک جاتے ہوئے راستہ میں پڑی اور یہ واقعہ غزوۂ تبوک کا ہے وہاں عذابِ الٰہی آیا تھا اب اُس کے کھنڈرات موجود تھے۔مذکورہ دونوں اَحادیث میں اُن مقامات سے روتے ہوئے گزرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے جہاں عذابِ الٰہی کا نزول ہوا ہو نیز وہاں سے تیزی سے گزرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ایسی جگہوں سے تیزی سے اور روتے ہوئے گزر جاؤ تاکہ تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤ جس عذاب میں وہ لوگ مبتلا ہوئے تھے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدعذاب والی جگہوں سے روتے ہوئے گزرو:اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث میں ظالم وسرکش لوگوں کے علاقوں اور عذاب والے مقامات سے گزرتے وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ اسی طرح وادیٔ محسّر سے تیزی سے گزرنے کا حکم ہے کیونکہ وہاں اصحابِ فیل ہلاک ہوئے ۔ایسے مقامات سے گزرنے والے کو چاہیے کہ وہاں سے گزرتے وقت اپنے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرے اور روتے ہوئے، اُن سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے پناہ مانگتے ہوئے گزرجائے۔مذکورہ حدیث شریف سے پتا چلا کہ ایسے مقامات پر بلا وجہ نہیں جانا چاہیے جہاں عذابِ الٰہی کا نزول ہوا ہو اور اگر ضرورتاً جانا پڑ جائے تو روتے ہوئے وہاں سے گزر جانا چاہیے۔چنانچہمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ جہاں عذابِ الٰہی آچکا ہو وہاں جانا نہ چاہیے کہ وہاںاللّٰہکی لعنت برس رہی ہے کہ تم بھی اس میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔اس سے پتہ چلا کہ جہاںاللّٰہکی رحمتیں آچکی ہوں وہاں ضرور جانا چاہیے کہ وہاں اب بھی نزولِ انوار ہے تم بھی اس میں کچھ پالو، مثلًا صفا مروہ پہاڑیاں،منیٰ مزدلفہ،عرفات،یوں ہی حضراتاولیاءُ اللّٰہکے آستانے تا قیامت انوارِ الٰہی کے مقامات ہیں۔قومِ ثمود کے کنویں کا پانی پینے سے بھی حضور نے منع فرمادیا بلکہ جن لوگوں نے اس پانی سے آٹا گوندھ لیا تھا ان کا گوندھا ہوا آٹا بھی پھینکوادیا۔اس سے پتہ لگا کہ مکین کا اثر مکان میں ہوتا ہے،یوں ہی بندوں کا اثر زمانہ میں ہوجاتا ہے۔جس جگہ یا جس وقتاللّٰہکے مقبول بندے نے عبادت کی ہو وہ جگہ وہ وقت قبولیت کے ہوجاتے ہیں۔سرکارِ دو عالَم (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں کہ شہر میں بہترین جگہ مسجدیں ہیں اور بدترین جگہ بازار ہیں،اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ اچھے بُرے لوگوں کی صحبت میں تاثیر ہے۔مصر میں فرعون پر عذاب نہ آیا لہٰذا وہاں رہنا ممنوع نہیں، طوفانِ نوح کفار کے لیے عذاب تھا مگر مؤمنوں کے لیے رحمت، لہٰذا اس کا حکم کچھ اور ہے۔“سر ڈھانپ کر تیزی سے گزر جانے کی حکمت:حدیث میں ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر مبارک کو ڈھانپا اور اُس مقام سے تیزی سے گزر گئے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمقامِ حجر سے اپنے سر مبارک کو ڈھانپا اور سرجھکا کر دائیں بائیں توجہ کئے بغیر خوف وخشیت رکھنے والے کی طرح وہاں سے جلدی سے گزر ے تاکہ آپ کی نظران کےمکانات پر نہ پڑے۔ آپ کا یہ فعل تعلیمِ اُمَّت کے لیے تھا تاکہ مسلمان آپ کی اتباع کریں۔“مدنی گلدستہ’’نعمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب کسی عذاب شدہ قوم کے پاس سے گزریں تو ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
(2) عذاب والی جگہوں پر بلا وجہ نہیں جانا چاہیے۔
(3) جب کسی ایسے مقام سے گزرنا پڑے جہاں عذاب نازل ہوا ہو تو وہاں سے روتے ہوئےاور
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے ڈرتے ہوئے تیزی سے گزرجانا چاہیے۔
(4) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عذاب والے مقام سے سر ڈھانپ کر تیزی سے گزر جانا تعلیمِ اُمَّت کے لیے تھا تاکہ اُمَّتی بھی جب ایسی جگہ سے گزریں تو آپ کی پیروی کریں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے میں ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 955