Main Icon

باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 969

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْريِّ رَضيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ في سَفَرٍ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلٰى رَاحِلَةٍ لَهُ فَجعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِيْنًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلٰى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلٰى مَنْ لَا زَادَ لَهُ فَذَكَرَ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَهُ حَتّٰى رَاَيْنَا اَنَّهُ لَا حَقَّ لِاَحَدٍ مِنَّا فِی فَضْلٍ.

عن ابي سعيد الخدري رضي اللہ عنه قال : بينما نحن في سفر اذ جاء رجل على راحلة له فجعل يصرف بصره يمينا وشمالا فقال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم:من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له فذكر من اصناف المال ما ذكره حتى راينا انه لا حق لاحد منا فی فضل.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سفر میں تھےکہ اچانک ایک شخص اپنی سواری پر آیا اور اپنی نظردائیں بائیں دوڑانے لگا تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اُس کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائدسامانِ سفر ہو تو وہ اُس کو دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں۔“پھر یوں ہی آپ نے مختلف قسم کے اموال کا تذکرہ فرمایا حتّٰی کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا حاجت سے زائد مال میں کوئی حق نہیں۔

شرح حدیث

زائدسواری کی ترغیب کی وجہ:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اس شخص کاسواری کا اونٹ تھک گیا تھا اور چلتا نہ تھا جس کی وجہ سے وہ پیدل چلنے پر مجبور تھا یا اسے سواری کے لئے اونٹ چاہیئے تھا کیونکہ اس کا سامان اونٹ پر لدا ہوا تھا اور بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اونٹ پر بیٹھ نہ سکتا تھا لہٰذا وہ دائیں بائیں نظرمارنے اورنگاہ دوڑانے لگا تاکہ کوئی اس کا حالِ زار دیکھ کر اس کی مدد کرے (یعنی وہ شخص شریف النفس تھا کسی سے سوال نہ کیا بلکہ امداد کی امید پر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا)۔یہ دیکھ کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو زائدسواری اُسے دینے کی ترغیب دلائی۔مسافر ضرورت مند کی خیرخواہی کرنی چاہیے:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث میں صدقہ کرنے، سخاوت کرنے ، لوگوں کی خیر خواہی اور غمگساری کرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھلائی کرنے پر اُبھارا گیا ہےاور اس بات پر بھی ابھارا گیا ہے کہ قوم کےبڑے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو حاجت مندوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی تلقین کرے۔ ضرورت مند کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کردے لیکن سوال نہ کرے جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ وہ ضرورت مند آیا اور سوالیہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا تاکہ اُس کی حاجت کو پورا کیا جائے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی مسافر ضرورت مند ہو تو اس کے ساتھ خیر خواہی کرنی چاہیےاور اُسے صدقہ وغیرہ دے دینا چاہیے اگرچہ اس کے پاس سواری ہو اور اس نے اچھے کپڑے پہنے ہوں یا اپنے وطن میں تو غنی ہو لیکن فی الحال سفر میں ضرورت مند ہو۔ اِسی وجہ سے حاجت مندمسافر کو زکوٰۃ بھی دی جاسکتی ہے۔حضور ہمارے مالک ہیں:’’حتی کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا زائد مال میں کوئی حق نہیں۔‘‘اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی حضور نے ایسی خیرات کو ایسی اہمیت دی کہ ہم سمجھے کہ ضرورت سے زیادہ مال ہماری ملک ہی نہیں۔ بس اپنے پر خرچ کرنے سے جو بچے وہ دوسرے کو دے دینا واجب ہے۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمہماری جانوں، ہمارے مالوں کے مالک مطلق ہیں جیسے مولیٰ اپنے غلام کے جان و مال کا مالک ہوتا ہے۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ﴾(پ۲۱،الاحزاب:۶)(ترجمہ ٔکنزالایمان:یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔)یہاں اولیٰ کے معنی قریب تر بھی کئے گئے ہیں اور مالک تر بھی۔دیکھو ایک دفعہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرت کعب وغیرہ تین صاحبوں کو بائیکاٹ کے زمانہ میں فرمادیا کہ اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤ وہ بیویاں ان کی منکوحہ تھیں مگر ان سے اِختلاط(میل جول) منع فرمادیا،یہ ہے حضور کی ملکیت ۔کچھ عرصہ حکم رہا کہ اپنی قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ استعمال نہ کرو تو یہ استعمال ممنوع ہوگیا،پھر زیادہ استعمال کی اجازت دی تب جائز ہوا۔غرضیکہ ہم سب مسلمان حضورِ اَنور کے لونڈی غلام ہیں حضور ہمارے مالک اگر وہ ہم کو اپنی عبدیت و غلامیت میں قبول فرما لیں تو ہمارے نصیب کھل جائیں۔“مدنی گلدستہ’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب سفر میں ہوں تو دوسرے لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے۔
(2) اگر ہمارے پاس ضرورت سے زائد سامان ہے اور کوئی ایسا شخص بھی ہمارے ساتھ سفر میں ہے جسے سامان کی حاجت ہےتوہمیں اس کی مدد کرنی چاہیئے۔
(3) سفر کے علاوہ بھی ہمارے گھروں میں اگر زائد سامان ہو تو وہ کسی مستحق کو دے دینا چاہیے۔
(4) حضوراکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مسلمانوں کے مالک ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفروحضر میں ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 969