باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سفر میں تھےکہ اچانک ایک شخص اپنی سواری پر آیا اور اپنی نظردائیں بائیں دوڑانے لگا تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اُس کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائدسامانِ سفر ہو تو وہ اُس کو دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں۔“پھر یوں ہی آپ نے مختلف قسم کے اموال کا تذکرہ فرمایا حتّٰی کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا حاجت سے زائد مال میں کوئی حق نہیں۔

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْريِّ رَضيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ في سَفَرٍ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلٰى رَاحِلَةٍ لَهُ فَجعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِيْنًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلٰى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلٰى مَنْ لَا زَادَ لَهُ فَذَكَرَ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَهُ حَتّٰى رَاَيْنَا اَنَّهُ لَا حَقَّ لِاَحَدٍ مِنَّا فِی فَضْلٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 969 ، باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک جنگ پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کے گروہ! تمہارے بھائیوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ ان کا یہاں کوئی قبیلہ ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لے۔“چنانچہ ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی سواری پر سوار نہ ہوتا تھا مگر باری باری یعنی (وہ دو تین افراد) باری باری سوار ہوتے تھے۔ حضرتِ جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لیے تھے اور میں اپنی باری میں اسی طرح سوار ہوتا جس طرح وہ اپنی باری میں میرے اونٹ پرسوار ہوتے تھے۔

عَنْ جابرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّه اَرَادَ اَنْ يَغْزُوَ فَقَالَ: يَامعْشَرَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ! اِنَّ مِنْ اِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيْرَةٌ فَلْيَضُمَّ اَحَدُكُمْ اِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ اَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِاَحَدِنَا مِنْ ظَهْرٍ يَحْمِلُهُ اِلَّا عُقبَةٌ كَعُقْبَةٍ یَعْنِیْ اَحَدَهُمْ قَالَ: فَضَمَمْتُ اِلَيَّ اثْنَيْنِ اَوْ ثَلَاثَةً مَالِیْ اِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ اَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِيْ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 970 ، باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر میں پیچھے پیچھے چلتے تھے اور جس کی سواری کمزور ہوتی اسے ہانکتے اور(کمزور کو) اپنے پیچھے بٹھالیتے اور اس کے لیے دعا فرماتے۔“

عَنْ جابرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَتَخلَّفُ فِي الْمَسِيْرِ فَيُزْ جِي الضَّعِيْفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُوْ لَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 971 ، باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب