Main Icon

باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 971

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جابرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَتَخلَّفُ فِي الْمَسِيْرِ فَيُزْ جِي الضَّعِيْفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُوْ لَهُ.

عن جابر رضي اللہ عنه قال: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يتخلف في المسير فيز جي الضعيف ويردف ويدعو له.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر میں پیچھے پیچھے چلتے تھے اور جس کی سواری کمزور ہوتی اسے ہانکتے اور(کمزور کو) اپنے پیچھے بٹھالیتے اور اس کے لیے دعا فرماتے۔“

شرح حدیث

سفر میں پیچھے چلنے کی حکمتیں:مذکورہ حدیث میں نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اندازِ سفر بیان ہوا ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس طرح سفر کیا کرتے تھے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدورانِ سفر بھی اپنے رفقائے سفر کا خیال رکھتے تھے ۔کمزوروں کو اپنے ساتھ سوار کرلیا کرتے اور سفر میں لوگوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے ۔سفر میں پیچھے چلنے کی حکمتیں بیان کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” تمام سفروں جہاد وغیرہ میں صحابہ کرام کو آگے رکھتے تھے۔خود تواضع اور تعاون کے لیے پیچھے سفر کرتے تھے۔ سرکارِ ابد قرار کے پیچھے رہنے میں یہ حکمتیں تھیں کہ جو مسافر کمزوری کی وجہ سے لشکر کے پیچھے رہ جاتا یا کسی مسافر کی کوئی چیز رہ جاتی وہ خود سرکار لے آتے تھے ۔اس کے علاوہ تمام صحابہ کو سامنے رکھ کر ان کے لیے دعائے خیر فرماتے تھے۔سُبْحَانَ اللّٰہ! ایسے رحیم و کریم نبی پر جان قربان۔‘‘مدنی گلدستہ’’سفر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سفر میں حاکم، نگران یا سربراہ کو پیچھے پیچھے چلنا چاہیے تاکہ اپنے ماتحتوں کا خیال رکھ سکے۔
(2) کمزور لوگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیےاورسواری پر چڑھنے اترنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔
(3) اگر سفر میں کسی کو کوئی چیز ملے تو اُسے اس کے مالک تک پہنچا دینی چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنتوں پرعمل پیرا ہوتے ہوئے سفر میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 971