Main Icon

باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 981

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا خَافَ قَوْماً قَالَ: اللّٰهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ في نُحُورِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.

عن ابی موسی الاشعري رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا خاف قوما قال: اللهم انا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوموسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے خطرہ محسوس کرتے تو بارگاہِ ربُّ العزت میں یوں دعا فرماتے:’’اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ في نُحُورِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہم اُن کے مقابل تجھے کرتے ہیں اور اُن کے شرسے تیری پناہ لیتے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

خطرہ محسوس کرنے سے مراد:” حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے خطرہ محسوس کرتے“اس کی شرح کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: اس طرح کہ آپ کو پتہ چلتا کہ فلاں قوم ہمارے خلاف سازش یا جنگی تیاری کررہی ہے۔خیال رہے کہ خوف بہت طرح کا ہےخوفِ اطاعت وبندگی صرف ربّ تعالیٰ کا ہی ہونا چاہیے اور خوفِ نفرت شیطان وغیرہ دشمنوں سےاور خوف بمعنی خطرہ ،تکلیف ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکو وادئ سینا میں سانپ سے خوف ہوا،آپ نے فرعونیوں سے خوف کیا ،یہ واقعات اس آیت کے خلاف نہیںلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمکہ وہاں خوفِ اطاعت مراد اس ہی کی نفی ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: خوف وخطرہ کسی درندے سے ہوخواہ کسی اور چیزسےدونوں صورتوں میں یہ دعا پڑھ سکتے ہیں۔اگرچہ حدیث مبارکہ میں یہ دعا لوگوں سے متعلق ہے مگر غیر کوبھی اس پر قیاس کیاگیا ہےاور یہ دعا مسافر اور غیر مسافر دونوں کو شامل ہے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے اسے سفر کے بیان میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ سفر میں اکثر خوف لاحق رہتا ہے۔(اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہم ان کے مقابل تجھے کرتے ہیں اور ان کے شرسے تیری پناہ لیتے ہیں)یعنیہمارے اور دشمن کی شر کے درمیان تو آڑ ہوجا تاکہ ان کا شر ہم تک نہ پہنچ سکے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدہر بُرائی سے امان :عَلَّامَہ اِبْنُ الْجَزَ رِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: دشمن وغیرہ سے خوف ہوتو سورۂ قریش پڑھنا ہر بُرائی سے اَمان اور مجرب ہے۔مزید فرماتے ہیں:سفر میں جب مدد درکار ہو تو کہے:’’یَاعِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْاےاللّٰہکےبندو میری مدد کرو۔‘‘اِنْ شَآءَاﷲبہت جلد مدد پہنچے گی کہ بعضاللّٰہکے غیبی بندے اس پر مامور ہیں۔معلوم ہوا کہاللّٰہکے بندوں کو مدد کے لیے پکارنا بھی سنت ہے اور ان سے مدد لینا بھی سنت،یہ شرک نہیں۔مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) خوفِ اطاعت وبندگی صرف ربّ تعالیٰ کا ہی ہونا چاہیے،خوفِ نفرت شیطان ودشمنوں سے اور خوف بمعنیٰ خطرہ ہر خطرناک چیز سے ہوسکتا ہے۔
(2) دشمن وغیرہ سے خوف ہوتو سورۂ قریش پڑھنا امان ہے۔
(3) سفر میں جب مدد درکار ہو تو کہے:
یَاعِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ اِنْ شَآءَاﷲبہت جلد مدد پہنچے گی۔
(4)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے غیبی بندوں کو مدد کے لئے پکارنا اور اُن سے مدد لینا سنت ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفر وحضر میں ہر طرح کے خوف سے امن عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 981