Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1271

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُنِيَ الْاِسْلاَمُ عَلٰی خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِ وَاِيْتَاءِ الزَّ كَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بني الاسلام علی خمس: شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله و اقام الصلاة وايتاء الز كاة وحج البيت وصوم رمضان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پرہے:(1)اس بات کی گواہی دیناکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورحضرت محمدمصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں (2)نماز قائم کرنا(3)زکوٰۃ دینا(4)حج اداکرنا اور(5)رمضان کے روزے رکھنا۔ “

شرح حدیث

حج کی تعریف اور وقت :صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اورکعبہ معظمہ کے طواف کا اور اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے کہ اس میں یہ افعال کیے جائیں تو حج ہے۔۹ ہجری میں فرض ہوا، اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے مگر عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے۔جب حج کے لیے جانے پر قادر ہو حج فورًا فرض ہوگیا یعنی اُسی سال میں اور اب تاخیر گناہ ہے اور چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے۔حج کا وقت شوال سے دسویں ذی الحجہ تک ہے کہ اس سے پیشتر حج کے افعال نہیں ہوسکتے، سوا احرام کے کہ احرام اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے اگرچہ مکروہ ہے۔ “ارکانِ اسلام میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفرہے :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا،اور اس کا اسلام منہدم ہوجاویگا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمال ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفس ایمان موقوف،لہذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں نہ اعمال ایمان کے اجزاء ہیں۔حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو رسول ماننے کے یہ معنیٰ ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جاوے۔اگر مال ہو تو زکوۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر انکا ماننا بہرحال لازم ہے۔ “حج مالی اور بدنی عبادت ہے:شارحِ بخاری علّامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”روزہ اور نماز بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور حج مالی اور بدنی سے مرکب عبادت ہے ۔ کلمۂ شہادت کے بغیر انسان مؤمن نہیں ہوتا اس لئے اسے سب سے پہلے ذکر کیا اس کے بعد نماز کو ذکر کیا کیونکہ یہ دین کا ستون ہے اس کے بعد زکوۃ ذکر کی کیونکہ یہ نماز کا ساتھی ہے ۔حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اﷲ عَنْہُنے فرمایا: ”جس نےنماز اور زکوۃ میں فرق کیا میں اس سے جنگ کروں گا ۔“یعنی نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں ۔اس کے بعد حج کا ذکر کیا کیونکہ اس میں سخت تغلیظات وارد ہیں کہ جو کوئی حج فرض ہونے کے بعد قصداً حج نہ کرے اس کی شہادت قبول نہیں۔“مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حج ۹ ہجری میں فرض ہوا، اس کی فرضیت قطعی ہے جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے اور یہ عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے۔
(2) حج کا وقت شوال سے دسویں ذی الحجہ تک ہے اس سے پہلے حج کے افعال ادا نہیں ہوسکتے۔
(3) جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں۔
(4) حج مالی اور بدنی عبادت ہے ۔حج فرض ہونے کے بعد جو قصداً حج نہ کرے اس کی گواہی قبول نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بار بار حجِبیتُ اﷲکی سعادت اوررَوْضَۂ رَسُولُ اﷲکی باادب حاضری نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1271