Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1277

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا مِنْ يَوْمٍ اَكْثَـرَ مِنْ اَنْ يُّعْتِقَ اللهُ فِيْهِ عَبْدًا مِّنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ.

عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:ما من يوم اكثـر من ان يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےا رشاد فرمایا:”یوم عرفہ(یعنی نویں ذی الحجہ) سے بڑھ کر کوئی دن نہیں جس میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرے۔“

شرح حدیث

تمام دنوں سے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سال بھر کے تمام دنوں سے زیادہ نویں ذی الحجہ کو گنہگار بخشے جاتے ہیں۔عبدکے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ ﷲ تعالیٰ اس دن حاجیوں کے علاوہ اور بندوں کو بھی بخشتا ہے اسی لیے غیر حجاج کے لیے اس دن روزہ سنت ہے۔اس دنﷲ کی رحمت بندوں سے قریب تر ہوتی ہے اور ربّ تعالیٰ فرشتوں پر حاجیوں کی افضلیت، ان کی شرافت و کرامت ظاہر فرماتا ہے کہ اے فرشتوں تم نے کہا تھا کہ انسان خونریزی و فساد کرے گا تم نے اس پر غور نہ کیا کہ انسان اپنا گھر بار وطن چھوڑ کر پردیسی بن کر،پریشان بال،کفن پہنےلَبَّیْك لَبَّیْكکی صدائیں لگاتا عرفات کے میدان میں بھی آئے گا،بتاؤ ان حاجیوں نے سوامیری رضاکے اور کیا چاہا ہے، صرف مجھے ر اضی کرنے کے لیے یہ لوگ ان میدانوں میں مارے مارے پھررہے ہیں یہ شرف نہ ملائکہ کو حاصل ہے نہ جنات کو صرف ان ہی کا حصہ ہے۔ “

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1277