Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1272

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:یَااَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا فَقَالَ رَجُلٌ: اَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاثًا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ فَاِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ فَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَاَتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوْهُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:یاايها الناس قد فرض الله عليكم الحج فحجوا فقال رجل: اكل عام يا رسول الله ؟ فسكت حتى قالها ثلاثا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو قلت نعم لوجبت ولما استطعتم ثم قال: ذروني ما تركتكم فانما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على انبيائهم فاذا امرتكم بشيء فاتوا منه ما استطعتم واذا نهيتكم عن شيء فدعوه.

حدیث ترجمہ

”حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:”اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا حج ہر سال فرض ہے؟حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خاموشی اختیار فرمائی حتّٰی کہ اُس شخص نے تین بار یہی پوچھا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر واجب ہو جاتا اور تم سے نہ ہوسکتا۔‘‘ پھر فرمایا:” جب تک میں کسی بات کو بیان نہ کروں تم مجھ سے سوال نہ کرو، اگلے لوگ کثرتِ سوال اور پھر انبیا کی مخالفت سے ہلاک ہوئے، لہٰذا جب میں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک ہو سکے اُس پر عمل کرو اور جب میں کسی بات سے منع کروں تو اُسے چھوڑ دو۔ “

شرح حدیث

اَحکامِ شرعیہ کے مالک:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”( وہ سوال )عرض کرنے والے حضرت اَقرع اِبن حابس تھے، وہ سمجھے یہ کہ ہر رمضان میں روزے فرض ہوتے ہیں تو چاہیے کہ بقرعید میں حج فرض ہو کہ پھر یہ سوچا کہ اس میں لوگوں کو بہت دشواری ہوگی کیونکہ روزے تو اپنے گھر میں ہی رکھ لیے جاتے ہیں مگر حج کے لیے مکہ معظمہ جانا پڑتا ہے اور اطراف عالم سے ہر سال بیتاﷲشریف پہنچنا بہت مشکل ہوگا اس لیے آپ نے یہ سوال کیا اور بار بار کیا تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے۔ اس سوال پر حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خاموشی اس لیے تھی کہ سائل سوال سے باز آجائے تاکہ ہم کو جواب کی ضرورت نہ ہو مگر سائل شوق کی زیادتی سے یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: *ایک یہ کہ ﷲ تعالیٰ نے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اَحکامِ شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ آپ کی ہاں اور نہ میں تاثیر ہے جس کے قوی دلائل موجود ہیں کیوں نہ ہو کہ آپ کا کلام وحی الٰہی ہے۔*دوسرے یہ کہ بزرگوں سے اعمال اور وظیفوں میں قید یا پابندی نہ لگوانی چاہیے بلا قیدعمل کرنا چاہیے۔“( )اشعۃ اللمعات میں ہے:”اس حدیث پاک کا ظاہر یہ ہے کہ شرعی اَحکام حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحوالے کردیئے گئے ہیں یعنی آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو کچھ فرمائیں وہی شرعی حکم بن جاتا ہے۔“بعثتِ نبوی کا مقصد:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمانِ عالی”جب تک میں کوئی بات بیان نہ کروں تم مجھ سے سوال نہ کرو۔“کے تحت فرماتے ہیں:” یعنی مجھ سے یہ سوال نہ کرو کہ کتنا ہے اورکیوں ہے جب تک میں اس کی تفسیر میں نہ جاؤں اور میں خود بیان نہ کروں کہ کتنا ہے اور کیوں ہے یعنی جو میں کہوں بس اس پر عمل کرو۔اگر میں مطلق حکم دوں بغیر کسی قید کے تو اس کے مطابق عمل کرو اور اگر میں یہ کہوں کہ اتنی بات کرو یا اس طرح کرو تو پھر اس کے مطابق کرو کیونکہ مجھے شرعی اَحکام بیان کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے جوحکم ہوگا میں خود اسے بیان کردوں گا،تمہارے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔“سوال کب ممنوع تھا؟فقیہِ اعظم،حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”چونکہ اصل اشیاء میں اِباحت ہے اس لیے جب تک کسی چیز سے منع نہیں کیا گیا تھا وہ جائز تھی اب کسی نے پوچھا اور اس کا حکم بیان کردیا گیا کہ یہ حرام ہےجس کی وجہ سے لوگ تنگی میں پڑگئے اس لیے عہد رسالت میں مناسب یہی تھا کہ کسی چیز کے بارے میں لوگ پوچھتے نہیں جب تک ممانعت نہ ہوتی اس پر عمل کرتے رہتے لیکن آج جبکہ دین مکمل ہوچکا حرام وحلال متعین ہوچکے تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ پوچھ پوچھ کر فرائض وواجبات کو جانے تاکہ اس پر عمل ہوسکے اور حرام وناجائز باتوں کو معلوم کرکےبچ سکےاسی لیے علما نے فرمایا کہ ضروریات دین اور فرائض کا سیکھنا فرض ہےاور واجبات کا سیکھنا واجب اور سنتوں کا سیکھنا سنت اور مستحبات کا سیکھنا مستحب۔اس کے بالمقابل حرام قطعی کا جاننا فرض اور مکروہ تحریمی کا واجب،سیکھنے کے لیے بہرحال پوچھنا ضروری ہے۔البتہ ایسی باتوں کے بارے میں سوال کرنا ممنوع ہے جو نہ مامور ہوں نہ منہی عنہ ہوں نہ اس پر عمل کرنا یا اس پر اعتقاد رکھنا ضروری ہومثلاً حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے جنت میں سب سے پہلے کیا چیز کھائی ؟دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے کیا کھایا ؟کیا لباس استعمال کیا؟کیسا گھر بنایا وغیرہ وغیرہ یا ایسی باتوں کے بارے میں پوچھا جس کا واقعہ ہونا معتذر(مشکل) ہو۔“فتح الباری میں ہے:عَلَّامَہ اَبُوْ مُحَمَّد حُسَیْن بِنْ مَسْعُوْد بَغَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سوال کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم یہ ہے کہ دین کا کوئی مسئلہ کسی شخص کو سمجھ نہ آئے تووہ اس کے متعلق سوال کرے،یہ سوال کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳)(پ۱۴، النحل:۴۳)(ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔)اور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاَنفال اور کَلالہ وغیرہما کےمتعلق جو سوال کیا تھا وہ اسی پر محمول ہے۔دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی شخص ہٹ دھرمی سے اور کج بحثی سے سوال کرے اور حدیث میں جو زیادہ سوال کرنےسے منع کیا گیا ہے اس سے مراد یہی قسم ہے۔“جوامع الکلم حدیث:اِمَام حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں کہ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے فرمایا:”یہ حدیثجوامِعُ الْکَلِماور قواعدِ اسلام سے ہے۔اس میں بہت سے احکام داخل ہیں مثلاً نماز کےکسی رکن یا شرط پر قادر نہ ہو تو حسب مقدور واستطاعت بجالائے جیسےوضو،ستر عورت اور بعض سورۂ فاتحہ کا یاد ہوناوغیرہ۔ایسےبے شمار اَحکام پر یہ حدیث مشتمل ہے۔“مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اﷲ تعالٰینے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ آپ کی ہاں اور نہ میں تاثیر ہے کیوں نہ ہو کہ آپ کا کلام وحی الٰہی ہے۔
(2) حدیث میں جو زیادہ سوال کرنےسے منع کیا گیا ہے اس سے مرادیہ ہے کہ کوئی شخص ہٹ دھرمی سے اور کج بحثی سے سوال کرے۔
(3) ضروریات دین اور فرائض کا سیکھنا فرض ہےاور واجبات کا سیکھنا واجب اور سنتوں کا سیکھنا سنت اور مستحبات کا سیکھنا مستحب ۔
(4) اب ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ پوچھ پوچھ کر فرائض وواجبات کو جانے تاکہ اس پر عمل ہوسکے اور حرام وناجائز باتوں کو معلوم کرکےبچ سکے۔
(5) بزرگوں سے اعمال اور وظیفوں میں قید یا پابندی نہ لگوانی چاہیے بلا قید عمل کرنا چاہیے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بےجا اور فضول سوالات سےبچنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1272