Main Icon

باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 919

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:دَخَلَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَلٰی اَبِیْ سَلَمَةَ وَقَدْشَقَّ بَصَرُهُ فَاَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ:اِنَّ الرُّوحَ اِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ اَهْلِهِ فَقَالَ:لَا تَدْعُوْا عَلٰی اَنْفُسِكُمْ اِلَّا بِخَيْرٍ فَاِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤمِّنُوْنَ عَلٰی مَاتَقُوْلُوْنَ ثُمَّ قَالَ:اللّٰهُمَّ اغْفِر لِاَ بِيْ سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِیْ الْمَهْدِيِّـينَ وَاخْلُفْهُ في عَقِبِهِ فِی الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِی قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيْهِ.

عن ام سلمةرضي الله عنها قالت:دخل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم علی ابی سلمة وقدشق بصره فاغمضه ثم قال:ان الروح اذا قبض تبعه البصر فضج ناس من اهله فقال:لا تدعوا علی انفسكم الا بخير فان الملائكة يؤمنون علی ماتقولون ثم قال:اللهم اغفر لا بي سلمة وارفع درجته فی المهديـين واخلفه في عقبه فی الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وافسح له فی قبره ونور له فيه.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:حضرت ابوسلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےانتقا ل کےوقت نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔آپ نے ان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد فرمایا :” جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نظر بھی اس کے پیچھے جاتی ہے۔“(یہ سن کر)اہلِ خانہ میں سے لوگ رونے لگے توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ”اپنے لئے خیرہی مانگو کیونکہ فرشتے تمہارے کلمات پرآمین کہتے ہیں۔“پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کی:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ابو سلمہ کی مغفرت فرما،ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما،اس کے پَسماندگان کا نگہبان ہوجا،اے تمام جہانوں کے پالنے والے !ہماری اور اس کی مغفرت فرما ،اس کی قبر کو وسیع اورروشن فرما۔“

شرح حدیث

آنکھیں کھلی رہنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:روح جب جسم سے نکلتی ہے تو نگاہ اس کا تعاقب کرتی ہے کہ وہ کہاں جارہی ہے؟اسی وجہ سے مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔امام ابنِ حجر عسقلانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِس مقام پر اِشکال ہے کہ نگاہ تو اس وقت تک دیکھتی ہے جب تک روح جسم میں رہتی ہےاور جب جسم سے نکل جاتی ہے تو حس ونگاہ سب مُعَطَّل ہوجاتے ہیں پھر آنکھیں کیسے روح کو دیکھ رہی ہوتی ہیں؟تیس سال کے غوروفکر کے بعد مجھے اس کا یہ جواب سمجھ میں آیا کہ جسم کے اکثر حصہ سےجب روح نکل جاتی ہے اور ابھی سر اور آنکھوں میں باقی ہوتی ہے پھر جب منہ سے روح کا اکثر حصہ نکل جاتا ہے اور کچھ باقی ہوتا ہے تو نگاہ نکلنے والی مقدار کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کیا تم نہیں دیکھتے جب انسان مرجاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟“صحابہ نے عرض کی:کیوں نہیں(بالکل ایسا ہی ہوتا ہے)۔تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں روح کو دیکھتی رہتی ہیں۔“
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:حضرت ابو سلمہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کے بعد ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بند فرما دیں کیونکہ مرنے کے بعد آنکھیں کھلی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آنکھیں کھلی رہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس کی موت قریب ہوتی ہے اس کے سامنے موت کا فرشتہ ظاہر ہوتا ہے جو اس کی روح قبض کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے نظر نہیں اٹھاتا حتّٰی کہ اس کی روح قبض ہوجاتی ہے یا روح قبض ہوتے وقت اس کی باقی قوتِ بصارت زوال پذیر ہوجاتی ہے اور نگاہ اسی حالت پرجم جاتی ہے جس کے باعث اس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔آنکھیں کھلی رہنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ مرتےوقت آنکھیں غیبی چیزوں کو دیکھتی ہے اوراللّٰہپاک کی قدرت کے سامنے یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اس وقت ربِّ کریم نگاہوں سے پردہ اٹھادے اورمرنے والا اُن چیزوں کو دیکھ لے جو اسے دنیا کی زندگی میں نظر نہ آتی تھیں۔اس کی تائیداللّٰہکریم کے اِس فرمان سے ہوتی ہے:فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)(پ۲۶،قٓ:۲۲)ترجمہ ٔکنز الایمان: تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو سلمہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کی خبرپاکر اہلِ خانہ میں سے لوگ روئے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بُری بات زبا ن سے نکالنے یعنی ہائے میری ہلاکت! ہائے بربادی!وغیرہ کلمات کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اس وقت جواچھے یا بُرے کلمات کہےجاتے ہیں فرشتےآمین کہتے ہیں ۔پھرنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا کی:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ابو سلمہ کی مغفرت فرما،اس کادرجہ ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند فرما۔“یہاں ہدایت یافتہ لوگوں سے مراد اِسلام قبول کرنے اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہجرت کرنے میں سبقت کرنے والےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہیں ۔ قبر کی وُسعت سے مراد اس کے سختی سے دبانے سے حفاظت اور قبر کی روشنی سے مراد اس کے ہولناک اندھیرے سے حفاظت ہے۔”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! توہماری اور اس کی مغفرت فرما۔“اِن کلمات کے ذریعے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے لیے، اپنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے لیے، اپنی اُمَّت کے لیے اور حضرت سَیِّدُنا ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے لیےدعا کی ۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”روح کے ساتھ نورِ نگاہ بھی نکل جاتی ہےاس لیے کبھی مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں،آنکھیں کھلی رہنے سے فائدہ کچھ ہوتا نہیں البتہ شکل ڈراؤنی ہوجاتی ہے اس لیے آنکھیں فورًا بند کردو بلکہ اگر منہ کھلا رہ گیا ہوتو اسے بھی بند کردیا جائے اور جبڑےباندھ دیئے جائیں۔“آنکھیں بند کرتے وقت کی دعا:حضرت سَیِّدُنا بکر بنعبداللّٰہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب تم مُردے کی آنکھیں بند کرو تو یوں کہو:بِسْمِ اللّٰہ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام کے ساتھ اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملّت پر۔مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جسم سے روح نکلتے وقت آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں۔
(2) اگر میت کی آنکھیں کھلی رہ جائیں تو وہاں موجود افراد کوچاہیے کہ اس کی آنکھیں بند کردیں اور دیگر اَعضاء بھی سیدھے کر دیں ۔
(3) آنکھیں بند کرنے والے کو چاہیے کہ وہ میت کی مغفرت ،قبر میں روشنی اور وُسعت کی دعاکرے ۔
(4) کسی عزیز کی موت پر ہرگز ہرگز ناشکری اوربے صبری والے کلمات نہ کہے جائیں کہ اُس وقت فرشتے آمین کہتےہیں۔
(5) میت کی مغفرت کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی مغفرت کی دعا مانگے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق میت کی تجہیزوتکفین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 919