باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 919
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:دَخَلَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَلٰی اَبِیْ سَلَمَةَ وَقَدْشَقَّ بَصَرُهُ فَاَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ:اِنَّ الرُّوحَ اِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ اَهْلِهِ فَقَالَ:لَا تَدْعُوْا عَلٰی اَنْفُسِكُمْ اِلَّا بِخَيْرٍ فَاِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤمِّنُوْنَ عَلٰی مَاتَقُوْلُوْنَ ثُمَّ قَالَ:اللّٰهُمَّ اغْفِر لِاَ بِيْ سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِیْ الْمَهْدِيِّـينَ وَاخْلُفْهُ في عَقِبِهِ فِی الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِی قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيْهِ.
عن ام سلمةرضي الله عنها قالت:دخل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم علی ابی سلمة وقدشق بصره فاغمضه ثم قال:ان الروح اذا قبض تبعه البصر فضج ناس من اهله فقال:لا تدعوا علی انفسكم الا بخير فان الملائكة يؤمنون علی ماتقولون ثم قال:اللهم اغفر لا بي سلمة وارفع درجته فی المهديـين واخلفه في عقبه فی الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وافسح له فی قبره ونور له فيه.
حدیث ترجمہ
اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:حضرت ابوسلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےانتقا ل کےوقت نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔آپ نے ان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد فرمایا :” جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نظر بھی اس کے پیچھے جاتی ہے۔“(یہ سن کر)اہلِ خانہ میں سے لوگ رونے لگے توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ”اپنے لئے خیرہی مانگو کیونکہ فرشتے تمہارے کلمات پرآمین کہتے ہیں۔“پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کی:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ابو سلمہ کی مغفرت فرما،ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما،اس کے پَسماندگان کا نگہبان ہوجا،اے تمام جہانوں کے پالنے والے !ہماری اور اس کی مغفرت فرما ،اس کی قبر کو وسیع اورروشن فرما۔“
شرح حدیث
آنکھیں کھلی رہنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:روح جب جسم سے نکلتی ہے تو نگاہ اس کا تعاقب کرتی ہے کہ وہ کہاں جارہی ہے؟اسی وجہ سے مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔امام ابنِ حجر عسقلانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِس مقام پر اِشکال ہے کہ نگاہ تو اس وقت تک دیکھتی ہے جب تک روح جسم میں رہتی ہےاور جب جسم سے نکل جاتی ہے تو حس ونگاہ سب مُعَطَّل ہوجاتے ہیں پھر آنکھیں کیسے روح کو دیکھ رہی ہوتی ہیں؟تیس سال کے غوروفکر کے بعد مجھے اس کا یہ جواب سمجھ میں آیا کہ جسم کے اکثر حصہ سےجب روح نکل جاتی ہے اور ابھی سر اور آنکھوں میں باقی ہوتی ہے پھر جب منہ سے روح کا اکثر حصہ نکل جاتا ہے اور کچھ باقی ہوتا ہے تو نگاہ نکلنے والی مقدار کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کیا تم نہیں دیکھتے جب انسان مرجاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟“صحابہ نے عرض کی:کیوں نہیں(بالکل ایسا ہی ہوتا ہے)۔تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں روح کو دیکھتی رہتی ہیں۔“
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:حضرت ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کے بعد ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بند فرما دیں کیونکہ مرنے کے بعد آنکھیں کھلی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آنکھیں کھلی رہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس کی موت قریب ہوتی ہے اس کے سامنے موت کا فرشتہ ظاہر ہوتا ہے جو اس کی روح قبض کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے نظر نہیں اٹھاتا حتّٰی کہ اس کی روح قبض ہوجاتی ہے یا روح قبض ہوتے وقت اس کی باقی قوتِ بصارت زوال پذیر ہوجاتی ہے اور نگاہ اسی حالت پرجم جاتی ہے جس کے باعث اس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔آنکھیں کھلی رہنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ مرتےوقت آنکھیں غیبی چیزوں کو دیکھتی ہے اوراللّٰہپاک کی قدرت کے سامنے یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اس وقت ربِّ کریم نگاہوں سے پردہ اٹھادے اورمرنے والا اُن چیزوں کو دیکھ لے جو اسے دنیا کی زندگی میں نظر نہ آتی تھیں۔اس کی تائیداللّٰہکریم کے اِس فرمان سے ہوتی ہے:فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)(پ۲۶،قٓ:۲۲)ترجمہ ٔکنز الایمان: تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کی خبرپاکر اہلِ خانہ میں سے لوگ روئے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بُری بات زبا ن سے نکالنے یعنی ہائے میری ہلاکت! ہائے بربادی!وغیرہ کلمات کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اس وقت جواچھے یا بُرے کلمات کہےجاتے ہیں فرشتےآمین کہتے ہیں ۔پھرنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا کی:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ابو سلمہ کی مغفرت فرما،اس کادرجہ ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند فرما۔“یہاں ہدایت یافتہ لوگوں سے مراد اِسلام قبول کرنے اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہجرت کرنے میں سبقت کرنے والےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہیں ۔ قبر کی وُسعت سے مراد اس کے سختی سے دبانے سے حفاظت اور قبر کی روشنی سے مراد اس کے ہولناک اندھیرے سے حفاظت ہے۔”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! توہماری اور اس کی مغفرت فرما۔“اِن کلمات کے ذریعے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے لیے، اپنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے لیے، اپنی اُمَّت کے لیے اور حضرت سَیِّدُنا ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے لیےدعا کی ۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”روح کے ساتھ نورِ نگاہ بھی نکل جاتی ہےاس لیے کبھی مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں،آنکھیں کھلی رہنے سے فائدہ کچھ ہوتا نہیں البتہ شکل ڈراؤنی ہوجاتی ہے اس لیے آنکھیں فورًا بند کردو بلکہ اگر منہ کھلا رہ گیا ہوتو اسے بھی بند کردیا جائے اور جبڑےباندھ دیئے جائیں۔“آنکھیں بند کرتے وقت کی دعا:حضرت سَیِّدُنا بکر بنعبداللّٰہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب تم مُردے کی آنکھیں بند کرو تو یوں کہو:بِسْمِ اللّٰہ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام کے ساتھ اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملّت پر۔مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جسم سے روح نکلتے وقت آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں۔
(2) اگر میت کی آنکھیں کھلی رہ جائیں تو وہاں موجود افراد کوچاہیے کہ اس کی آنکھیں بند کردیں اور دیگر اَعضاء بھی سیدھے کر دیں ۔
(3) آنکھیں بند کرنے والے کو چاہیے کہ وہ میت کی مغفرت ،قبر میں روشنی اور وُسعت کی دعاکرے ۔
(4) کسی عزیز کی موت پر ہرگز ہرگز ناشکری اوربے صبری والے کلمات نہ کہے جائیں کہ اُس وقت فرشتے آمین کہتےہیں۔
(5) میت کی مغفرت کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی مغفرت کی دعا مانگے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق میت کی تجہیزوتکفین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 919