Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 396

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ : اِنَّ اَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِى بَطْنِ اُمِّهِ اَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ

يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيْهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِاَرْبَعِ كَلِمَاتٍ بِکَتْبِ رِزْقِهِ وَاَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقِىٌّ اَوْ سَعِيدٌ. فَوَ الَّذِي لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰى مَا يَكُوْنُ بَيْنَهُ وَبَيْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُھَا وَ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَیَدْخُلُھَا ۔ “ ( )

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال : حدثنا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وهو الصادق المصدوق قال : ان احدكم يجمع خلقه فى بطن امه اربعين يوما نطفة ثم يكون علقة مثل ذلك ثم

يكون مضغة مثل ذلك ثم يرسل الملك فينفخ فيه الروح ويؤمر باربع كلمات بکتب رزقه واجله وعمله وشقى او سعيد. فو الذي لا الہ غیرہ ان احدكم ليعمل بعمل اھل الجنۃ حتى ما يكون بينه وبينھا الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل النار فیدخلھا و ان احدکم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينه وبينھا الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل الجنة فیدخلھا ۔ “ ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حدیث بیان کی اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقول و فعل میں بالکل سچے ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ” بے شک تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی صورت میں رہتا ہے ، پھر وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے ، چالیس دن تک وہ اسی طرح رہتا ہے پھر وہ گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے اور چالیس دن تک اسی طرح رہتا ہے ۔ پھر ایک فرشتہ اس کی طرف بھیجاجاتا ہے جو اُس میں روح پھونکتا ہے ، اُسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : ( 1 ) رزق ( 2 ) موت کی مدت ( 3 ) عمل اور ( 4 ) خوش بختی یا بد بختی ۔ اُس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! بے شک تم میں سے کوئی شخص جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اُس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الٰہی اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کرتا رہتاہے اور وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الٰہی اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس حدیث کو باب الخوف میں ذکر کیا کیونکہ اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے انسان بظاہر نیک اَعمال کرتا رہتا ہے اور اس کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے اور پھر وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایسے اعمال کرتا ہے جن کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے جبکہ کوئی شخص

بُرے اعمال کرتا رہتا ہے اور اپنے آخری ایام میں نیک اعمال کرنے لگ جاتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے تو مؤمن کو ہر وقت اپنے خاتمہ کے لیے ڈرتے رہنا چاہیے نیز جو نیک اعمال کرے اسے فخر نہیں کرناچاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی نیک اعمال کرے اور زندگی کے آخری ایام میں نیکیوں کو چھوڑ کر گناہوں بھرے کام کر کے جہنم میں داخل ہوجائے ۔ چنانچہ
مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ( کوئی ) ایمان لاکر متقی بن کے مرتا ہے ۔ لہذا کوئی بدکار رب تعالیٰ سے مایوس نہ ہو اور کوئی نیک کار اپنے تقویٰ پرفخر نہ کرے ،تعالیٰ حسن خاتمہ نصیب کرے ۔ ‘‘ ( )
¥
صادِق و مَصدُوق کسے کہتے ہیں؟حدیثِ مذکور میں راوی یعنی حضرت سیدناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دو اوصاف ” صادق و مصدوق“ بیان کئے ہیں ۔مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” صادق وہ جس کے سارے اقوال سچے ہوں ، مصدوق وہ جس کے سارے اعمال سچے ہوں ۔ یا صادق وہ جوہوش سنبھال کر سچ بولے اور مصدوق وہ جو پہلے ہی سے سچا ہو ۔ یا صادق وہ جو واقع کے مطابق خبردے اور مصدوق وہ کہ جو وہ اپنی زبان مبارک سے کہہ دے واقعہ اُس کے مطابق ہوجائے ۔ حضور میں یہ سارے اوصاف جمع ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مختلف مراحل میں انسانی تخلیق کی حکمتیں :حدیث پاک میں فرمایا گیا کہاللہ عَزَّوَجَلَّرحم مادر میں نطفے کو چالیس دن رکھتا ہے پھر اسے جما ہوا خون کر دیتا ہے پھر چالیس دن بعد وہ گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے ، پھر اس کی صورت بنائی جاتی اور اس میں رُوح پھونکی جاتی ہے ۔ انسان کی تخلیق میں اتنے مراحل کیوں رکھے گئے ؟ حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّتو اس بات پر قادر ہے کہ آن کی آن میں انسان کو پیدا فرمادے ۔ تخلیق انسانی کے مختلف مراحل کی حکمتیں بیان کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّاس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک لمحے میں انسان کو پیدا فرمادے لیکن اس نے انسان کی تخلیق کے چند مراحل رکھے جو کہ حدیث میں ذکر ہوئے ۔ اس میں چند حکمتیں ہیں : ( 1 ) اگراللہ عَزَّوَجَلَّانسان کو یک دم پیدا کر دیتا تو اس میں اس کی ماں کے لیے بہت دشواری ہوتی کیونکہ وہ اس چیز کی عادی نہیں اور بسا اوقات تو ماں کے ہلاک ہونے کا بھی اندیشہ ہوجاتا ۔ اس لیے پہلے نطفہ بنایا ، جب اسے اس کی عادت ہوگئی تو اسے جما ہوا خون کردیا ، پھر اس طرح مراحل طے کر کے بچہ مکمل کردیا ۔ ( 2 ) انسان کو مرحلہ وار پیدا کرنے میںاللہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت اور نعمت کا اظہار ہے تاکہ بندےاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کریں اور اس کا شکر بجالائیں کہ اُس مصورعَزَّوَجَلَّنے کیسے کیسے مراحل سے گزار کر کیسی اچھی صورت میں پیدا فرمایا اور عقل ، فہم ، ذہانت و فطانت سے نوازا ۔ ( 3 ) اس میں لوگوں کو اس بات پر تنبیہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکو حشر و نشر پرکمال قدرت حاصل ہے کہ جس طرح وہ انسان کو ایک بے قدرپانی سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ مر کر مٹی بن جانے والے انسان کو دوبارہ اُٹھانے اور حشر میں اس سے حساب و کتاب لینے پر بھی قادر ہے ۔ “ ( )
¥
تقدیرِ اِلٰہی سے متعلق ایک اہم وضاحت :مذکورہ حدیث پاک سے ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جباللہ عَزَّوَجَلَّنے سب کی تقدیر پہلے ہی لکھ دی ہے کہ کون خوش بخت ہے اور کون بد بخت ہے کون جنتی ہے اور کون جہنمی ہے تو پھر یہ سزا و جزاء کا معاملہ کیوں رکھاگیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ تقدیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جواللہ عَزَّوَجَلَّنے لکھ دیا ہے وہی ہمیں کرنا پڑتا ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں ، بلکہ جو ہم نے اس دنیا میں آکر کرنا تھااللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے علمِ ازلی سے جان لیا اور وہی لوحِ محفوظ پر لکھ دیا ۔ چنانچہ صدرالشریعہ بدرالطریقہ ، مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر بھلائی ، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے ، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا ، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے ، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ، ویسا اُس نے لکھ دیا ۔ زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا ، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ

اُس کے لیے بھلائی لکھتا تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا ۔ ‘‘ ( )
¥
اَسّی ہزار سال کی عبادت ضائع :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کا بہت واضح بیان ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے کوئی واقف نہیں ہے ۔ منقول ہے کہ ابلیس ( یعنی شیطان ) نے اَسّی ہزار ( 80000 ) سال عبادت میں گزارے اور ایک قدم کے برابر بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی جس پر اس نے سجدہ نہ کیا ہو ۔ پھر جب اس نے رب تعالیٰ کی حکم عدولی کی تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیا ، قیامت تک کے لئے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا گیا ، اس کی ساری عبادت ضائع ہو گئی اوراسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کی سزا دے دی گئی ۔ حضورنبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو دیکھا کہ ابلیس کے انجام سے عبرت گیر ہو کر کعبہ مشرفہ کے پردے سے لپٹ کر نہایت گریہ وزاری کے ساتھاللہتعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہے ہیں : ’’اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْیعنی اے میرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے میرے مالک ! کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہل عطا کے زمرہ سے نکال کر اہل عتاب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا ۔ “ ( )
حضرت سیدنا ابوالقاسم عبدالکریم ہوازن قشیری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جب ابلیساللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ سے مردود ہوا تو اس کا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَاماور حضرت سیدنا میکائیلعَلَیْہِ السَّلَامایک عرصہ تک روتے رہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی طرف وحی فرمائی اور پوچھا کہ ’’تم دونوں کے رونے کا کیا سبب ہے ؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’اے ہمارے رب کریم ! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’تمہیں اسی طرح ہونا چاہیے ، تمہیں میری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے ۔ ‘‘ ( )

¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرتِ سَیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامسید المعصومین یعنی ملائکہ کے سردار ہیں ، ملائکہ معصوم ہیں یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں گناہوں سے اس طرح محفوظ فرمایا ہے کہ ان سے کسی بھی طرح گناہ کا صدور ممکن نہیں مگر پھر بھی خوفِ خدا سے کیسی گریہ و زاری کر رہے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہیں ۔ مگر آہ ! ہمارے تو شب وروز گناہوں میں بسر ہورہے ہیں ، ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا سے ایمان بھی سلامت لے کر جائیں گے یا نہیں؟قبر وحشر میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ ہمارا رب کریم ہم سے راضی ہے کہ نہیں؟ہم جیسے گنہگاروں کو تو ہر وقت توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے ، نیکیوں پر کمربستہ ہوجانا چاہیے ، گناہوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سچی پکی توبہ کرلینی چاہیے ۔ نیز چاہے کوئی کتنی ہی عبادت کرلے اُسے اپنی عبادت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی غرور کرنا چاہیے ۔ دیکھئے شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی ، زمین پر کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں اس نے سجدہ نہ کیا ہو لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ مردودِ بارگاہ الٰہی ہوگیا ۔
¥
دو اَ مرد پسند مؤذنوں کی بربادی :حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن احمد مؤذنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں طواف ِکعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غلافِ کعبہ سے لپٹ کرایک ہی دعا کی تکرا رکر رہا تھا : ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے دنیا سے مسلمان ہی رخصت کرنا ۔ ‘‘ میں نے اس سے پوچھا : ’’تم اس کے علاوہ کوئی اور دعاکیوں نہیں مانگتے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’کاش ! آپ کو میرے واقعہ کا علم ہوتا ۔ ‘‘ میں نے دریافت کیا : ’’تمہارا کیا واقعہ ہے ؟ ‘‘ تو اس نے بتایا کہ میرے دو بھائی تھے ، بڑے بھائی نے چالیس سال تک مسجد میں بلامعاوضہ اذان دی ، جب اس کی موت کاوقت آیا تو اس نے قرآنِ پاک مانگا ۔ ہم نے اسے دیا تاکہ اس سے برکتیں حاصل کرے ، مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر کہنے لگا : ’’تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قرآن کے تمام اعتقادات واحکامات سے بے زاری اور نصرانی ( عیسائی ) مذہب اختیار کرتا ہوں ۔ ‘‘معاذاللہپھر وہ مر گیا ۔ اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجد میںفِیْ سَبِیْلِ اللہاذان دی مگر اس نے بھی آخری وقت نصرانی ہونے کا اعتراف کیا اور مر گیا ۔ لہٰذا میں اپنے خاتمہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہوں اور ہر وقت خاتمہ بالخیر کی دعا مانگتا رہتا ہوں ۔

توحضرتِ سیِّدُنا
عبداللہبن احمد مؤذنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے استفسار فرمایا : ’’تمہارے دونوں بھائی ایسا کون سا گناہ کرتے تھے ؟ ‘‘ اس نے بتایا : ’’وہ غیر عورتوں میں دلچسپی لیتے تھے اور اَمردوں ( بے ریش لڑکوں ) کو ( شہوت سے ) دیکھا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( )
نفس بے لگام تو گُناہوں پہ اُکساتا ہے
توبہ توبہ کرنے کی بھی عادت ہونی چاہے
مدنی گلدستہ
’’خوف اِلٰہِی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
اپنے سابقہ گناہوں کی وجہ سے رحمتِ الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرکے نیک اعمال کرنے چاہیے رب تعالیٰ کو راضی کرنا چاہیے ۔
(2) ہر وقت
اللہ عَزَّوَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہیے اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیے ۔
(3) جو نیک اعمال کرے اسے فخر نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اپنی نیکیوں پر مطمئن ہونا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نیک اعمال چھوڑ کر گناہوں میں لگ جائے اور جہنم میں داخلہ مقدر ہوجائے ۔
(4)
اللہ عَزَّوَجَلَّقادر مطلق ہے ، وہ ایک آن میں بھی انسان کو بغیر مراحل کے پیدا کرسکتا تھا مگر اس نے انسان کی تخلیق میں مختلف مراحل رکھے اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔
(5) جس طرح
اللہ عَزَّوَجَلَّانسان کو پانی کے ایک قطرے سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح مرنے کے بعد دوبارہ اس میں جان ڈال کر اٹھا نے پر بھی قادر ہے ۔
(6) تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ہوگا اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لکھ دیا گیا ہے وہ ہمیں کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ہم کرنے والے تھے
اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے علم سے جانتا تھااس نے وہی لکھ دیا ۔
(7)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے کہ اس سے تو فرشتے بھی ڈرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی رحمت اور اپنا خوف نصیب فرمائے ، نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 396