- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
- حدیث نمبر 407
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي بَرْزَةَ نَضْلَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْاَسْلَمِیّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزُوْلُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا اَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيْمَ فَعَلَ فِیْہِ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ اَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيْمَ اَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيْمَ اَبْلَاهُ. ( )
عن ابي برزة نضلۃ بن عبید الاسلمی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تزول قدما عبد حتى يسأل عن عمره فيما افناه وعن علمه فيم فعل فیہ وعن ماله من اين اكتسبه وفيم انفقه وعن جسمه فيم ابلاه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو برزہ نَضْلَہ بن عُبَیْد اَسلمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ ( بروزِ قیامت ) بندے کے دونوں قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کہاں صَرف کی؟ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا ؟اور کہاں خرچ کیا ؟اور اپنے جسم کو کن کاموں میں لگایا؟ ‘‘
شرح حدیث
نصیحت کے مدنی پھولوں کی مہک :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک نصیحتوں کے مدنی پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ قیامت کے دن زمین تانبے کی ہوگی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر رہ کر آگ برسارہا ہوگا اور ہر شخص اپنے عمل کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا جیسا کہ اس باب کی سابقہ حدیثوں میں گزرا اور اس تانبے کی دھکتی ہوئی زمین سے کسی کو قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ مذکورہ سوالوں کے جواب نہ دیدے ۔ ذرا سوچئے کہ اس دنیا میں سخت گرمی کے دن میں جب سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا ہوتا ہے تو گرم فرش پر ہم سے پاؤں نہیں رکھا جاتااور ہم فوراً پاؤں اٹھا لیتے ہیں حالانکہ ابھی تو سورج کروڑوں میل دور ہے تو پھر قیامت کے دن جب سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا تو ہم اس زمین پر کیسے کھڑے ہوں گے ؟
¥قدم نہ ہٹنے سے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے یعنی جس جگہ وہ حساب کے لیے کھڑا ہوگا وہاں سے قدم نہیں ہٹیں گے نہ جنت کی طرف نہ جہنم کی طرف ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن پانچ چیزوں کا حساب دیئے بغیر اِنسان بارگاہِ الٰہی سے نہیں ہٹ سکتا ، اِن پانچوں میں اگر رہ گیا تو سزا کا مستحق ہوا اگر اِن سے نکل گیا تو جنت میں پہنچے گا ۔ ( )
¥( 1 ) اپنی عمر کہاں صَرف کی ۔ ۔ ۔ ؟حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے عمر یعنی زندگی کے بارے میں سوال ہوگا کہ عمر کہاں صرف کی؟ اس سے مراد یہ ہے کہ زندگی نیک اَعمال میں صَرف کی یا گناہوں میں؟چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’پہلا سوال یہ ہوگا کہ’’عمر کہاں صرف کی؟“ یعنی نیکیوں میں یا گناہوں میں؟ ‘‘ ( )زندگی کے انمول ہیرے :شیخ طریقت ، امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’انمول ہیرے ‘‘ پر ایک نصیحت آموز حکایت نقل فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ اپنے مصاحبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزررہا تھا کہ اس نے دیکھا باغ میں سے کوئی شخص سنگریزے ( یعنی چھوٹے چھوٹے پتھر ) پھینک رہا ہے ، ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا ۔ اس نے خدام کو دوڑایا کہ جاکر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑ کر میرے پاس حاضر کرو ۔ چنانچہ خدام نے ایک گنوار کو حاضر کردیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا : ’’یہ سنگریزے تم نے کہاں سے حاصل کیے ؟ ‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا : میں ویرانے کی سیر کررہا تھا کہ میری نظر ان خوبصورت سنگریزوں پر پڑی ، میں نے ان کو جھولی میں بھرلیا ، اس کے بعد پھرتا پھراتا اس باغ میں آنکلا اور پھل توڑنے کے لیے یہ سنگریزے استعمال کرلیے ۔ بادشاہ نے کہا : ’’تم اِن سنگریزوں کی قیمت جانتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ بادشاہ بولا : ’’یہ پتھر کے ٹکڑے دراصل انمول ہیرے تھے ، جنہیں تم نادانی کے سبب ضائع کرچکے ۔ ‘‘ اس پر وہ شخص افسوس کرنے لگا ۔ مگر اب افسوس کرنا بے کار تھا کہ وہ انمول ہیرے اس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے ۔ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اسی طرح ہماری زندگی کے لمحات بھی انمول ہیرے ہیں ، اگر ان کو ہم نے بے کار ضائع کردیا تو حسرت وندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انسان کو ایک مقررہ وقت کے لیے خاص مقصد کے تحت اس دنیا میں بھیجا ہے اور وہ مقصداللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت ہے ۔ انسان کو اس دنیا میں بَہُت مختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اوراس وَقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے ۔ وَقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے ، نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے ، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا ۔
حضرت سیدنا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جلدی کرو ! جلدی کرو ! تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجائے جن سے تماللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب حاصل کرتے ہو ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا جائزہ لیا اور اپنے گناہوں پر چند آنسو بہائے ۔ ‘‘ پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پارہ 16 ، سورۂ مریم کی آیت نمبر84تلاوت فرمائی :اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ(۸۴)( ((پ۱۶ ،مریم: ۸۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
امام غزالیرَحْمَۃُ اللہِعَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’یہاں گنتی سے سانسوں کی گنتی مراد ہے ۔ ‘‘ ( )یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے ……… غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے کہ اگر آج کوئی اچھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔ ‘‘ ( )
اپنے وقت کو فُضولیات میں برباد کرنے والو ! غور کرو ! زندگی کس قَدَر تیز رفتاری کے ساتھ گزرتی جارہی ہے ۔ بار ہا آپ نے دیکھا ہوگا کہ اچّھا بھلا ڈَیل ڈَول والا انسان اچانک موت کے گھاٹ اُتر جاتا ہے ، اب قَبْر میں اُس پر کیا بِیت رہی ہے ؟اس کا اندازہ ہم نہیں کرسکتے البتّہ خوداُس پر زندگی کا حال کھل چکا ہوگا کہ
کتنی بے اعتبار ہے دنیا ……… موت کا انتظار ہے دنیا
گرچِہ ظاہِر میں صورتِ گُل ہے ……… پر حقیقت میں خار ہے دنیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! زندگی کا جو دن نصیب ہوگیا اسی کو غنیمت جان کر جتنا ہوسکے اس میں اچھے اچھے کام کرلیے جائیں تو بہتر ہے کہ ’’کل ‘‘ نہ جانے ہمیں لوگ ’’جناب ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں یا ’’مرحوم ‘‘ کہہ کر ۔ ہمیں اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی موت کی منزل کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ رواں دواں ہیں ۔ یقیناً سمجھداری اسی میں ہے کہ جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں مشغول رہے ۔
¥( 2 ) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا ۔ ۔ ۔ ؟کل بروزِ قیامت دوسرا سوال علم کے بارے میں ہوگا کہ علم سیکھا یا نہیں؟ اور اگر سیکھا تو اس پر عمل کیا یا نہیں؟یہاں پر علم سے مراد علم دِین ہے نہ کہ دُنیاوی علم ۔ کیونکہ دنیاوی علم صرف دنیا میں ہی کام آئے گا جبکہ دِینی علم دنیا و آخرت دونوں جگہ کام آئے گا ۔ چنانچہ ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’حضرت سیدنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ان سے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ تم سے قیامت میں سوال ہوگا کہ تم عالِم تھے یا نرے جاہل؟اگر تم نے کہا کہ : میں عالِم تھا ۔ تو حکم ہوگا کہ : اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ اور اگر تم نے کہا کہ : جاہل تھا ۔ تو فرمایا جاوے گا کہ : تم جاہل کیوں رہے ؟ تمہیں کیا عُذر تھا؟ ‘‘ علم سے مراد علم دِین ہے لہٰذا اِنسان کو چاہیے کہ علم دِین سیکھے اور نیک عمل کرے ۔ ‘‘ ( )
¥علم حاصل کرنا فرض ہے :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’راہِ علم ‘‘ صفحہ11سے حصولِ علم سے متعلق چند اقتباسات پیش خدمت ہیں : تاجدارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ ‘‘ ( ) واضح رہے کہ ہر مسلمان پر تمام علوم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان پر اُن امور کے متعلق دِینی معلومات حاصل کرنا فرض ہے جن سے اُس کا واسطہ پڑتاہے ، اسی وجہ سے تو کہا جاتاہے : ’’اَفْضَلُ الْعِلْمِ عِلْمُ الْحَالِ وَاَفْضَلُ الْعَمَلِ حِفْظُ الْحَالِیعنی افضل ترین علم موجودہ درپیش اُمور سے آگاہی حاصل کرنا ہے اورافضل ترین عمل اپنے اَحوال کی حفاظت کرنا ہے ۔ پس ایک مسلمان پر اِن علوم کا جاننا بہت ضروری ہے جن کی ضرورت اُس کو اپنی زندگی میں پڑتی ہے خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو ۔ ایک مسلمان کے ليے پہلا فرض تو نماز ہی ہے لہٰذا ہر مسلمان پر نماز کے متعلق اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے کہ جن سے اُس کا فرض ادا ہوسکے اوراتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے جن کی آگاہی سے وہ واجباتِ نماز کو اد اکرسکے کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ وہ معلومات جو ادائیگی فرض کا سبب بنیں اُن کو
حاصل کرنافرض ہے اور وہ معلومات جو ادائیگی واجب کا ذریعہ بنیں اُن کو حاصل کرنا واجب ہے ۔ اِسی طرح روزے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا معاملہ ہے نیز اگر صاحب مال ہے تو زکوٰۃ کا بھی یہی ضابطہ ہے اوراگر کوئی تاجر ہے تو مسائل خریدوفروخت جاننے کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے ، جن سے فرض ادا ہوسکے اوراتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے کہ جن سے واجب ادا ہوسکے ۔
ایک مرتبہ امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں عرض کیا گیا کہ آپ ’’زُہد ‘‘ ( تقویٰ وپرہیزگاری ) کے عنوان پر کوئی کتاب تصنیف کیوں نہیں فرماتے ؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا : ’’میں تو خرید وفروخت کے مسائل سے متعلق ایک کتاب تصنیف کرچکاہوں ۔ ‘‘ مطلب یہ ہے کہ زاہد وہی ہے جو کہ تجارت کرتے وقت اپنے آپ کو مکروہات وشبہات سے بچائے اوراسی طرح تمام معاملات اورصنعت وحرفت میں مکروہات وشبہات سے بچنا ہی تو زُہد ہے ۔ جب ایک شخص کسی کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس پر اتنے علم کا حاصل کرنا فرض ہوجاتاہے کہ جس کے ذریعے وہ اس فعل میں حرام کے ارتکاب سے بچ سکے ۔ نیز ظاہری معاملات کی طرح ہی باطنی احوال یعنی توکل ، توبہ ، خوفِ خدا ، رضاء الٰہی وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حکم ہے کیونکہ بندے کو مذکورہ قلبی اُمور سے بھی ہر وقت واسطہ پڑتارہتاہے لہٰذا اُس پر اَحوالِ قلب سے متعلق معلومات کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے ۔ ‘‘ ( )
¥فرائض وواجبات سے ناواقفیت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ ہرشخص پر بالغ ہوتے ہی نماز روزہ کے ضروری مسائل سیکھنا واجب ہوجاتا ہے ، نیز حج اور زکوۃ سے متعلق مسائل صاحب نصاب واستطاعت کے لیے سیکھنا ضروری ہے تاکہ وہ ان کی صحیح طریقے سے ادائیگی کرسکے ۔ مگر افسوس ! آج ہماری اکثریت ان چیزوں کے بنیادی مسائل سے بھی ناواقف ہے ، علم دِین سے دوری کے سبب ہوسکتا ہے بعض لوگوں کو تو یہ بھی معلو م نہ ہو کہ طہارت کیسے حاصل کی جاتی ہے ؟وضو کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟نماز کی کتنی شرائط اور کتنے فرائض ہیں؟ روزہ کن صورتوں میں ٹوٹ جاتا ہے ؟ کن صورتوں میں روزہ فاسد ہوجاتا ہے ؟ روزے کے مکروہات کتنے ہیں؟وغیرہ
وغیرہ ۔ کاش ! ہم بھی علم دِین حاصل کرنے والے بن جائیں ۔ فرائض وواجبات وغیرہ کو سیکھ کر اس پر عمل کرنے والے بن جائیں ۔ علم دِین حاصل کرنے والوں کے قرآن وسنت میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، چنانچہ حصولِ علم دِین کی فضیلت پر مشتمل چارفرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’علم سیکھنے سے ہی آتا ہے اور فقہ غورو فکر سے حاصل ہوتی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتاہے اُسے دِین میں سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے ۱ ُس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارے دِین کا بہترین عمل تقویٰ یعنی پرہیزگاری ہے ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’اللہتعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے اُسے دِین میں سمجھ بوجھ عطا فرماتاہے اور میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطاکرنے والااللہ عَزَّوَجَلَّہے ۔ اِس اُمَّت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا حکم آجائے ۔ ‘‘ () (4 ) ’’جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے اور بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالِم دِین کے لئے اِستغفار کرتی ہیں اور عالِم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پراور بے شک علماء انبیا ءعَلَیْہِمُ السَّلَامکے وارث ہیں ، بیشک انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَامدرہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ نفوس ِ قدسیہعَلَیْہِمُ السَّلَامتو صِرف علم کا وارث بناتے ہیں ، تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔ ‘‘ ( )
¥فرض علوم سیکھنے کا بہترین ذریعہ :تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ۔ فرائض وواجبات کی واقفیت کے لیے
دعوتِ اسلامی میںاَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ’’فرض علوم کورس ‘‘ کروایا جاتا ہے ۔ جس میں ضروریات زندگی سے متعلق وہ تمام ضروری مسائل سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ نیز اس ’’فرض علوم کورس ‘‘ کی آڈیو اور ویڈیو سی ڈیز بھی مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ ہوسکے تو آپ بھی اس ’’فرض علوم کورس ‘‘ میں شرکت فرمائیں ، اپنے دوست احباب کو اس کی دعوت دیں ، ورنہ کم ازکم اس ’’فرض علوم کورس ‘‘ کی سی ڈیز مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کریں ، خود بھی سنیں اور اپنے گھروالوں اور دوستوں کو بھی سنائیں اور دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پائیں ۔
¥نفع بخش علم کون سا ہے ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ بالا علم دِین حاصل کرنے کے فوائد جبھی حاصل ہوں گے جبکہ اس پر عمل کیا جائے ۔ اپنے علم پر عمل کرنے کی فضیلت سے متعلق تین فرامینِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’خوشخبر ی ہے اُس شخص کے لئے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنا فاضل مالاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خیرات کردیا اور فُضول کلام ترک کردیا ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) ’’جس نے اپنے علم پر عمل کیاﷲتعالیٰ اسے ایسا علم عطا فرمائے گا جو وہ پہلے نہ جانتا تھا ۔ ‘‘ () (3 ) ’’سب سے زیادہ حسرت قِیامت كے دن اُس كو ہوگی جسے دُنیا میں علم حاصل كرنے كا موقع ملا مگر اُس نے حاصِل نہ كیا اور اس شَخص كو ہوگی جس نے علم حاصِل كیا اور دوسروں نے تو اس سے سُن كر نفع اُٹھایا لیكن اس نے نفع نہ اُٹھا یا ( یعنی اپنے علم پر عمل نہ كیا ) ۔ ‘‘ ( )
¥( 3 ، 4 ) مال کہاں سے کمایااور کہاں خرچ کیا؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مال کے متعلق دو سوال ہوں گے : ایک یہ کہ کہاں سے حاصل کیا ؟حلال ذریعے سے یا حرام سے ۔ دوسرا کس مقام پر خرچ کیا؟ طاعت میں یا معصیت میں ۔ مبارک ہے وہ مال جو اچھی راہ سے آوے اور اچھی راہ پر خرچ ہو
جاوے ۔ اگر بارش کا پانی پرنالے سے نہ نکالا جاوے تو چھت توڑ دیتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥رزق حلال کھائیے ، رزق حرام سے بچیے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج اگر ہم اپنے معاشرے پر غور کریں تو واضح ہوگا کہ ہم پر مال کمانے کی دُھن سوار ہے ، ہرشخص اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ بس زیادہ سے زیادہ مال کماؤں ۔ میں بہت زیادہ مال دار ہوجاؤں ۔ مگر افسوس ! ایسے لوگ بہت کم ہیں جو یہ سوچتے ہوں کہ میں مال تو کماؤں مگر حلال ذریعے سے کماؤں ، مال کمانے کے حرام ذرائع سے پرہیز کروں ۔ حلال ذریعے سے مال کمانا باعث اجروثواب ہے جبکہ حرام ذریعے سے مال کمانا سخت ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ……٭قرآن وسنت میں حلال ذرائع سے مال کمانے والوں کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ کسب حلال کی فضیلت پر چار فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’جس کی روزی پاکيزہ ہو ، باطن اچھا ہو ، ظاہر عزت والا ہو اور جو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے اس کے لئے خوشخبری ہے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’بندے نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے پاکیزہ کبھی کوئی کمائی نہیں کھائی اور آدمی اپنی جان ، گھر والوں ، بچوں اور اپنے خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’جس نے حلال مال کمایا ، پھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی دیگر مخلوق کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کی زکوٰۃ ( یعنی اس کی پاکیزگی ) ہے ۔ ‘‘ ( ) (4 ) ’’دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ، جس نے اس میں سے حلال طریقہ سے کمایا اور اسے اس کے حق میں خرچ کیااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ثواب عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )……٭جبکہ حرام ذرائع سے مال کمانے والوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ کسب حرام کے وبال پر مشتمل چار فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’اس ذات پاک کی قسم جس کے
قبضۂ قدرت ميں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے ! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پيٹ ميں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہيں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زيادہ بہترہے ۔ “ ( ) ( 2 ) ’’جس نے حرام مال سے قميص بنا کر پہنی جب تک وہ قميص اتار نہ دے اس کی نماز قبول نہ ہو گی ، بے شک يہ باتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے شايانِ شان نہيں کہ وہ ايسے شخص کا عمل يانمازقبول فرمائے جس نے حرام کی قمیص پہن رکھی ہو ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) ’’جس نے 10درہم کا کپڑا خريدا اور اس ميں ايک درہم حرام کا تھا تو جب تک وہ لباس اس کے بدن پر رہے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی کوئی نماز قبول نہيں فرمائے گا ۔ ‘‘ ( ) (4 ) ’’دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ، جس نے اس میں حرام طریقے سے کمایا اور اسے ناحق خرچ کیااللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے ذلت و حقارت کے گھر کو حلال کردے گا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مال میں خیانت کرنے والے بہت سے لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی ۔ ‘‘ ( )
¥اپنے مال کو اچھی جگہوں میں خرچ کیجئے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یقیناً کسی بھی شے کا صحیح استعمال اس کی اہمیت وافادیت کو مزید روشن کرتا ہے ، لہٰذا اپنی حق حلال کی کمائی کو اچھی جگہوں پر خرچ کرنا چاہیے ، تاکہ اس سے دنیا وآخرت میں فائدہ ہو ۔ جس مال کو دنیا میں اچھی جگہوں پر خرچ کیا ہوگا کل بروز قیامت وہ مالاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّنجات کا باعث ہوگا ۔ ……٭ اپنے حلال مال کو خرچ کرنے کی بہت سی اچھی جگہوں کی نشاندہی قرآن واحادیث وکتب فقہ میں علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے بیان فرمائی گئی ہے ۔ چند مقامات کی وضاحت پیش خدمت ہے :
( 1 )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت وفرمانبردای ، عبادت پر قوت پانے اور مزید رزق حلال کمانے کی اِستطاعت پانے کے لیے اپنی ذات پر خرچ کیجئے ۔ ( 2 ) اپنے گھروالوں ، بیوی ، بچوں پر خرچ کیجئے ۔ ( 3 ) اپنے
والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان پر خرچ کیجئے ۔ ( 4 ) اپنے والدین کے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیجئے ۔ ( 5 ) مزید وُسعت ہو تو دُور کے رشتہ داروں پر بھی خرچ کیجئے ۔ ( 6 ) اپنے قریبی عزیزواقرباء ودوست اَحباب پر رضائے الٰہی کے لیے اِسراف سے بچتے ہوئے خرچ کیجئے ۔ ( 7 ) راہِ خدا میں خرچ کیجئے ۔ ( 8 ) غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کی کفالت پر خرچ کیجئے ۔ ( 9 ) نیک لوگوں پر خرچ کیجئے ۔ ( 10 ) مسجدکی تعمیرات پر خرچ کیجئے ۔ ( 11 ) مدارس ، جامعات ودِینی طلبہ پر خرچ کیجئے ۔ ( 12 ) نیک لوگوں خصوصاً اولیائے کرام ، علمائے کرام ، مفتیان عظام کی خیر خواہی پر خرچ کیجئے ۔ ( 13 ) حصول علم دین کے لیے دینی کتب پر خرچ کیجئے ۔ ( 14 ) راہ خدا میں سفر کرکے مال خرچ کیجئے ، یاکسی کو مدنی قافلے میں سفر کروانے میں مالی معاونت کیجئے ۔ ( 15 ) اِسلامی تہوار جیسے جشن عید میلاد النبی ، گیارہویں شریف ، اَعراس ، فاتحہ ، تیجہ ، چالیسواں ، اِجتماع ذِکرونعت وغیرہ پر خرچ کیجئے ۔ ( 16 ) اپنے مرحومین وغیرہ کے اِیصال ثواب کے لیے راہِ خدا میں خرچ کیجئے ۔ ( 17 ) ہرنیک اور جائز کام میں خرچ کیجئے ۔
……٭ مذکورہ بالا جگہوں کے علاوہ بعض مقامات پر شریعت میں خرچ کرنے کی ممانعت بھی ہے ، ایسی جگہوں پر خرچ گناہ ہے ، لہٰذا اِن تمام مقامات پر خرچ کرنے سے بچنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ثواب کی بجائے کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے پکڑ ہوجائے ۔ جہاں خرچ کرنا ممنوع ہے ان میں سے چند مقامات یہ ہیں : ( 1 ) کسی بھی ناجائز وحرام اور گناہ والی جگہوں پر خرچ نہ کیجئے ۔ ( 2 ) ہر وہ جگہ جہاں مال خرچ کرنے سے دینی نقصان ہووہاں بھی خرچ نہ کیجئے ۔ ( 3 ) بدمذہبوں ، کافروں ، مشرکوں وغیرہ پر خرچ نہ کیجئے ۔ ( 4 ) چور ، زانی یا زانیہ اور غنی کو صدقے کا مال وغیرہ دینا منع ہے ۔ ( 5 ) پیشہ ور بھکاریوں کو بھی نہ دیجئے کہ انہیں دینا منع ہے ۔ ( 6 ) جس شخص کے بارے میں معلوم کہ یہ اس مال کو کسی گناہ والی جگہ پر خرچ کرے گا اسے بھی مال نہ دیجئے ۔ ( 7 ) حرام یا فاسد تجارت میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔ ( 8 ) سودی لین دَین میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔ ( 9 ) حرام چیزوں کی خریدوفروخت میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔ ( 10 ) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کے مال یا عزت وآبرو کو پامال کرنے یا ان کے دیگر حقوق کو پامال کرنے کے لیے بھی اپنا مال وغیرہ خرچ کرنا ناجائز وحرام ہے ۔ ( 11 ) کسی بھی جگہ رشوت کے لین دَین میں اپنا مال ہرگز خرچ نہ کیجئے ۔ ( 12 ) کسی غیر قانونی کام میں اپنا
مال خرچ نہ کیجئے ۔ ( 13 ) ظالم کی مدد کرنے اورکسی مسلمان پر ظلم کی معاونت میں بھی خرچ نہ کیجئے ۔اپنے مال کو اچھی جگہوں پر خرچ کرنے اور بُری جگہوں پر خرچ نہ کرنے کی مزید تفصیلات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلد دوم اور ۴۱۶صفحات پر مشتمل کتاب ’’ضیائے صدقات ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے خرچ کیجئے :واضح رہے کہ مذکورہ بالا تمام صورتوں میں خرچ کرنے سے مراداللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے خرچ کرنا ہے ، اگر کوئی شخص اپنی واہ واہ کے لیے یا اس لیے خرچ کرتا ہے تاکہ لوگ اسے سخی کہیں تو ایسا خرچ کرنا شرعاً محمود یعنی قابل تعریف نہیں بلکہ مذموم یعنی قابل مذمت ہے ، بلکہ جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی آپ کو سخی کہلوانے کے لیے خرچ کرتا ہے کل بروزِقیامت اسے گھسیٹ کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا ۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے : ” کل بروز قیامت ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا ، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی ، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تواللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : ’’تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟ ‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا ۔ ‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے گا : ’’تو جھوٹا ہے ، تو نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا ۔ ‘‘ پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہو گا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ ( )( 5 ) اپنے جسم کو کن کاموں میں لگایا ۔ ۔ ۔ ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کل بروزِ قیامت پانچواں سوال جسم کے بارے میں ہوگا کہ اسے کن کاموں میں صرف کیا؟اچھے اعمال کرنے اور بُرے اعمال سے بچنے یا بُرے اعمال کرنے اور اچھے اعمال ترک کرنے میں جسم کے ظاہری وباطنی دونوں اعضاء کا تعلق ہے ، اگر بندے نے اپنے اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کیا ہوگا تو کل بروزِ قیامت یہ اس کے حق میں گواہی دیں گے اور اگر بُرے وگناہ والے کاموں میں استعمال کیا ہوگا تو یہ
اَعضاء اُس کے خلاف گواہی دیں گے ۔ چنانچہ قرآنِ مجید میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)(پ۱۵ ،بنی اسرائیل:۳۶ )ترجمۂ کنزالایمان: بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)(پ۲۳ ،یس:۶۵ )٠ترجمۂ کنزالایمان: آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(۱۹)حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۰)(پ۲۴ ،حم السجدۃ: ۱۹ ، ۲۰ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دناللہکے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے ، تو ان کے اگلوں کو روکیں گے یہاں تک کہ پچھلے آملیں ، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کئے کی گواہی دیں گے ۔
بندے کی ذات سے سرزد ہونے والے گناہوں کی دو قسمیں ہیں : ظاہری گناہ اور باطنی گناہ ۔ قرآن مجید فرقان حمید میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے دونوں طرح کے گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ(پ۸ ،الانعام:۱۲۰ )ترجمۂ کنزالایمان: اور چھوڑ دو کُھلا اور چُھپا گناہ ۔
جب تک بندے کو ظاہری وباطنی گناہوں کی معلومات نہیں ہوں گی اس وقت تک وہ ان سے صحیح طریقے سے نہیں بچ سکتا ۔ ظاہری گناہوں کا تعلق ظاہری جسمانی اعضاء جیسے ہاتھ ، پاؤں ، کان ، ناک ، آنکھ اور منہ سے ہے جبکہ باطنی گناہوں کا تعلق دل سے ہے ۔ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے مختلف کتب میں ظاہری وباطنی دونوں طرح کے گناہوں کو بالتفصیل بیان فرمایا ہے ۔ یہاں چند گناہوں کا اجمالی خاکہ ملاحظہ کیجئے :
¥47ظاہری گناہوں کا اجمالی خاکہ :( 1 ) جھوٹ ( 2 ) غیبت ( 3 ) چغلی ( 4 ) گالی گلوچ ( 5 ) فلمیں ڈرامے دیکھنا ( 6 ) فحش کلامی ( 7 )
دل آزاری ( 8 ) حق تلفی ( 9 ) ظلم وتشدد ( 10 ) ناحق قتل ( 11 ) زنا ( 12 ) شراب ( 13 ) جوا ( 14 ) جھوٹی تہمت ( 15 ) کسی کی ملکیت پر ناحق قبضہ ( 16 ) گانے باجے سننا ( 17 ) نماز قضا کردینا ( 18 ) ترک جماعت ( 19 ) نمازی کے آگے سے گزرنا ( 20 ) زکوٰۃ واجب ہونے کے باوجود ادا نہ کرنا ( 21 ) حج فرض ہونے کے باوجود ادا نہ کرنا ( 22 ) روزے قضا کردینا ( 23 ) دنیوی مال کا ناحق سوال ( 24 ) وعدہ خلافی ( 25 ) نفاق قولی ( 26 ) ناپ تول میں کمی ( 27 ) ناجائز سفارش ( 28 ) تذلیل و تضحیک ( 29 ) بُرائی کا حکم دینا اور نیکی سے منع کرنا ( 30 ) جھوٹی قسم ( 31 ) بے پردگی ( 32 ) غیر محرم سے بلا اجازت شرعی گفتگو ( 33 ) فحاشی اور بے حیائی ( 34 ) دھوکہ دہی ( 35 ) ماں باپ کی نافرمانی ( 36 ) قطع رحمی ( 37 ) سود کا لین دین ( 38 ) ناجائز رشوت کا لین دین ( 39 ) چوری و ڈاکہ زنی ( 40 ) وعدہ خلافی ( 41 ) پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی ( 42 ) بہتان ( 43 ) داڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ( 44 ) عدل وانصاف نہ کرنا ( 45 ) حرام کمانا ( 46 ) دشمنان اسلام سے دوستی ( 47 ) خود کشی ۔
¥47باطنی گناہوں کا اجمالی خاکہ :( 1 ) ریاکاری یعنی دکھاوا ( 2 ) عُجُب ( 3 ) حسد ( 4 ) بُغْض وکینہ ( 5 ) حُبِّ مَدَح ( 6 ) حُبِّ جاہ ( 7 ) محبت دنیا ( 8 ) طلب شُہرت ( 9 ) تَعْظِیْمِ اُمَرَاء ( 10 ) تَحْقِیْرِ مَسَاکِیْن ( 11 ) اِتِّباَعِ شَہَوَات ( 12 ) مُدَاہَنَت ( 13 ) نعمتوں کی ناشکری ( 14 ) حرص ( 15 ) بُخْل ( 16 ) لمبی لمبی امیدیں باندھنا ( 17 ) سوئے ظن یعنی بدگمانی ( 18 ) عِنَادِ حق ( 19 ) اِصْرَارِ باطِل ( 20 ) مَکْروفَرَیب ( 21 ) غَدْرْ ( 22 ) خِیَانَتْ ( 23 ) غَفْلَت ( 24 ) قَسْوَتْ دل کی سختی ( 25 ) طَمَعْ ( 26 ) تَمَلُّق ( چاپلوسی ) ( 27 ) اِعتمادِ خَلْقْ ( 28 ) رب تعالی کو بھول جانا ( 29 ) موت کو بھول جانا ( 30 )جُرْأَتْ عَلَی اللہ( 31 ) نِفَاق ( 32 ) اِتِّباَعِ شیطان ( 33 ) بَنْدَگیٔ نَفْسْ ( 34 ) رَغْبَتِ بَطَالَت ( 35 ) کَرَاہَتِ عَمَل ( 36 ) خوفِ خدا کا کم ہونا ( 37 ) بے صبری کا مظاہرہ کرنا ( 38 ) خشوع کا نہ ہونا ( 39 ) نفس کے لیے غصہ کرنا ( 40 )تَسَاھُلْ فِی اللہ(41 ) تَکَبُّر ( 42 ) بَدشُگُوْنِی ( 43 ) شَمَاتَتْ ( 44 ) اِسْرَاف ( 45 ) غَمِ دُنیا ( 46 ) تَجَسُّسْ ( عیب جوئی ) ( 47 ) ( رحمت الٰہی سے ) مایوسی ۔
ظاہری وباطنی گناہوں کی تعریفات ، ان کے متعلق قرآن وسنت میں موجود احکامات ، ان کے اسباب
اور علاج کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۸۶ صفحات پرمشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلدسوم اور۳۵۲صفحات پرمشتمل کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ اور ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘ جلد اول اور دوم کا مطالعہ کیجئے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّگناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
¥گناہوں بھری زندگی پر ندامت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج کل چاروں طرف گناہ ہی گناہ کئے جا رہے ہیں حتی کہ بظاہر کسی نیک نظر آنے والے شخص کے قریب جائیں تو وہ بھی بسا اوقات عقیدے کی خرابیوں ، زَبان کی بے احتیاطیوں ، بدنگاہیوں اور بد اَخلاقیوں کی آفتوں میں مبتَلا نظر آتا ہے ، آہ ! ہر سَمت گناہ گناہ اور بس گناہ ہی نظر آ رہے ہیں ! نیک بندے بے شک موجود ہیں مگر ان کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے ۔ ایسے نامُساعِد حالات میںاَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّسنّتوں بھری تحریک’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کا وجودِ مسعود کسی نعمت غیر مُتَرَقَّبہ سے کم نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اورسکھائی جاتی ہیں ، آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ،اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّدنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے ، کل بروزِقیامت پوچھے جانے والے پانچوں سوالات کی تیاری کرنے ، ظاہری وباطنی گناہوں سے بچنے ، نیکیاں کرنے ، پابند سنت بننے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا ۔ ا س مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوچکا ہے ۔ ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے :
بابُ المدینہ ( کراچی ) کے عَلاقہ کیماڑی میں مُقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : عرصۂ درازسے میں گناہوں کے مَرَض میں مبتلا تھا ، بات بات پر گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد جیسی ناپسندیدہ حرکتیں میری عادت میں شامل ہو چکی تھیں اور فلمیں ڈرامے دیکھنے ، گانے باجے سننے کا شوق توجُنُون کی حد تک تھا ۔ میری توبہ کی سبیل ( یعنی راہ ) کچھ اس طرح بنی کہ میں ایک بنگلے پر بطورِ ڈرائیور مُلازَمت کرتا تھا ، ایک دن کام سے فارِغ ہوکرT.V.روم میں بیٹھ گیا ۔ وہاں مجھے بذریعۂ مَدَنی چینل سنّتوں بھرا بیان سننے کی سعادت حاصل ہوئی ، بیان نے مجھے سرتاپا ہِلا کر رکھ دیا ، مجھے اپنی گناہوں بھری زندَگی پر ندامت ہونے لگی ،
میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے سچّے دل سے توبہ کی اورراہِ سنّت اپنا لی ۔ جب مَدَنی چینل پر رَمَضانُ المبارَک کے 30دن کے تربیّتی اعتکاف کی رغبت دلائی گئی تولَبَّیكکہتے ہوئے میں نے 30دن کے تربیتی اعتکاف کی نیَّت کرلی ۔ تادمِ تحریراَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّاس نیَّت کوعملی جامہ پہناتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی ) میں اعتکاف کی بَرَکتیں حاصِل کر رہا ہوں ۔ اعتِکاف سے فارِغ ہوتے ہی میں ہاتھوں ہاتھ یکمشت 12ماہ کے مَدَنی قافِلے میں بھی سفر کروں گا ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاللہکرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوت اسلامی تری دھوم مچی ہو
¥ایک اہم بات کی وضاحت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہوا کہ کل بروز قیامت بندہ اس وقت تک قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک پانچ سوالوں کے جواب نہ دے دے ۔ کیا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بھی یہ پانچوں سوالات ہوں گے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’اس حکم سے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور بعض نیک مسلمان مستثنی ٰ ( الگ ) ہیں ۔ جیسے وہ مسلمان جو بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’یا الٰہی مغفرت فرما ‘‘ کے 15حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 15مدنی پھول
(1)قیامت کا دن نہایت ہی ہولناک دن ہوگا ، کسی کو بھی دم مارنے کی جرأت نہیں ہوگی ۔
(2) کل بروز قیامت تانبے کی دہکتی ہوئی زمین ہوگی ، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا ، لہٰذا قیامت کی ہولناکیوں سے پناہ مانگنی چاہیے ۔
(3) کل بروز قیامت جب تک بندہ پانچ سوالوں کے جواب نہ دے دے گااس وقت تک اپنی جگہ سے قدم نہیں ہٹا سکے گا ۔
(4) جو شخص پانچ سوالوں کے جوابات دینے میں کامیاب ہوگیا وہ نجات پاکر جنت میں چلا جائے گا اور جو شخص ان پانچ سوالوں کے جوابات دینے میں ناکام ہوگیا وہ سزا کا حق دار ہوگا ۔
(5) ہماری زندگی کے لمحات قیمتی اور انمول ہیروں کی طرح ہیں ، انہیں ضائع کرنے کی بجائے اطاعت الٰہی میں صرف کرنا چاہیے ۔
(6) زندگی بہت مختصر ہے ، لمبی لمبی امیدیں باندھنے کی بجائے جلدی جلدی نیک اعمال کرتے جائیں ، کئی ہنستے بولتے نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ۔
(7) گناہوں کو ترک کرکے نیک اعمال کرنا شروع کردیجئے مگر نیک اعمال کو فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کیجئے کہ جو کام دکھاوے کے لیے کیا جائے گا وہ کسی کام کا نہیں ، اسے رد کردیا جائے گا ۔
(8) ہر مسلمان پر اس کے حسب حال علم دین حاصل کرنا فرض ہے ، خصوصاً بالغ ہوتے ہی ہر مسلمان پر نماز ، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے ۔
(9) علم وہی نفع بخش ہے جس پر عمل کیا جائے ، بغیر عمل کے علم کا صحیح طرح سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ۔
(10) کسب حلال عبادت ہے ، حلال کھائیے ، اپنے آپ کو ناجائز وحرام کھانے سے بچائیے کہ جس کے پیٹ میں ایک لقمہ بھی حرا م کا ہوگا وہ جہنم کا حق دار ہوگا ۔
(11) اپنے پاکیزہ مال کو اچھی جگہوں پر ہی خرچ کیجئے ، ناجائز وحرام جگہوں پر خرچ نہ کیجئے ۔
(12) جو مال اچھی جگہوں پر خرچ کیا جائے وہ دنیا وآخرت دونوں میں مفید ہے جبکہ ناجائز وحرام جگہوں پر خرچ کیا گیا مال کل بروز قیامت ذلت ورسوائی کا باعث ہوگا ۔
(13)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے خرچ کیجئے کہ جو شخص اپنی واہ واہ یا سخی کہلوانے کے لیے خرچ کرے گا کل بروزِ قیامت اسے کوئی اجر نہیں دیا جائے گا بلکہ اُسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈالاجاسکتا ہے ۔
(14) تمام گناہوں سے بچیے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ظاہری وباطنی تمام گناہوں سے بچنے کاحکم دیاہے ۔
(15) کل بروزِ قیامت انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور جن پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا خصوصی فضل وکرم ہوگا ان سے یہ پانچ سوالات نہیں کیے جائیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے ، نیکیاں کرنے ، دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کی تیاری کرنے ، قیامت کے دن پوچھے جانے والے پانچ سوالوں کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 407