Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 408

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَرَاَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا) ثُمَّ قَالَ : اَتَدْرُوْنَ مَا اَخْبَارُهَا؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ قَالَ : فَاِنَّ اَخْبَارَهَا اَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ اَوْ اَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا تَقُولَ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَھٰذِہِ اَخْبَارُهَا. ( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال : قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( یومىذ تحدث اخبارها) ثم قال : اتدرون ما اخبارها؟ قالوا : الله ورسوله اعلم قال : فان اخبارها ان تشهد على كل عبد او امة بما عمل على ظهرها تقول : عملت كذا وكذا في يوم كذا وكذا فھذہ اخبارها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہحضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : (یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴)) (پ۳۰ ،الزلزال: ۴ ) (ترجمۂ کنزالایمان: اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔ ) پھر فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں؟ ‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ” بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ زمین کل بروزِ قیامت ہر مَرد اورعورت کے اُن اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے اور وہ زمین کہے گی : تو نے فلاں دن یہ عمل کیا اور فلاں دن فلاں کام کیا ۔ یہ ہیں اس کی خبریں ۔ “

شرح حدیث

تمام گناہوں کا گواہ :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ ہم نے جس جگہ گناہ کیا ہوگا زمین کا وہ حصہ ہمارے اس گناہ کی گواہی دے گا کہ مجھ پر تو نے یہ گناہ کیا تھا ، پھر ہمارے پاس کوئی عذر نہ رہے گا ۔ لہٰذا جب ہم اکیلے

میں گناہ کریں تو یہ نہ سمجھیں کہ کوئی ہمارے گناہ کی گواہی دینے والا نہیں بلکہ قیامت کے دن زمین کا حصہ ہمارے ہر ہر گناہ کا گواہ ہے ۔ خواہ ہم نے وہ گناہ ظاہری طورپر کیا ہو یا چھپ کر ۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ گواہی دے گی ۔ یعنی زبان سے بولے گی جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے اور اُس دن زمین کو بولنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے اور بندوں پر اِتمامِ حجت کے لیے زیادہ مضبوط دلیل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
زمین کے علاوہ کیے گئے گناہوں کی گواہی :یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو گناہ زمین پر کیا جائے اس کی گواہ تو زمین ہے لیکن جو گناہ سمندر میں ، فضا میں یا پہاڑوں پر کیا جائے ۔ کیا زمین اس کی گواہی بھی دے گی؟ اس کا جواب دیتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’زمین کی پیٹھ عام ہے خود زمین مکان کی چھت ، پہاڑ کی چوٹی ، سمندر کی سطح ، ہوائی جہاز کی سیٹ جہاں بھی کوئی عمل کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے کیونکہ پہاڑ بھی زمین پر ہے اور پانی و ہوا بھی زمین پر ، ان میں سے جہاں بھی کچھ کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے ، قبر کو زمین کا پیٹ کہا جاتا ہے اور ظاہری زمین کو زمین کی پیٹھ ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’زمین کی گواہی اس طرح ہوگی کہ وہ کہے گی : فلاں نے میری پیٹھ پر فلاں دن فلاں مہینے میں فلاں نیکی یا فلاں گناہ کیا تھا ۔ فرمایا : یہی گواہیاں اس کی خبریں ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
زمین کو ہر شخص کی پہچان ہوگی :حدیث پاک میں ہے : ” یہ ہیں اس کی خبریں ۔ “اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین میں حواس ہیں ، یہ عمل کرنے والوں کو بھی پہچانتی ہے ، ان کے عملوں کو بھی ، اس کی یہ جان پہچان تفصیل وار ہے ۔ یہ

بھی معلوم ہوا کہ زمین کو قیامت کے دن ہر ایک کی پہچان ہوگی ، ان کا ہرعمل یاد ہوگا ۔ ( )
¥
گناہوں سے بچنے کے دو عظیم نسخے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عموماً بندہ کسی کے سامنے یا کسی کی موجودگی میں کوئی گناہ کرتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن تنہائی میں گناہ کرنے پر شیطان اس کو ابھارتا ہے اور پھر اس سے گناہ کرواتا ہے ۔ تنہائی میں گناہ سے بچنے کے دو 2عظیم نسخے پیش خدمت ہیں : ( 1 )اللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھ رہا ہے : جب بھی نفس وشیطان کی طرف سے تنہائی میں کسی بھی گناہ کرنے کا ارادہ ذہن میں آئے تو فوراً یہ مدنی ذہن بنائیں کہ اگرچہ اس جگہ اور کوئی بھی موجود نہیں ہے یا اس جگہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہالیکن میرا رب تعالیٰ تو مجھے دیکھ رہا ہے ۔ اگر کل بروز قیامت رب تعالیٰ نے مجھ سے استفسار فرمایا کہ اے میرے بندے ! میں تو تیری خلوت وجلوت دونوں میں تجھے دیکھ رہا تھا ، میں تو تیرے ہر اعلانیہ اور خفیہ فعل سے خبردار تھا تو پھر تونے گناہ کیوں کیا؟ تو میں اپنے رب تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا؟اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاگر یہ مدنی ذہن بن گیا تو گناہوں سے نجات میں بہت مُعاوَنت ملے گی ۔ ( 2 ) یہ جگہ گواہی دے گی : تنہائی میں گناہ سے بچنے کا یہ دوسرا نسخہ اس حدیث پاک میں ہی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب کسی جگہ تنہائی میں گناہ کرنے کا وسوسہ نفس وشیطان کی طرف سے ذہن میں آئے تو بندہ فوراً یہ مدنی ذہن بنائے کہ اگرچہ اس جگہ کوئی موجود نہیں ہے اور کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن جس جگہ میں گناہ کرنے کا ارادہ کررہا ہوں کل بروزِ قیامت یہ جگہ تو میرے حق میں یا میرے خلاف رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دے سکتی ہے اور اگر خدانخواستہ اس جگہ نے میرے خلاف ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دی کہ ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس شخص نے مجھ پر فلاں وقت میں فلاں گناہ کیا تھا ۔ ‘‘ تو میرا کیا بنے گا؟یقیناً جب سب کے سامنے میرے گناہ کی گواہی دی جائے گی تو شدید ذِلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔مدنی گلدستہ
’’کریم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1) کل بروزِ قیامت زمین بھی ہمارے مختلف اعمال کی گواہی دے گی ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکل بروز قیامت زمین کو قوتِ گویائی عطا فرمائے گا اور پھر وہ گواہی دے گی ۔
(3) سمندر یا فضا میں کیے جانے والے اعمال کی بھی زمین گواہی دے گی کیونکہ یہ سب زمین کی پیٹھ پر ہیں ۔
(4) زمین کو بھی
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حواس عطا فرمائے ہیں کہ وہ ہر عمل کرنے والے اور اس کے مختلف اعمال کو بھی پہچانتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدتمام گناہوں کا گواہ :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ ہم نے جس جگہ گناہ کیا ہوگا زمین کا وہ حصہ ہمارے اس گناہ کی گواہی دے گا کہ مجھ پر تو نے یہ گناہ کیا تھا ، پھر ہمارے پاس کوئی عذر نہ رہے گا ۔ لہٰذا جب ہم اکیلے

میں گناہ کریں تو یہ نہ سمجھیں کہ کوئی ہمارے گناہ کی گواہی دینے والا نہیں بلکہ قیامت کے دن زمین کا حصہ ہمارے ہر ہر گناہ کا گواہ ہے ۔ خواہ ہم نے وہ گناہ ظاہری طورپر کیا ہو یا چھپ کر ۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ گواہی دے گی ۔ یعنی زبان سے بولے گی جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے اور اُس دن زمین کو بولنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے اور بندوں پر اِتمامِ حجت کے لیے زیادہ مضبوط دلیل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
زمین کے علاوہ کیے گئے گناہوں کی گواہی :یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو گناہ زمین پر کیا جائے اس کی گواہ تو زمین ہے لیکن جو گناہ سمندر میں ، فضا میں یا پہاڑوں پر کیا جائے ۔ کیا زمین اس کی گواہی بھی دے گی؟ اس کا جواب دیتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’زمین کی پیٹھ عام ہے خود زمین مکان کی چھت ، پہاڑ کی چوٹی ، سمندر کی سطح ، ہوائی جہاز کی سیٹ جہاں بھی کوئی عمل کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے کیونکہ پہاڑ بھی زمین پر ہے اور پانی و ہوا بھی زمین پر ، ان میں سے جہاں بھی کچھ کیا جاوے وہ زمین کی پیٹھ پر ہی ہے ، قبر کو زمین کا پیٹ کہا جاتا ہے اور ظاہری زمین کو زمین کی پیٹھ ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’زمین کی گواہی اس طرح ہوگی کہ وہ کہے گی : فلاں نے میری پیٹھ پر فلاں دن فلاں مہینے میں فلاں نیکی یا فلاں گناہ کیا تھا ۔ فرمایا : یہی گواہیاں اس کی خبریں ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
زمین کو ہر شخص کی پہچان ہوگی :حدیث پاک میں ہے : ” یہ ہیں اس کی خبریں ۔ “اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین میں حواس ہیں ، یہ عمل کرنے والوں کو بھی پہچانتی ہے ، ان کے عملوں کو بھی ، اس کی یہ جان پہچان تفصیل وار ہے ۔ یہ

بھی معلوم ہوا کہ زمین کو قیامت کے دن ہر ایک کی پہچان ہوگی ، ان کا ہرعمل یاد ہوگا ۔ ( )
¥
گناہوں سے بچنے کے دو عظیم نسخے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عموماً بندہ کسی کے سامنے یا کسی کی موجودگی میں کوئی گناہ کرتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن تنہائی میں گناہ کرنے پر شیطان اس کو ابھارتا ہے اور پھر اس سے گناہ کرواتا ہے ۔ تنہائی میں گناہ سے بچنے کے دو 2عظیم نسخے پیش خدمت ہیں : ( 1 )اللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھ رہا ہے : جب بھی نفس وشیطان کی طرف سے تنہائی میں کسی بھی گناہ کرنے کا ارادہ ذہن میں آئے تو فوراً یہ مدنی ذہن بنائیں کہ اگرچہ اس جگہ اور کوئی بھی موجود نہیں ہے یا اس جگہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہالیکن میرا رب تعالیٰ تو مجھے دیکھ رہا ہے ۔ اگر کل بروز قیامت رب تعالیٰ نے مجھ سے استفسار فرمایا کہ اے میرے بندے ! میں تو تیری خلوت وجلوت دونوں میں تجھے دیکھ رہا تھا ، میں تو تیرے ہر اعلانیہ اور خفیہ فعل سے خبردار تھا تو پھر تونے گناہ کیوں کیا؟ تو میں اپنے رب تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا؟اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاگر یہ مدنی ذہن بن گیا تو گناہوں سے نجات میں بہت مُعاوَنت ملے گی ۔ ( 2 ) یہ جگہ گواہی دے گی : تنہائی میں گناہ سے بچنے کا یہ دوسرا نسخہ اس حدیث پاک میں ہی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب کسی جگہ تنہائی میں گناہ کرنے کا وسوسہ نفس وشیطان کی طرف سے ذہن میں آئے تو بندہ فوراً یہ مدنی ذہن بنائے کہ اگرچہ اس جگہ کوئی موجود نہیں ہے اور کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن جس جگہ میں گناہ کرنے کا ارادہ کررہا ہوں کل بروزِ قیامت یہ جگہ تو میرے حق میں یا میرے خلاف رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دے سکتی ہے اور اگر خدانخواستہ اس جگہ نے میرے خلاف ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دی کہ ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس شخص نے مجھ پر فلاں وقت میں فلاں گناہ کیا تھا ۔ ‘‘ تو میرا کیا بنے گا؟یقیناً جب سب کے سامنے میرے گناہ کی گواہی دی جائے گی تو شدید ذِلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔مدنی گلدستہ
’’کریم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1) کل بروزِ قیامت زمین بھی ہمارے مختلف اعمال کی گواہی دے گی ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکل بروز قیامت زمین کو قوتِ گویائی عطا فرمائے گا اور پھر وہ گواہی دے گی ۔
(3) سمندر یا فضا میں کیے جانے والے اعمال کی بھی زمین گواہی دے گی کیونکہ یہ سب زمین کی پیٹھ پر ہیں ۔
(4) زمین کو بھی
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حواس عطا فرمائے ہیں کہ وہ ہر عمل کرنے والے اور اس کے مختلف اعمال کو بھی پہچانتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 408