- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
خوفِ خدا کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حدیث بیان کی اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقول و فعل میں بالکل سچے ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ” بے شک تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی صورت میں رہتا ہے ، پھر وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے ، چالیس دن تک وہ اسی طرح رہتا ہے پھر وہ گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے اور چالیس دن تک اسی طرح رہتا ہے ۔ پھر ایک فرشتہ اس کی طرف بھیجاجاتا ہے جو اُس میں روح پھونکتا ہے ، اُسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : ( 1 ) رزق ( 2 ) موت کی مدت ( 3 ) عمل اور ( 4 ) خوش بختی یا بد بختی ۔ اُس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! بے شک تم میں سے کوئی شخص جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اُس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الٰہی اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں والے عمل کرتا رہتاہے اور وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر الٰہی اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ : اِنَّ اَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِى بَطْنِ اُمِّهِ اَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ
يَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيْهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِاَرْبَعِ كَلِمَاتٍ بِکَتْبِ رِزْقِهِ وَاَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقِىٌّ اَوْ سَعِيدٌ. فَوَ الَّذِي لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰى مَا يَكُوْنُ بَيْنَهُ وَبَيْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُھَا وَ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَیَدْخُلُھَا ۔ “ ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 396 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی سے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار ( 70000 ) لگاموں سے کھینچ کر لایا جائے گا ، ہر لگام کو ستر ہزار ( 70000 ) فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے ۔ ‘‘
عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْن مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : یُؤْتَی بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍلَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعْ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَجُرُّوْنَھَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 397 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک قیامت کے دن جہنمیوں میں سے جس کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا ، وہ یہ ہوگا کہ اس کے تلووں کے نیچے آگ کے دھکتے ہوئے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا اور وہ یہ گمان کرے گا کہ اُ س سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہورہا ، حالانکہ اُسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا ۔ “
عَنِِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَهْوَنَ اَهْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَرَجُلٌ یُوْضَعُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ جَمْرَتَان يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَا يَرَى اَنَّ اَحَدًا
اَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَاِنَّهُ لَاَهْوَنُهُمْ عَذَابًا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 398 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا سمرہ بن جندبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدار رسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جہنمیوں میں سے کچھ لوگوں کو آگ اُن کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور بعض کو اُن کے گھٹنوں تک پکڑے گی اور بعض کو ناف تک پکڑے گی اور بعض کو گردن تک آگ نے پکڑا ہوا ہوگا ۔ ‘‘
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ النَّارُ اِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى حُجْزَ تِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى تَرْقُوَتِهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 399 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوب جائے گا ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتّٰى يَغِيْبَ اَحَدُهُمْ فِىْ رَشْحِهِ اِلٰی اَنْصَافِ اُذُنَـيْهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 400 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ اُس جیسا خطبہ پہلے کبھی نہیں سنا ۔ چنانچہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ہچکیوں سے رونے لگے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی طرف سے کوئی بات پہنچی تو حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” مجھ پر جنت و دوزخ پیش کی گئی تو میں نے آج کی طرح کبھی خیر و شر نہیں دیکھا ، اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “یہ سن کر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر اُس سے زیادہ سخت دن کبھی نہ آیا ۔ انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپ لیا اور ہچکیوں سے رونے لگے ۔
مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جب جنت و دوزخ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے جہنم کے عذاب کو ملاحظہ فرمایا اور جان لیا کہ کوئی بھی اس عذاب کو برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو اسی عذابِ الٰہی سے ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ ‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالَ : فَغَطَّى اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وُجُوْهَهُمْ وَ لَهُمْ خَنِينٌ . ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ : بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ فَقَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَمْ اَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا فَمَا اَتَى عَلَى اَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ اَشَدُّ مِنْهُ غَطَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 401 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا مقداد بن اَسودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک ، صاحب
لَولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہ سورج اُن سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا ۔ “حضرت سیدنا مِقدادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کر نے والے حضرت سیدنا سُلَیم بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں نہیں جانتا کہ مِیل سے سرکارِ دو عالَم نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کیا مراد تھی؟ کیا زمینی مسافَت والا میل مراد تھا یا پھر وہ سَلائی جس سے آنکھوں میں سرمہ لگاتے ہیں ۔ “پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے ، اُن میں سے کچھ ٹخنوں تک ، کچھ گھٹنوں تک ، کچھ کمر تک پسینے میں ہوں گے اور کچھ کو پسینے نے لگام ڈالی ہوگی ۔ “ ساتھ ہی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دستِ مبارک سے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔
عَنِ الْمِقْدَادِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيْلٍ قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرِ الرَّاوِي عَنِ الْمِقْدَادِ : فَوَاللهِ مَا اَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ اَمَسَافَةَ الْاَرْضِ اَمِ الْمِيْلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ اَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ اِلٰی كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ اِلٰی رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ اِلٰی حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُّلْجِمُهُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ اِلٰى فِيْهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 402 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن لوگوں کو پسینہ آئے گایہاں تک کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر 70گز تک پہنچ جائے گا اور ان کی لگام بن جائے گا حتی کہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔ ‘‘
عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِى الاَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 403 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے کہ اچانک کسی چیز کے گرنے کی زور دار آواز آئی ۔ رسول پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کیا تمہیں معلوم ہے یہ کس چیز کی آوازتھی؟“ ہم نے عرض کی :اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ” یہ ایک پتھر تھا جسے ستر ( 70 ) سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اوروہ اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے ۔ پس تم نے اسی کے گرنے کی آواز سنی ہے ۔ “
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ :
هَلْ تَدْرُوْنَ مَا هٰذَا؟ قُلْنَا : اَللهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ ، قَالَ : هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَھَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 404 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عدی بن حاتمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ اکبر ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” عنقریب تم میں سے ہرایک سے اُس کا رب بلا ترجمان کلام فرمائے گا ۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے ۔ بائیں طرف دیکھے گا تو بھی اَعمال نظر آئیں گے ۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی ، لہٰذا جہنم سے بچو ! اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو ۔ ‘‘
عَنْ عَدِىِّ بْنِِ حَاتِـمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ اَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى اِلَّا مَا قَدَّمَ وَ يَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَي اِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَي اِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 405 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذرّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہسرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے ، آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ چرچرائے ، آسمان میں چار انگل بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر بسجود نہ ہو ۔ بے شک جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنِّي اَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ اَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا اَنْ تَئِطَّ مَا فِيْهَا مَوْضِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ اِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ اِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَى اللَّهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 406 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو برزہ نَضْلَہ بن عُبَیْد اَسلمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ ( بروزِ قیامت ) بندے کے دونوں قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کہاں صَرف کی؟ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا ؟اور کہاں خرچ کیا ؟اور اپنے جسم کو کن کاموں میں لگایا؟ ‘‘
عَنْ اَبِي بَرْزَةَ نَضْلَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْاَسْلَمِیّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزُوْلُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا اَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيْمَ فَعَلَ فِیْہِ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ اَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيْمَ اَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيْمَ اَبْلَاهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 407 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہحضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : (یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴)) (پ۳۰ ،الزلزال: ۴ ) (ترجمۂ کنزالایمان: اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔ ) پھر فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں؟ ‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ” بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ زمین کل بروزِ قیامت ہر مَرد اورعورت کے اُن اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے اور وہ زمین کہے گی : تو نے فلاں دن یہ عمل کیا اور فلاں دن فلاں کام کیا ۔ یہ ہیں اس کی خبریں ۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَرَاَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا) ثُمَّ قَالَ : اَتَدْرُوْنَ مَا اَخْبَارُهَا؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ قَالَ : فَاِنَّ اَخْبَارَهَا اَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ اَوْ اَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا تَقُولَ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَھٰذِہِ اَخْبَارُهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 408 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں کس طرح خوش ہوں حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور منہ میں لیے کان لگائے بیٹھا ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہو اور وہ صور پھونکے ۔ ‘‘ یہ بات صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر گراں گزری تواللہ1∞کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے ارشاد فرمایا : ’’ تم کہو ! ہمیںاللہہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ اَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ اِلْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْاِذْنَ مَتٰى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَاَنَّ ذٰلِكَ ثَقُلَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ : قُوْلُوْا : (حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيْلُ). ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 409 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جواللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتاہے وہ اُس کی اطاعت میں مستعد ہوجاتا ہے اور جو اُس کی اطاعت میں مستعد ہوجاتا ہے وہ منزل کو پالیتا ہے ۔ خبردار !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا گراں ہے ، خبردار !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا جنت ہے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَافَ اَدْلَجَ وَمَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 410 ، خوفِ خدا کا بیان
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نےشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ اُٹھائے جائیں گے ۔ “میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عورتیں اور مردسب جمع ہوں گے تو بعض بعض کو دیکھیں گے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” اے عائشہ ! معاملہ اس سے سخت ہے کہ لوگ اس طرف توجہ کریں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے یوں ہے کہ’’معاملہ اس سے سخت تر ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھے ۔ “
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَلرِّجَالُ وَ النِّسَاءُ جَمِيْعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ! اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ يُّهِمَّهُمْ ذٰلِكَ. ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ : اَلْاَمْرُ اَهَمُّ مِنْ اَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 411 ، خوفِ خدا کا بیان