Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 399

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ النَّارُ اِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى حُجْزَ تِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى تَرْقُوَتِهِ. ( )

عن سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ ان نبي الله صلى الله عليه وسلم ، قال : منهم من تاخذه النار الى كعبيه ومنهم من تاخذه الى ركبتيه ومنهم من تاخذه الى حجز ته ومنهم من تاخذه الى ترقوته. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا سمرہ بن جندبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدار رسالت شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جہنمیوں میں سے کچھ لوگوں کو آگ اُن کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور بعض کو اُن کے گھٹنوں تک پکڑے گی اور بعض کو ناف تک پکڑے گی اور بعض کو گردن تک آگ نے پکڑا ہوا ہوگا ۔ ‘‘

شرح حدیث

آگ مؤمن کے چہرے کونہیں چھوئے گی :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں عذاب کے مختلف ہونے کا بیان ہے ۔ یعنی بعض لوگوں کو زیادہ عذاب ہوگا ، بعض کو کم ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعض کو عذاب ہوگا اور بعض کو نہیں ہوگا ۔ ‘‘ نیز علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ شرح السنہ میں سیدنا ابو سعیدخدریرَضِیَ اللہُتَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے : ’’جب ایمان والوں کو جہنم سے رہائی ملے گی تو وہ اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے کیونکہ آگ مؤمنوں کے چہروں کو نہیں چھوئے گی ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان” مرآۃ المناجیح“ میں فرماتے ہیں : ’’دوزخی لوگوں کو عذاب تو پورے جسم کو ہوگا مگر مختلف طریقوں کا ہوگا جیسا کافر ویسا اس کا عذاب ۔ دوزخ کی آگ کا تو ایک انگارا ہی سزا کے لیے کافی ہے جس کے گلے تک آگ ہو غور کرلو اس کا حال کیا ہوگا ؟اللہتعالیٰ اس آگ سے بچائے ۔ یہ آگ کفار کو بھی پہنچے گی اور بعض گنہگار مؤمنوں کو بھی ، مگر مؤمنوں کو کچھ دن کے لیے ۔ کافروں کو ہمیشہ کے لیے ۔ اور بھی کئی طرح فرق ہوگا ۔ ترقوت وہ ہڈی ہے جو گلے اور گردن کے درمیان ہے جسے ہندی میں ٹیٹوا کہتے ہیں ، فارسی میں چنبر ۔ ‘‘ ( )
¥
جہنم کے خوف سے بے ہوش ہوگئے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جہنم کا عذاب بہت سخت ہے ، اس عذاب کو سہنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے ، ہمارے بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنجب بھی جہنم کا تذکرہ سنتے تو ان پر خوف خدا کے سبب رقت طاری ہوجاتی ، ان کی حالت غیر ہوجاتی بلکہ بسا اوقات تو بے ہوش ہوجاتے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک کنیز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی : ’’عالی جاہ ! میں نے خواب میں عجیب معاملہ دیکھا ۔ ‘‘ آپ کے دریافت کرنے پر وہ یوں عرض گزار ہوئی کہ : ’’میں نے دیکھاکہ جہنم کو بھڑکایا گیااور اس پر پل صراط رکھ دیا گیا پھر اُموی خلفاء کو لایا گیا ۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو اس پل صراط سے گزرنے کا حکم دیاگیا ، چنانچہ وہ پل صراط پر چلنے لگالیکن افسوس ! وہ تھوڑا سا چلا کہ پل الٹ گیا اور وہ جہنم میں گر گیا ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دریافت کیا : ’’پھر کیا ہوا؟ ‘‘ کنیز نے کہا : ’’ پھر اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک کو لایا گیا ، وہ بھی اسی طرح پل صراط پار کرنے لگا کہ اچانک پل صراط پھر الٹ گیا ، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں جاگرا ۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سوال کیاکہ ،

’’اس کے بعدکیا ہوا؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کو حاضر کیا گیا ، اسے بھی حکم ہوا كہ پل صراط سے گزرو ، اس نے بھی چلنا شروع کیا لیکن یکایک وہ بھی دوزخ کی گہرائیوں میں اتر گیا ۔ ‘‘ آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’مزید کیا ہوا؟ ‘‘ اس نے جواب دیا : ’’یا امیر المؤمنین ! ان سب کے بعد آپ کو لایا گیا ۔ ‘‘ کنیز کا یہ جملہ سنتے ہی سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خوف زدہ ہو کر چیخ ماری اور زمین پر گر گئے ۔ کنیز نے جلد ی سے کہا : ’’اے امیر المؤمنین !اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پلِ صراط پار کر لیا ۔ ‘‘ لیکن سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکنیز کی بات نہ سمجھ پائے کیونکہ آپ پر خوف کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ آپ بے ہوشی کے عالم میں بھی اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔ ( )
قبر محبوب کے جلوؤں سے بسا دے مالک ……… یہ کرم کردے تو میں شاد رہوں گا یارب
گرتو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ……… ہائے میں نار جہنم میں جلوں گا یارب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفر ت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’رسول ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
جہنم میں لوگ اپنے اعمال کے مطابق آگ کی لپیٹ میں ہوں گے ، کم گناہ والا ٹخنوں تک ، زیادہ گناہ والا گردن تک آگ کی لپیٹ میں ہوگا ۔
(2) گناہ گار مومن جو جہنم میں جائیں گے آگ ان کے چہروں کو نہیں جلائے گی اور وہ اپنے چہروں کی وجہ سے پہچانے جائیں گے ۔
(3) دوزخ کی آگ کا ایک انگارا بھی بہت بڑی اور ناقابلِ برداشت سزاہے پھر پوری گردن تک آگ میں ہونا بہت ہی سخت عذاب ہے ۔
(4) مسلمانوں میں سے جو گناہ گار جہنم میں جائیں گے وہ اپنے گناہوں کی سزا پا کر جنت میں آجائیں گے

جبکہ کفار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرمائے ۔ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے بے حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 399