- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
- حدیث نمبر 400
خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 400
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتّٰى يَغِيْبَ اَحَدُهُمْ فِىْ رَشْحِهِ اِلٰی اَنْصَافِ اُذُنَـيْهِ. ( )
عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ان رسول الله صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال : يقوم الناس لرب العالمين حتى يغيب احدهم فى رشحه الی انصاف اذنـيه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوب جائے گا ۔ ‘‘
شرح حدیث
کفار پسینے میں ، مؤمن سائے میں :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن پسینہ آنے کے بارے میں مختلف احادیث مروی ہیں ۔ بیہقی میں سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سورج لوگوں کے اتنے قریب آجائے گا کہ پسینہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔ طبرانی میں سیدناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کا دن طویل ہوگا اور کافر کو اس کے پسینے سے لگام لگائی جائے گی حتی کہ وہ کہے گا : اے رب ! مجھے اس سے نجات دے اگرچہ جہنم میں داخل کر کے ۔ ‘‘ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کامل مؤمن کو سورج نقصان نہیں پہنچائے گا یا جو شخص عرش کے سایے میں ہوگا ، اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ ‘‘ سیدنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’سورج کی گرمی کسی مؤمن اور مؤمنہ کو نہیں پہنچے گی جبکہ کفار کو سورج جلادے گا حتی کہ ان کے جلنے کی
وجہ سے عَق عَق کی آوازیں آئیں گیں ۔ ‘‘ حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ’’قیامت کے دن کفار کو ان کے پسینے سے لگام ڈالی جائے گی ۔ “آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا گیا : اس وقت مؤمن کہاں ہوگا؟ ارشاد فرمایا : ” سونے کی کرسی پر اور اُس پر بادل سایہ کیے ہوگا ۔ ‘‘ سیدنا ابو موسیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ’’سورج لوگوں کے سروں پر ہوگا اور ان کے اعمال اُن پر سایہ کیے ہوں گے ۔ ‘‘ ( )
¥تین سو سال کھڑے رہیں گے :جباللہ عَزَّوَجَلَّکا حکم ہوگا حساب کتاب کا وقت آئے گا تب تمام لوگ اپنی اپنی قبور سے نکل کر کھڑے ہوں گے اور تین سو 300سال تک کھڑے رہیں گے یہاں تک اپنے اپنے پسینے میں غوطہ زن ہوں گے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’رب العالمین کے حکم سے سزا و جزاء کے لیے لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے ۔ حضرت سیدنا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ’’ لوگ تین سو 300 سال تک کھڑے رہیں گے ، یہاں تک کہ اپنے پسینے میں آدھے کان تک ڈوب جائیں گے ۔ ‘‘ لوگوں کے ہجوم اور سورج کی جھلسا دینے والی گرمی کی وجہ سے اتنا پسینہ آئے گاجیسا کہ ایک روایت میں ہے : ’’جہنم اہلِ محشر کو گھیر لے گی اور جنتیوں کے لیے جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ ہوگا اور وہ پل صراط ہوگا ۔ پس لوگ اپنے اعمال کے حساب سے پسینے میں ہوں گے ، بعض کو پسینے کی لگام لگادی جائے گی کہ وہ کلام نہ کر سکیں گے بعض کے کانوں تک پسینہ ہوگا اور بعض کا اس سے کم حتی کہ بعض ٹخنوں تک پسینے میں ہوں گے ۔ ‘‘
یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ پسینہ سمندر کی طرح ہو تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے کانوں تک پسینہ ہو اور دوسرے کے ٹخنوں تک ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’اللہتعالیٰ اس کے پیروں کو زمین سے اُوپر اٹھا دے گا اور اس کا پسینہ ٹخنوں تک ہی پہنچے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّہر شخص کا پسینہ دوسرے سے روک دے کہ ایک کا پسینہ دوسرے تک نہ پہنچے جیسے کہ اُس نے حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دریائے نیل کے پانی کو روک دیا ۔ ‘‘ ( )
¥نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی قیامت کا دن بہت ہولناک اور دشوار گزار ہوگا ، کسی شخص میں اس دن تکالیف اور دشواریوں کو سہنے کی طاقت نہیں ، ہمارے بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنبھی قیامت کے ہولناک منظر سے ہمیشہ خوفزدہ رہا کرتے تھے ، نیز انہیں ہروقت یہی فکر لگی رہتی تھی کہ کل بروز قیامت پتا نہیں ہمیں ہمارا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا یا بائیں ہاتھ میں ۔ قیامت کے خوف سے ان پر ہمیشہ رقت طاری رہتی تھی ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا مالک بن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ ایک مردے کو دفن کر رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر آپ بھی ان کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے اور قبر کے اندر جھانک کر دیکھنے لگے ۔ اچانک آپ نے رونا شروع کر دیا اور اتنا روئے کہ غش کھا کر زمین پر گر پڑے ۔ لوگ مردے کو دفن کرنے کے بعد آپ کو چارپائی پر ڈال کر گھر لے آئے ۔
کچھ دیر بعد حالت سنبھلی اور آپ ہوش میں آئے تو لوگوں سے فرمایا : ’’اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پاگل سمجھیں گے اور گلی کے بچے میرے پیچھے شور مچائیں گے تو میں پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ، سر میں خاک ڈالتا اور بستی بستی گھوم کر لوگوں سے کہتا : اے لوگو ! جہنم کی آگ سے بچو ۔ اور لوگ میری یہ حالت دیکھنے کے بعداللہتعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے ۔ ‘‘ پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے شاگردوں کو یہ وصیت فرمائی کہ’’میں نے تمہیں جو کچھ سکھایا ، اس کا حق ادا کرنا ، اور جب میں مر جاؤں تو میری پیشانی پر ( بغیر روشنائی کے ) یہ لکھوا دینا : یہ مالک بن دینار ہے جو اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے ۔ ‘‘ پھر مجھے قبرستان لے جانے کے لئے چارپائی پر مت ڈالنا بلکہ میری گردن میں رسی ڈال کر ہاتھ پاؤں باندھ کر اس طرح لے جانا جیسے کسی بھاگے ہوئے غلام کو باندھ کر منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اُس کے آقا کے پاس لے جایا جاتا ہے اور قیامت کے دن جب مجھے قبر سے اٹھایا جائے تو تین چیزوں پر غور کرنا ، پہلی چیز کہ اس دن میرا چہرہ سیاہ ہوتا ہے یا سفید ، دوسری چیز کہ جب اعمال نامے تقسیم کئے جارہے ہوں تو مجھے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں میں ، تیسری چیز یہ کہ جب میں میزانِ عد ل کے پاس کھڑا کیا جاؤں تو میری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا ؟ ‘‘ یہ کہہ کر آپ زارو قطار رونے لگے اور کافی دیر آنسو بہانے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ کاش ! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا کہ مجھے
قیامت کی ہولناکیوں اور ہلاکتوں کی خبر ہی نہ ہوتی اور نہ ہی مجھے ان کا سامنا کرنا پڑتا ۔ ‘‘ پھرجب رات کا وقت ہوا تو آپ کی حالت غیر ہونے لگی ، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ : ’’مالک بن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقیامت کی ہولناکیوں اور دہشتوں سے امن پاگیا ۔ ‘‘ آپ کے ایک شاگرد نے یہ آواز سنی تو دوڑ کر آپ کے پاس پہنچا ، اس نے دیکھا کہ آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی اور آپ انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کر کے کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے ، آپ نے آخری مرتبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہکہا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔ ( )
گرمی حشر پیاس کی شدت ……… جام کوثر مجھے پلا یارب
خوف دوزخ کا آہ رحمت ہو ……… خاک طیبہ کا واسطہ یارباللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’بغداد ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینوں میں نہارہے ہوں گے ۔
(2) قیامت کے دن لوگ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے ۔
(3) قیامت کا دن کفار پر اتنا شاق ہوگا کہ وہ اس سے نجات پانے کے لیے دوزخ میں جانے کی تمنا کرینگے ۔
(4) مسلمانوں کو قیامت کے دن سورج کی گرمی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
(5) جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ ہوگا اور وہ پل صراط ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزِ محشر کی ذِلت ورُسوائی سے محفوظ فرمائے ، اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے ، ہمیں بلاحساب وکتاب بخش دے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 400