Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 400

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتّٰى يَغِيْبَ اَحَدُهُمْ فِىْ رَشْحِهِ اِلٰی اَنْصَافِ اُذُنَـيْهِ. ( )

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ان رسول الله صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال : يقوم الناس لرب العالمين حتى يغيب احدهم فى رشحه الی انصاف اذنـيه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوب جائے گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

کفار پسینے میں ، مؤمن سائے میں :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن پسینہ آنے کے بارے میں مختلف احادیث مروی ہیں ۔ بیہقی میں سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سورج لوگوں کے اتنے قریب آجائے گا کہ پسینہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔ طبرانی میں سیدناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کا دن طویل ہوگا اور کافر کو اس کے پسینے سے لگام لگائی جائے گی حتی کہ وہ کہے گا : اے رب ! مجھے اس سے نجات دے اگرچہ جہنم میں داخل کر کے ۔ ‘‘ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کامل مؤمن کو سورج نقصان نہیں پہنچائے گا یا جو شخص عرش کے سایے میں ہوگا ، اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ ‘‘ سیدنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’سورج کی گرمی کسی مؤمن اور مؤمنہ کو نہیں پہنچے گی جبکہ کفار کو سورج جلادے گا حتی کہ ان کے جلنے کی

وجہ سے عَق عَق کی آوازیں آئیں گیں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا
عبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ’’قیامت کے دن کفار کو ان کے پسینے سے لگام ڈالی جائے گی ۔ “آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا گیا : اس وقت مؤمن کہاں ہوگا؟ ارشاد فرمایا : ” سونے کی کرسی پر اور اُس پر بادل سایہ کیے ہوگا ۔ ‘‘ سیدنا ابو موسیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ’’سورج لوگوں کے سروں پر ہوگا اور ان کے اعمال اُن پر سایہ کیے ہوں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
تین سو سال کھڑے رہیں گے :جباللہ عَزَّوَجَلَّکا حکم ہوگا حساب کتاب کا وقت آئے گا تب تمام لوگ اپنی اپنی قبور سے نکل کر کھڑے ہوں گے اور تین سو 300سال تک کھڑے رہیں گے یہاں تک اپنے اپنے پسینے میں غوطہ زن ہوں گے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’رب العالمین کے حکم سے سزا و جزاء کے لیے لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے ۔ حضرت سیدنا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ’’ لوگ تین سو 300 سال تک کھڑے رہیں گے ، یہاں تک کہ اپنے پسینے میں آدھے کان تک ڈوب جائیں گے ۔ ‘‘ لوگوں کے ہجوم اور سورج کی جھلسا دینے والی گرمی کی وجہ سے اتنا پسینہ آئے گاجیسا کہ ایک روایت میں ہے : ’’جہنم اہلِ محشر کو گھیر لے گی اور جنتیوں کے لیے جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ ہوگا اور وہ پل صراط ہوگا ۔ پس لوگ اپنے اعمال کے حساب سے پسینے میں ہوں گے ، بعض کو پسینے کی لگام لگادی جائے گی کہ وہ کلام نہ کر سکیں گے بعض کے کانوں تک پسینہ ہوگا اور بعض کا اس سے کم حتی کہ بعض ٹخنوں تک پسینے میں ہوں گے ۔ ‘‘
یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ پسینہ سمندر کی طرح ہو تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے کانوں تک پسینہ ہو اور دوسرے کے ٹخنوں تک ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’
اللہتعالیٰ اس کے پیروں کو زمین سے اُوپر اٹھا دے گا اور اس کا پسینہ ٹخنوں تک ہی پہنچے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّہر شخص کا پسینہ دوسرے سے روک دے کہ ایک کا پسینہ دوسرے تک نہ پہنچے جیسے کہ اُس نے حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دریائے نیل کے پانی کو روک دیا ۔ ‘‘ ( )

¥
نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی قیامت کا دن بہت ہولناک اور دشوار گزار ہوگا ، کسی شخص میں اس دن تکالیف اور دشواریوں کو سہنے کی طاقت نہیں ، ہمارے بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنبھی قیامت کے ہولناک منظر سے ہمیشہ خوفزدہ رہا کرتے تھے ، نیز انہیں ہروقت یہی فکر لگی رہتی تھی کہ کل بروز قیامت پتا نہیں ہمیں ہمارا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا یا بائیں ہاتھ میں ۔ قیامت کے خوف سے ان پر ہمیشہ رقت طاری رہتی تھی ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا مالک بن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ ایک مردے کو دفن کر رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر آپ بھی ان کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے اور قبر کے اندر جھانک کر دیکھنے لگے ۔ اچانک آپ نے رونا شروع کر دیا اور اتنا روئے کہ غش کھا کر زمین پر گر پڑے ۔ لوگ مردے کو دفن کرنے کے بعد آپ کو چارپائی پر ڈال کر گھر لے آئے ۔
کچھ دیر بعد حالت سنبھلی اور آپ ہوش میں آئے تو لوگوں سے فرمایا : ’’اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پاگل سمجھیں گے اور گلی کے بچے میرے پیچھے شور مچائیں گے تو میں پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ، سر میں خاک ڈالتا اور بستی بستی گھوم کر لوگوں سے کہتا : اے لوگو ! جہنم کی آگ سے بچو ۔ اور لوگ میری یہ حالت دیکھنے کے بعد
اللہتعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے ۔ ‘‘ پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے شاگردوں کو یہ وصیت فرمائی کہ’’میں نے تمہیں جو کچھ سکھایا ، اس کا حق ادا کرنا ، اور جب میں مر جاؤں تو میری پیشانی پر ( بغیر روشنائی کے ) یہ لکھوا دینا : یہ مالک بن دینار ہے جو اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے ۔ ‘‘ پھر مجھے قبرستان لے جانے کے لئے چارپائی پر مت ڈالنا بلکہ میری گردن میں رسی ڈال کر ہاتھ پاؤں باندھ کر اس طرح لے جانا جیسے کسی بھاگے ہوئے غلام کو باندھ کر منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اُس کے آقا کے پاس لے جایا جاتا ہے اور قیامت کے دن جب مجھے قبر سے اٹھایا جائے تو تین چیزوں پر غور کرنا ، پہلی چیز کہ اس دن میرا چہرہ سیاہ ہوتا ہے یا سفید ، دوسری چیز کہ جب اعمال نامے تقسیم کئے جارہے ہوں تو مجھے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں میں ، تیسری چیز یہ کہ جب میں میزانِ عد ل کے پاس کھڑا کیا جاؤں تو میری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا ؟ ‘‘ یہ کہہ کر آپ زارو قطار رونے لگے اور کافی دیر آنسو بہانے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ کاش ! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا کہ مجھے

قیامت کی ہولناکیوں اور ہلاکتوں کی خبر ہی نہ ہوتی اور نہ ہی مجھے ان کا سامنا کرنا پڑتا ۔ ‘‘ پھرجب رات کا وقت ہوا تو آپ کی حالت غیر ہونے لگی ، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ : ’’مالک بن دینار
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقیامت کی ہولناکیوں اور دہشتوں سے امن پاگیا ۔ ‘‘ آپ کے ایک شاگرد نے یہ آواز سنی تو دوڑ کر آپ کے پاس پہنچا ، اس نے دیکھا کہ آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی اور آپ انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کر کے کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے ، آپ نے آخری مرتبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہکہا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔ ( )
گرمی حشر پیاس کی شدت ……… جام کوثر مجھے پلا یارب
خوف دوزخ کا آہ رحمت ہو ……… خاک طیبہ کا واسطہ یارب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’بغداد ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینوں میں نہارہے ہوں گے ۔
(2) قیامت کے دن لوگ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے ۔
(3) قیامت کا دن کفار پر اتنا شاق ہوگا کہ وہ اس سے نجات پانے کے لیے دوزخ میں جانے کی تمنا کرینگے ۔
(4) مسلمانوں کو قیامت کے دن سورج کی گرمی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
(5) جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ ہوگا اور وہ پل صراط ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزِ محشر کی ذِلت ورُسوائی سے محفوظ فرمائے ، اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے ، ہمیں بلاحساب وکتاب بخش دے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 400