Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 401

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالَ : فَغَطَّى اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وُجُوْهَهُمْ وَ لَهُمْ خَنِينٌ . ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ : بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ فَقَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَمْ اَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا فَمَا اَتَى عَلَى اَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ اَشَدُّ مِنْهُ غَطَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ. ( )

عن انس رضى الله عنه قال : خطبنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خطبة ما سمعت مثلها قط فقال : لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا قال : فغطى اصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وجوههم و لهم خنين . ( ) وفی روایۃ : بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اصحابه شيء فخطب فقال : عرضت علي الجنة والنار فلم ار كاليوم في الخير والشر ولو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا فما اتى على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم اشد منه غطوا رءوسهم ولهم خنين. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ اُس جیسا خطبہ پہلے کبھی نہیں سنا ۔ چنانچہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ہچکیوں سے رونے لگے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی طرف سے کوئی بات پہنچی تو حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” مجھ پر جنت و دوزخ پیش کی گئی تو میں نے آج کی طرح کبھی خیر و شر نہیں دیکھا ، اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “یہ سن کر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر اُس سے زیادہ سخت دن کبھی نہ آیا ۔ انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپ لیا اور ہچکیوں سے رونے لگے ۔
مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جب جنت و دوزخ حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے جہنم کے عذاب کو ملاحظہ فرمایا اور جان لیا کہ کوئی بھی اس عذاب کو برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو اسی عذابِ الٰہی سے ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ ‘‘

شرح حدیث

کم ہنستے اور زیادہ روتے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یہ ڈرانے اور خوف دلانے کا مقام ہے کہ حدیث میں فرمایا : ’’اگر تم جان لو“ یعنی گناہ گاروں کے لیےاللہ عَزَّوَجَلَّکی جو بڑی بڑی سزائیں ہیں ، اس کی سخت گرفت ، اس کی ہولناکیاں اور قیامت کے اَحوال کو جان لو جیسا کہ میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا ہی بھول جاؤ ۔سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے علم کو اپنے ساتھ خاص کیا کہ جو کچھ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے ہیں وہ آپ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ جب جہنم آپ کے سامنے پیش کی گئی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو سخت اور خوفناک مناظر دیکھے وہ کسی نے نہیں دیکھے ، اگر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت ان چیزوں کو جان لے جو کچھ آپعَلَیْہِ السَّلَامجانتے ہیں تو خوف کی وجہ سے اُن کا ہنسنا بہت ہی کم اور رونا بہت ہی زیادہ ہوجائے ۔ ‘‘ ( )
¥
جنت خیر اور جہنم شر :حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ’’جتنی خیر آج کے دن میں نے جنت میں دیکھی ہے اس سے زیادہ کبھی نہیں دیکھی اور جتنا شر آج کے دن میں نے جہنم میں دیکھا ہے اس سے زیادہ کبھی نہیں دیکھا ۔ پس اگر تم وہ سب دیکھ لیتے جو کچھ میں نے دیکھا ہے اور وہ سب جان لیتے جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم دہل جاتے اور تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہوجاتا ۔ ‘‘ ( )
¥
جو کچھ میں جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی قیامت کے خوف و دہشت ، دوزخ کے عذاب ،اللہتعالیٰ کی پکڑ ، عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو اُن کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں ، نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے ، ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے ۔ اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو

بہت زیادہ ، تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے ۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ( 1 ) ایک یہ کہ ساری مخلوق کا علم حضور (
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے علم کے سامنے ایسا ہے جیسے سمندر کے آگے قطرہ کیونکہلَوْ تَعْلَمُوْنَمیں سارے صحابہ سے خطاب ہے ۔ ( 2 ) دوسرے یہ کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قلب پاک کواللہتعالیٰ نے بڑی برداشت کی طاقت دی ہے کہ اس قدر عذاب وغیرہ کو جانتے بلکہ دیکھتے ہوئے بھی اپنے کو سنبھالے ہوئے ہیں ، لوگوں سے تعلقات بھی رکھتے ہیں ، سب سے ہنستے بولتے بھی ہیں ۔ ہم لوگ تو تارک الدنیا ہوجاتے ہیں ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : ” اگر ہم قرآن مجید پہاڑ پر اتارتے تو وہ بھیاللہکی ہیبت سے پھٹ جاتا ۔ “جس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کا دل پہاڑ سے زیادہ قوی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
کبھی نہیں ہنسے :سرکارِ دو عالَم نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامسے دریافت فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں نے کبھی میکائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟“تو انہوں نے عرض کی : ” جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ، حضرت میکائیلعَلَیْہِ السَّلَامنہیں ہنسے ۔ “ ( )
¥
صحابہ کرام کا خوفِ خدا :( 1 ) منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک پرندے سے مخاطب ہوکر فرمایا : ” اے پرندے ! کاش میں تیری طر ح ہوتا اور مجھے انسا ن نہ بنایاگیا ہوتا ۔ “ ( 2 ) حضرت سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ لیا جاتا ۔ “ ( 3 ) اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : ” میں پسند کرتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہوجاؤں ۔ “ ( 4 ) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فارو قِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑتے اور کئی دن تک آپ کی عیادت کی جاتی ۔ ایک دن آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا : ’’کاش ! میں یہ تنکا ہوتا ، کاش ! میرا ذکر نہ ہوتا ، کاش ! مجھے بھلا دیا گیا ہوتا ،

کاش ! مجھے میری ماں نہ جنتی ۔ “آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے چہرے پر خوف خدا کے سبب نکلنے والے آنسوؤں کی دوسیاہ لکیریں تھیں ۔ ( ) (5 ) حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ڈرنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا : ” ان کے دل خوف کی وجہ سے زخمی ہوتے ہیں اور آنکھیں روتی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ موت ہمارے پیچھے ہے ، قبر ہمارے سامنے ہے ، قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے ، جہنم کے اوپر ہمارا راستہ ہے اورہمیں اپنے ربِّ عظیم کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ “ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجنہیں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے ہدایت کے ستارے فرمایا اور بہت سوں کو تو خود مہتابِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی تھی لیکن پھر بھی ان کا عمل مزید بڑھتا ہی گیا ۔ خوفِ خدا میں مزید اضافہ ہی ہوا بلکہ وہ عظیم لوگ ہر آناللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے رہتے ۔ انہوں نے خوف ورجاء والا معقول راستہ اختیار کیا ، وہ نہ تو کبھیاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہوئے اور نہ اُس کے غضب سے بے خوف ہوئے ۔ مذکورہ حدیث میں بھی ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان سن کر تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپھوٹ پھوٹ کر رونے لگے یہاں تک کہ اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ۲۷۱سے خوف خدا کے سبب رونے سے متعلق کچھ اِصلاحی موادبتصرف پیش خدمت ہے :
¥
مُبلِّغ کی بھی بخشش ہوگئی :حضرتِ سیِّدُنا سُلَیم بِن مَنصُورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْرفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والِد مَنصُور بن عَمّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو بعدِوفات خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا ؟ ‘‘ تو اُنہوں نے بتایا کہ میرے ربّعَزَّ وَجَلَّنے کرم کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا : ’’اے بَدعَمَل بُڈھے ! معلوم ہے کہ میں نے تجھے کیوں بخش دیا؟ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’نہیں اے میرے معبودعَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ تومیرے رَبّعَزَّ وَجَلَّنے اِرشاد فرمایا : ’’تُو نے ایک اِجتِماع میں اپنے رِقَّت انگیز بیان سے حاضِرین کو رُلادیا تھا اور اُس بیان میں میرا ایک ایسا بندہ

بھی تھا جو کبھی بھی میرے خَوف سے نہیں رویا تھامگر تیرا بیَان سُن کر وہ بھی رونے لَگا ۔ تَو میں نے اُس بندے کی گِریہ و زاری پر رَحم فرما کر اُس کو اور تمام شُرَکَائے اِجتماع کو بخش دیا اِسی لیے تیری بھی مَغفِرت ہوگئی ۔ ‘‘ ( )
مِرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم …… تِرے خوف سے یاخدا یا الٰہی
تِرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ …… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی
¥
جو روتا ہے اُس کا کام ہوتا ہے :میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو ! اِس میں کوئی شک نہیں کہ اُن مُبَلِّغین کا دَرَجہ بَہُت ہی بُلند و بالا اور عَظَمت والا ہے جو اپنے رِقَّت انگیزسنّتوں بھرے بیان سے لوگوں کے دلوں میں رِقَّت پیدا کرتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہِ بیکس پناہ سے بچھڑے ہوئے بندوں کوا پنے پُر سوز بیان کی کشِش سے کھینچ کھینچ کر دربارِ الٰہیعَزَّ وَجَلَّمیں لاتے ہیں ۔ یقینااِخلاص کے ساتھ اچّھی اچّھی نیّتیں کر کے نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے والے سعادت مند اِسلامی بھائی دونوں جہانوں میں کامیاب ہیں ۔ اِس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خوفِ خدا سے جو روتا ہے اُس کاکام ہوتا ہے ۔ خوفِ خدا سے رونا نہایت سعادت کی بات ہے بلکہ رونے والے کی بَرَکت سے نہ رونے والوں کابھی بیڑا پار ہو جاتا ہے لہٰذا سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کرنے اورایسے اجتِماعات میں مانگی جانے والی رقّت انگیزدعا میں حاضر رہنے کی بَہُت برکتیں ہوتی ہیں نہ جانے کس رونے والے کے صدقے سب حاضِرین کی مغفِرت کے اسباب ہو جائیں ۔
تڑپنے پَھڑکنے کا دیدے سلیقہ
تِرے ڈر سے رونے کا سِکھلا طریقہ
¥
رونے کے فضائل :میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو ! خوفِ خداعَزَّ وَجَلَّاورعشق مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں رونا ایک عظیم الشّان’’نیکی ‘‘ ہے ، اِس لئے حُصولِ ثواب کی نیّت سے اِس نیکی کی ترغیب پر مبنی نیکی کی دعوت پیش

کرتے ہوئے رونے کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ۔ کاش ! کہیں ہم بھی سنجیدَگی اپنانے اورخوفِ خدا
عَزَّ وَجَلَّوعشق مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں آنسو بہانے والے بنیں ۔
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں …… ذِکرِ مَحَبَّت عام ہے لیکن سوزِ مَحَبَّت عام نہیں
¥
مکھی کے سرکے برابر آنسو :فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’جس مُؤمِن کی آنکھوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچِہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تواللہ عَزَّوَجَلَّاُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( )
قلبِ مُضطَر چشمِ تر سوزِ جگر سینہ تَپاں …… طالبِ آہ و فُغاں جانِ جہاں ! عطارؔ ہے
¥
ایک میل تک سینے کی گڑگڑاہٹ کی آواز :حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینَقل فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمخلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اِس قَدَرگِریہ و زاری فرماتے ( یعنی روتے ) کہ ایک میل کے فاصِلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ۔ ‘‘ ( )
جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے ڈر سے ……
اللہ! مگر دل سے قَساوَت نہیں جاتی
¥
جنت و جہنَّم کے درمیان گھاٹی ہے :نبی ابنِ نبی حضرتِ سَیِّدُنایحییٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایک مرتبہ کہیں کھو گئے ۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے والِدِمُحترم حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِ یّاعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتین دن تک تَلاش کرتے رہے ، آخِر کار ایک مقام پر اس حال میں نظر آئے کہ ایک کھدی ہوئی قَبْر میں کھڑے رو رہے ہیں ۔ فرمایا : ’’اے میرے لال ! میں تین دن سے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں قبر میں کھڑے آنسو بہارہے ہو؟ ‘‘ عرض کی : ’’باباجان ! کیا آپ نے مجھے نہیں

بتایا تھاکہ جنَّت اور دوزخ کے درمِیان ایک گھاٹی ہے جسے وُہی طے کر سکتاہے جو رونے والا ہو ۔ ‘‘ تو آپ
عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ’’میرے بیٹے ! رؤو ۔ ‘‘ اور یہ فرما کر خود بھی اُن کے ساتھ مل کر رونے لگے ۔ ( )
¥
مُوسلا دھار بارِش شُروع ہو گئی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوفِ خدا اورعشق مصطفے ٰ میں رونا مقدَّر والوں کا حصّہ ہے ، رونے کی سعادت پانے کے لئے رونے والوں کی صحبت نہایت مفید ہوتی ہے ۔ تبلیغ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آپ کو بکثرت رونے والے ملیں گے ۔ آپ بھی عاشقانِ رسول کی صحبت اختِیار کیجئے ان کے ساتھ مَدَنی قافِلوں کے مسافِر بنیے ، اگر رونا نہیں آتا تھاتو آپ کو بھیاِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّرونا آجائے گا ۔مدنی گلدستہ
’’حبیب اللہ ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)
آخرت کا عذاب اس قدر ہولناک ہے کہ اگر ہمیں حقیقتاً معلوم ہو جائے ہم ہنسنا ہی بھول جائیں اور خوفِ خدا میں ہروقت روتے رہیں ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب سے ہروقت پناہ مانگتے رہنا چاہیے کہ اسے سہنے کی سکت کسی میں نہیں ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونا سعادت مندوں کا حصہ ہے ۔ خوف خدا کے سبب رونا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین عظام ، اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا طریقہ ہے ۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرب تعالیٰ کا بہت زیادہ خوف رکھنے والے تھے ۔
(5) خوفِ خدا کے حصول کا ایک طریقہ
اللہکی رضا کے لیے علم دِین حاصل کرنا بھی ہے کہ جو جتنا زیادہ علم والا ہوگا اس میں اتنا ہی زیادہ خوفِ خدا بھی ہوگا ۔

(6) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مخلوق میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے زیادہ علم والے ہیں ۔
(7) ساری مخلوق کے علم کی حیثیت حضور نبی اکرم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علم کے آگے ایسی ہے جیسے سمندر کے آگے ایک قطرے کی حیثیت کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو جمیع علوم اَوّلین وآخرین عطا فرمادیے ہیں ۔(8) ∞خوفِ خدا سے رونے کی احادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، لہٰذا قبر وحشر کی ہولناکیوں ، دشوار گزار گھاٹیوں ، قیامت کی ذلت ورسوائی ، اور جہنم کے عذابات کو پڑھ کر اپنے دل میں خوفِ خدا پیداکرنا چاہیے اور خوفِ خدا کے سبب رونا چاہیے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبروحشر کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے ، ہمیں اپنا خوف عطا فرمائے ، ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 401