- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
- حدیث نمبر 411
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَلرِّجَالُ وَ النِّسَاءُ جَمِيْعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ! اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ يُّهِمَّهُمْ ذٰلِكَ. ( ) وَفِی رِوَایَۃٍ : اَلْاَمْرُ اَهَمُّ مِنْ اَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ. ( )
عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا قلت : يا رسول الله ! الرجال و النساء جميعا ينظر بعضهم الی بعض قال : يا عائشة ! الامر اشد من ان يهمهم ذلك. ( ) وفی روایۃ : الامر اهم من ان ينظر بعضهم الى بعض. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نےشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ اُٹھائے جائیں گے ۔ “میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عورتیں اور مردسب جمع ہوں گے تو بعض بعض کو دیکھیں گے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” اے عائشہ ! معاملہ اس سے سخت ہے کہ لوگ اس طرف توجہ کریں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے یوں ہے کہ’’معاملہ اس سے سخت تر ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھے ۔ “
شرح حدیث
اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ کی شان :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے دیگر مختلف اُمور کے ساتھ ساتھ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی شان بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا شمار ان امہات المؤمنین میں ہوتا ہے جنہیں بارگاہ ِرِسالت کے علمی فیضان سے وافر حصہ ملا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافقیہہ تھیں ، بلکہ بسااوقات تو اکابر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ سے مختلف مسائل کے متعلق استفسار فرمایا کرتے تھے کیونکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سب سے زیادہ قرب حاصل تھا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابسا اوقات رسولِ اکرم نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کے بعد کسی نہ کسی حکمت کے پیش نظر مختلف سوالات کرتی تھیں جن سے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کو بہت فائدے حاصل ہوتے تھے ۔ مذکورہ حدیث پاک میں بھی جب سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قیامت کا ہولناک منظر پیش کیا تو سیدہ عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فوراً بے پردگی سے متعلق سوال کیا کہ جب سب لوگ وہاں برہنہ ہوں گے تو کیا ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بے پردگی کے بارے میں سوال کرنا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طہارت ، پاکیزگی اور شریعت کی مضبوط پاسداری پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جو شخص شریعت کی پاسداری نہیں کرتا وہ پھر کسی معاملے میں اس پر غوروفکر بھی نہیں کرتا اور جو پاسداری کرتا ہے وہ ہر ہر معاملے میں غور وفکر کرتا ہے کہ شریعت اس معاملے میں کیا کہتی ہے ؟ اُمُّ المؤمنین حضرت
سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَادنیا میں پردہ داری ، عفت وپاک دامنی اور شریعت کی ایسی پاسدار تھیں کہ فوراً آپ کے ذہن میں اُخروی پردہ داری کا بھی خیال آگیا ۔سُبْحٰنَ اللہجو پاک دامنہ آخرت میں بھی پردہ داری کی مدنی سوچ رکھتی ہو وہ دنیا میں کیسی پردہ دار ، پاکیزہ ، طیبہ اور طاہرہ ہو گی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ، اِنہیں بھی پردہ داری کی مدنی سوچ عطا فرمائے ۔ آمین
¥ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا کہ بروزِ قیامت مرد اور عورتیں ایک ساتھ جمع ہوں گے تو پھر تو ایک دوسرے کے ستر کو دیکھیں گے ؟ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب ارشاد فرمایا : ’’اے عائشہ ! قیامت کا معاملہ اس سے زیادہ دشوار ہے کوئی شخص اپنے علاوہ کسی اور کی طرف جان بوجھ کر یا بھولے سے دیکھ سکے ۔ ‘‘ ( یعنی اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے ہر کسی کو بس اپنی فکر لاحق ہوگی کسی اور کی طرف دیکھنے کا خیال بھی نہ آئے گا ) جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)(پ۳۰ ،عبس: ۳۷ )ترجمۂ کنزالایمان: ان میں سے ہر ایک کو اُس دن ایک فکر ہے کہ وہی اُسے بس ہے ۔ ( )
¥انبیاء و اولیاء کا حشر عام لوگوں کی طرح نہ ہوگا :مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب کا حشر ننگے پاؤں اور برہنہ اور غیر مختون ہوگا تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور اولیائے عظام کاحشر بھی اسی طرح ہوگایہ حضرات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہ حالت عام لوگوں کی ہوگی حضرات انبیاء و خاص اولیاء کی یہ حالت نہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ، نیز
جنات جانوروں کے جمع ہونے کی اور نوعیت ہوگی وہ بھیالناسسے خارج ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥اُم المؤمنین سیدہ عائشہ کے سوال کی وجہ :مذکورہ حدیث پاک میں ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جو سوال کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ جو اَزواج مطہرات اور امت کی دیگر پاکباز بیبیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں زبردست پردہ کیا کہ کبھی کسی غیر مرد کی نگاہ اُن پر نہ پڑی تو وہ محشر میں بے پردہ یا بلکہ بالکل برہنہ ہوجائیں یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ربّ تعالیٰ پاکباز نیک بیبیوں کی بے پردگی کیوں فرمائے گا؟وہ مَردوں کے سامنے صرف بے پردہ ہی نہیں بلکہ برہنہ ہوں ، بڑا پیارا سوال ہے ۔ خیال رہے کہ اَزواج مطہرات اور سیدتنا فاطمۃ الزہراءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّباپردہ اٹھیں گی جیساکہ عرض کیا گیا کہ وہ خاصاولیاء اللہمیں داخل ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥ایک دوسرے پر نظر نہ پڑنے کی وجہ :یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت میں لوگوں کا ہجوم ہوگاتو پھر جب سب لوگ برہنہ ہونگے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرے پر نظر نہ پڑے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بروز قیامت لوگوں پر ایسا خوف اور ہیبت طاری ہوگی کہ کسی کو اپنے سوا کچھ دکھائی ہی نہ دے گا ۔ بس ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی کہ کسی طرح میں بخشا جاؤں ، میری اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے اور میں یہاں سے نجات پاجاؤں ۔ بسا اوقات دنیا میں بھی انسان بہت زیادہ ٹینشن میں ہو تو اسے اپنے سامنے کی چیز دکھائی نہیں دیتی ۔ اسی طرح قیامت میں کوئی کسی اور کی طرف نہیں دیکھے گا ۔ چنانچہ ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’یعنی اس دن جلال و ہیبت حجاب بن جاوے گی کوئی کسی کو نہ دیکھے گا ، سب کی نظر آسمان پر ہوگی ، قدم زمین پر ، آج بھی بڑی آفت میں سامنے والا آدمی پاس کی چیز نظر نہیں آتی ۔ ‘‘ ( )
¥کیا اب بھی ربّ تعالیٰ کی نافرمانی کرو گے ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بظاہر اس حدیث پاک میں فقط اس بات کا بیان ہے کہ کل بروز قیامت لوگوں کی جسمانی حالت کیا ہوگی لیکن حقیت میں یہ حدیث مبارکہ ہمیں جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے اور ہمیں یہ نصیحت فرمارہی ہے کہ دنیا میں بے باکی سے زندگی گزارنے والو ۔ ۔ ۔ ! گناہوں پر جری ہونے والو ۔ ۔ ۔ !حقوقُ اللہکو ضائع کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! نمازوں میں سستی کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! نمازیں قضا کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! جماعت کو ترک کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! فرضیت کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! استطاعت کے باوجود حج ادا نہ کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! لوگوں کی حق تلفیاں کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! ناجائز طریقے سے دوسروں کے مال ہڑپ کرجانے والو ۔ ۔ ۔ ! جھوٹ بولنے والو ۔ ۔ ۔ ! غیبت کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! بدگمانیاں کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! چغلی کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! بہتان لگانے والو ۔ ۔ ۔ ! چوری اور ڈاکہ زنی کرنے والو ۔ ۔ ۔ ! شراب پینے والو ۔ ۔ ۔ ! زنا کرنے والو ۔ ۔ ۔ !
قیامت کے اُس ہولناک منظر کو یاد کرو ، جب تمہیں برہنہ پا ، برہنہ بدن رب تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا پڑے گا اور اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا ، اس دن کی وحشت اور ہولناکی پر غور کرو جس دن حمل والی کا حمل گرجائے گا ، لوگ ندامت وشرمندگی کے سبب پسینوں میں ڈبکیاں لگا رہے ہوں گے ، وہ کیسا وحشت ناک دن ہوگا کہ جس دن دنیا کی شفیق ماں بھی اپنے بیٹے سے جان چھڑا کر بھاگے گی ، باپ جو دنیا میں ہمارے ناز نخرے اٹھاتا تھا اسے بھی اپنی ہی پڑی ہوگی ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بڑے بڑے مقرب بندے بھی اس دن ربّ تعالیٰ کے قہر وجلال سے کانپ رہے ہوں ۔ جس دن سب پر اپنا انجام آشکار ہوجائے گا ، جس دن ہر کوئی ربّ تعالی کے عدل نہیں بلکہ فضل کا طالب ہوگا ، دو ہی صورتیں ہوں گی ، جنت میں داخلہ یا جہنم میں داخلہ !
کیا اب بھی رب تعالیٰ کو ناراض کرو گے ؟ کیا اب بھی گناہوں میں مصروف رہو گے ؟ کیا اب بھی نیکیوں پر کمربستہ نہیں ہو گے ؟ خوف خدا سے کانپ جاؤ ، لرز اٹھو ، اپنے تمام سابقہ گناہوں پر ندامت اختیار کرلو ، اپنے اعلانیہ ، پوشیدہ ، صغیرہ ، کبیرہ ، تمام گناہوں سے توبہ کرلو ، آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلو ، نیکیوں میں زندگی بسر کرنا اپنا مقصد بنالو ، رب تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں مصروف ہو جاؤ ۔
بے وفا دنیا پہ مت کر اعتبار ……… تو اچانک موت کا ہوگا شکار
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ ……… جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی ……… قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے ……… کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہےمدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)قیامت کا دن نہایت ہی ذلت ورسوائی والا دن ہوگا الّا یہ کہ جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحفوظ فرمائے ۔
(2) قیامت کے دن لوگوں کا حشر اِس حال میں ہوگا کہ وہ ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ ہونگے ۔
(3) انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماس حکم سے مستثنیٰ ہیں اِن سب کا حشر عام لوگوں کی طرح نہ ہوگا ۔
(4) کل قیامت میں ازواجِ مطہرات اور حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبا پردہ اٹھیں گی ۔
(5) قیامت کی ہولناکی اور ہیبت سے سب لوگ ایسے بد حواس ہوں گے کہ برہنہ ہونے کے باوجود کسی کی دوسرے پر نظر ہی نہ پڑے گی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں اور دشوار گزار گھاٹیوں سے محفوظ فرمائے ، ہمارا حشر انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ساتھ فرمائے ، کل بروز قیامت سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے ، ہماری بلاحساب مغفرت فرمائے اور جنت میں پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 411