Main Icon

باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1240

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَ يرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّهُ اَحَدٌ اَوْ قاتَلَهُ فَلْيَقُلْ:اِنِّي صَائمٌ.

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذا كان يوم صوم احدكم فلا يرفث ولا يصخب فان سابه احد او قاتله فليقل:اني صائم.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کسی کا روز ہ ہوتو نہ وہ بیہودہ باتیں کرے، نہ ہی شور و غل کرے،تواگراسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“

شرح حدیث

روزہ داراِعراض کرے:علامہ ابنِ کمال پاشاحنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اگر کوئی شخص روزہ دارکو گالی دے کر یا لڑائی جھگڑا کر کے اسے بھی لڑائی یا گالی گلوچ میں ملوث کرنا چاہےتو روزہ دار اُس سے اِعراض کرتے ہوئے کہہ دے کہ’’میں روزے سے ہوں، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا میرے لئے جائز نہیں ۔‘‘بعض نے کہاکہ وہ دل میں یہ کہے کہ ’’میں روزے سے ہوں میرے لئے غیض وغضب ،بری باتیں اورگالی گلوچ جائز نہیں۔‘‘ ایک قول یہ ہےکہ فرض روزے میں زبان سےکہے اور نفل میں دل سے کہے کیونکہ یہ ریا کاری سے دور ہے۔ خیال رہے کہ فحش گوئی، جہالت ،اورلڑائی جھگڑاہر حالت میں ممنوع ہے مگر روزے کی حالت میں بالخصوص اِن برائیوں سے بچنا چاہیے کہ روزہ دارکو ان سے بچنے کی خاص تاکید ہے ۔روزہ دار نہ بیہودہ باتیں کرے نہ شور و غل:مرآۃ المناجیح میں ہے :”شریعت میں روزہ پیٹ اور دماغ کا ہوتا ہے مگر طریقت میں سارے اعضا کا کہ انہیں گناہوں سے بچایا جائے اس جملہ میں اسی روزہ کی تعلیم ہے۔(جب کوئی روزہ دار سے جھگڑے تو روزہ دار کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں )لہٰذا میں تجھ سے لڑنے کو تیار نہیں،اس پراِنْ شآءاﷲوہ خود ہی شرمندہ ہوجائے گا ،یا یہ مطلب ہے کہ میں روزہ دار ہوں ﷲکی ضمان میں ہوں مجھ سے لڑنا گویا ربّ کا مقابلہ کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی چھپتی عبادت کا اظہار جائز ہے بشرطیکہ فخر و رِیا کے لیے نہ ہو۔“ تفہیم البخاری میں ہے:”حدیث کابیان یہ ہےکہ اگر کوئی شخص روزے دار سےجھگڑا یا گالی گلوچ کرے تو وہ مُقاتِل اور شاتِم (جھگڑا کرنے والے اورگالی گلوچ کرنے والے ) کو سنا کریہ کہے کہ میں تجھے کیا کہہ سکتا ہوں میں تو روزے دار ہوں وہ سن کر غالبا ً رُک جائےگا۔ یا اِس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ دِلی خیالات کی طرف متوجہ ہوجائے تاکہ اس سے جھگڑا نہ کرے اورنہ ہی اس کو گالی گلوچ کاجواب دے سکے، ویسے بھی تو فضول جھگڑا اور سبّ وشَتم ( گالی گلوچ)ممنوع ہیں مگر روزہ کی حالت میں سخت ممنوع ہیں۔سبّ و شتم کرنا اورغیبت وچغلی وغیرہ کرنا اگرچہ حرام ہیں مگر ان سے روزہ اِفطار نہیں ہوتا البتہ اس کا ثواب کم ہوجاتا ہے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1240