Main Icon

باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1004

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَااَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا اَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْاٰنِ يَجْهَرُ بِهِ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: مااذن الله لشيء ما اذن لنبي حسن الصوت يتغنى بالقران يجهر به.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکسی چیز کو اس قدر توجہ سے نہیں سنتا جس قدر وہ اپنے اچھی آواز والے نبی کو سنتا ہے کہ وہ خوش الحانی کے ساتھ بآوازِ بلند قرآن پڑھتا ہے۔“

شرح حدیث

حدیث پاک میں نبی سے مراد؟اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اَذِنَ اﷲ“ کا معنیٰ ہے کہاﷲ عَزَّوَجَلَّسنتا ہے اور یہ سننااﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضامندی اور قبولیت کی طرف اشارہ ہے۔“
مذکورہ حدیثِ پاک میں قرآنِ پاک کو اچھی آواز اور خوبصورت انداز میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے ”کیونکہ خوش اِلحانی(اچھی آواز)قرآنِ کریم کی زینت ہے جس سے قرآن کا حُسن اور بھی بڑھ جاتا ہے“حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ”
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکسی چیز کو اس قدر توجہ سے نہیں سنتا جس قدر وہ اپنے اچھی آواز والے نبی کو سنتا ہے۔“ ظاہر یہ ہے کہ یہاں نبی کریم سے مراد تمام انبیائے کرام ہیں اور قرآن سے مراد تمام آسمانی کتابیں اورصحیفے ہیں اورممکن ہے کہ نبی سے مراد حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمہوں اور قرآن سے مراد یہ ہی قرآن شریف ہو۔“
حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّتوجہ سے سنتا ہے۔حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاِس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” کسی کی بات کو بغورسننا، کان لگانا،اﷲتعالیٰ اِس سے مُنَزَّہ (پاک)ہے، یہ بھی متشابہات میں سے ہے، اس کے اصل معنیٰاﷲاور اس کے رسول جانیں۔ (اس کی) تاویل میں یہ کہا جاتا ہے کہ مراد خصوصی رحمت کا نزول ہے اور قاری کا اِکرام اور اسے زیادہ سے زیادہ ثواب دینا مراد ہے۔“انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامخوش آواز ہوتے ہیں:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکسی چیز کو سننے اور توجہ فرمانے پر اتنا راضی نہیں ہوتا یعنی اسے پسند نہیں کرتا جتنا کہ وہ کسی پیغمبر کے قرآن پڑھنے پر توجہ فرماتا ہے اور سنتا ہے کیونکہ پیغمبر نہایت خوش آوازی اور عمدگی سے اس کی تلاوت کرتا ہے۔“
مزید فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں
اﷲتعالیٰ نے نبی کی تلاوت کو خوش آوازی سے پڑھنے کا پابند کردیا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہاﷲتعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر وہ انتہائی خوبصورت اور بہت خوش آواز ہوتا تھا۔ خلاصہ یہ ہوا کہاﷲکا نبیاﷲکی وحی جب بھی پڑھتا ہے نہایت خوش آوازی اور خوش اِلحانی سے پڑھتا ہے۔“
علامہ کلاباذی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْہَادِیفرماتے ہیں:خوش اِلحانی سے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ قراءت کے وقت اُن پراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی خشیت اور دِل میں رِقَّت ہوتی تھی۔ خوش اِلحانی سے پڑھنے کا یہ معنیٰ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ آواز کی خوبصورتی کے لیے وجد کے ساتھ تلاوت کرتے تھے کیونکہ خوش اِلحانی وجد کی علامات میں سے ہے اور جمہور علماءِ کرام نے اِس طرح تلاوت کرنے کو اس صورت میں جائز قرار دیا ہے کہ جب تلاوت کرنے والا کسی حرف کی کمی یا زیادتی نہ کرے ورنہ اس طرح تلاوت کرنا ممنوع ہے۔“مدنی گلدستہ’’تلاوت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکسی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں فرماتا جتنا کہ وہ کسی پیغمبر کے قرآن پڑھنے پر توجہ فرماتا ہے کیونکہ پیغمبر نہایت خوش آوازی اور عمدگی سے اُس کی تلاوت کرتا ہے۔
(2) قرآنِ پاک کی تلاوت خوش اِلحانی کے ساتھ کرنی چاہیے کیونکہ خوش اِلحانی قرآنِ کریم کی زینت ہے اور اس سے قرآنِ پاک کا حُسن اور بھی بڑھ جاتاہے۔
(3)
اﷲ تعالیٰکی ذات کسی کی بات کو بغور سننے اور کان لگا کر سننے سے مُنَزَّہ ہے، مذکورہ حدیثِ پاک میں کان لگا کر توجہ سے سننے کامعنیٰ یہ ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے قبولیت عطا فرماتا ہے اوربڑا ثواب عطا فرماتا ہے۔
(4)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا نبی جب اس کی وحی پڑھتا ہے تو نہایت خوش آوازی اور خوش اِلحانی سے پڑھتا ہے۔
(5) جمہور علماءِ کرام نے وجدانی کیفیت میں خوش اِلحانی کے ساتھ تلاوت کرنے کو اِس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ تلاوت کرنے والا کسی حرف کی کمی یا زیادتی نہ کرے ورنہ جائز نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں خوش اِلحانی کے ساتھ تلاوت قرآنِ پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1004